30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرے جو تیرے پاس ہے۔[1]یہ تَوَکُّل ہے۔ پھر اِرشَاد فرمایا:اور یہ کہ تو مصیبت پر حاصِل ہونے والے اَجَر و ثواب پر زیادہ خوش ہو اور چاہے کہ کاش! یہ تجھ پر باقی رہتی۔[2] یہ مَقامِ رَضا ہے۔
زُہْد پر مَعْرِفَت و مَحبَّت کے مَقام بھی آتے ہیں اور یوں جو مَقام چار۴ مَقامات کا جامِع ہو کیا اس سے بھی اعلیٰ کوئی مَقام ہو سکتا ہے، یہی مَقام طَالِبِینِ حَق کی اِنتِہا ہے۔ میری زِنْدَگی کی قسم! ایسا ہی ہے۔ اس لیے کہ حضرت سَیِّدُنا ابنِ عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی ہے کہ بروزِ قِیامَت دنیا کو ایک سفید بالوں والی بوڑھی عورت کی شَکْل میں لایا جائے گاجس کی آنکھیں نیلی ہوں گی، دَانْت باہَر کو نکلے ہوں گے، وہ اِنْتِہائی بَدْصُورَت ہو گی، جب وہ لوگوں کے سامنے آئے گی تو کہا جائے گا:کیا تم اسے پہچانتے ہو؟سب عَرْض کریں گے: ہم اس کی پہچان سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتے ہیں۔ اس پر کہا جائے گا: یہ وُہی دنیا ہے جس پر تم بَاہَم فَخْر کرتے تھے، قَطْع رِحْـمی کرتے ، ایک دوسرے سے حَسَد کرتے، بُغْض رکھتے اور دھوکا دیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اسے جہنّم میں پھینک دیا جائے گا تو وہ پکارے گی: اے میرے رب! میری پَیروی کرنے والے اور میری جَمَاعَت کے لوگ کہاں ہیں؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرمائے گا:اس کی پَیروی کرنے والوں اور اس کی جَمَاعَت کے لوگوں کو بھی اس کے ساتھ ہی جہنّم میں ڈال دو۔ [3]
دنیا دار عبادت گزاروں کا انجام
حضرت سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت کی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:بَروزِ قِیامَت کئی قومیں اس حال میں لائی جائیں گی جن کے اَعمال تِہامہ پہاڑ کی مِثل ہوں گے مگر انہیں جہنّم میں ڈالنے کا حکْم دیا جائے گا۔صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا وہ نَمازی ہوں گے؟ اِرشَاد فرمایا: ہاں! وہ نَماز پڑھتے ، روزہ رکھتے اور رات کے بس تھوڑے سے حصّے ہی میں آرام کرتے ہوں گے۔ مگر جب ان پر دنیا کی کوئی چیز پیش کی جاتی ہو گی تو وہ اس پر جھپٹ پڑتے ہوں گے۔ [4]
حضرت سَیِّدُنا حارِث بن اَسَد مُحاسبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: زُہْد سے مُراد یہ ہے کہ دِل میں دنیا کی قَدْر و قیمت خَتْم ہو جائے اور دل میں کسی بھی دُنْیَاوِی شے کی کوئی اَہَمِیَّت باقی نہ رہے۔ جب اَشیا کی قَدْر و قیمت خَتْم ہو جائے گی اور دِل میں ان کی مَوجُودَگی و غیر مَوجُودَگی یَکْسَاں ہو گی تو یہ زُہْد ہے۔
حضرت سَیِّدُنا با یزید بُسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرمایا کرتے تھے کہ زاہِد وہ نہیں جو کسی شے کا مالِک نہ ہو بلکہ زاہِد وہ ہے جس کی مالِک کوئی شے نہ ہو۔
اسی طرح کسی عالِم کا قول ہے: زاہِد وہ ہے جو اشیا کا مالِک بنے نہ ان سے راحَت پائے۔ مَزید اِرشَاد فرماتے ہیں کہ زاہِد وہ ہے جس کی خوراک وُہی ہو جو اسے مُیَسَّر ہو، لِباس اِتنا ہو جس سے وہ سَتْر چھپا لے، گھر اِتنا ہو جس میں اسے پناہ مِل جائے اور اس کا حال ہی اس کا وَقْت ہو۔
کسی عارِف کا قول ہے کہ زُہْد سے مُراد تدبیر و اِخْتِیار کا تَرْککردینا اور تنگی ہو یا کُشَادَگی ہر حال میں تسلیم و رَضا کا مُظاہرہ کرنا ہے۔ یہ طریق حضرت سَیِّدُنا خوَّاص ، حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری اور حضرت سَیِّدُنا ذُو النُّون مِصری رَحِمَہُمُ اللہ ُ تعالٰی کا ہے۔
ایک مرتبہ حضرت سَیِّدُنا با یزید بسطامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی نے اِرشَاد فرمایا: زاہِد صِرف وُہی ہے جو کسی شے کا مالِک ہو نہ کوئی شے اس کی مالِک ہو۔مزید اِرشَاد فرمایا: زُہْد کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ کسی چیز پر قُدْرَت رکھنے کے باوُجُود اس سے بے رغبتی کا مُظاہَرہ کرے اور جو قُدْرَت ہی نہ رکھے اس کا زُہْد دُرُسْت نہیں۔ مُراد یہ ہے کہ بندے کو کلمۂ کُن کا مرتبہ حاصِل ہو اور اسے اِسْمِ اَعْظَم سے بھی آگاہ کردیا گیا ہو،نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اِظْہَارِ کَون کے سَبَب اشیا پر قُدْرَت عَطا فرما دے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا کے باعِث اس مُعَامَلے میں زُہْد اِخْتِیار کرے اور اس کی مَحبَّت میں سب کچھ چھوڑ دے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اِظْہَارِ قُدْرَت کے 24 مَقامات سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ طَلَب کیا کرتے تھے۔
کیا دنیا زہد اختیار کرنے کے لائق ہے؟
حضرت سَیِّدُنا عبد الرحیم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالکَرِیم نے حضرت سَیِّدُنا ابو موسیٰ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا: کس شے کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا: زُہْد کے بارے میں۔ پھر پوچھا:کس شے کے مُتعلِّق بات ہو رہی تھی؟ بولے: دنیا کے بارے میں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنے ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے اِرشَاد فرمایا: میں سمجھا تھا کہ کسی شے میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کے مُتعلِّق باتیں کر رہے ہیں، جبکہ دنیا تو کوئی شے ہی نہیں کہ جس میں زُہْد اِخْتِیار کیا جائے۔
مَعْرِفَت کے 17 مقامات میں سے کم تر مقام
یہی مَذہَب حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کا بھی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مَعْرِفَت کے 17 مَقامات ہیں، ان میں سب سے کم تَر پانی پر چلنا، ہَوا میں اُڑنا اور زمین کے خزانے ظاہِر کرنا ہے۔ یہ سب باتیں دنیا کی ظاہِری زِیْنَت ہیں۔
چار۴ ابدال اور چار۴نیتیں
اسی مَفہوم میں حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی سے ایک حِکَایَت مَنْقُول ہے کہ چار۴ اَبْدَال شَبِ عِید (بغداد شریف کی)جامِع مَسْجِد اَلْـمَنْصُور میں جَمْع ہوئے۔ جب سَحَرِی کا وَقْت ہوا تو ایک فرمانے لگے: میں نَمازِ عِید بَیْتُ الْمَقَدَّس میں پڑھنا چاہ رہا ہوں۔ دوسرے نے فرمایا: میرا اِرادہ طَرْسُوس میں نَمازِ عِید پڑھنے کا ہے۔ تیسرے نے بتایا کہ میں مکّہ مکرمہ
[1]………ترمذى ، كتاب الزهد ، باب ما جاء فی الزهادة فی الدنيا ، ۴/ ۱۵۲ ، حديث: ۲۳۴۷
[2]………ترمذى ، كتاب الزهد ، باب ما جاء فی الزهادة فی الدنيا ، ۴/ ۱۵۲ ، حديث: ۲۳۴۷ ، بتغیرقلیل
[3]………موسوعة ابن ابی الدنيا ، كتاب ذم الدنيا ، ۵/ ۷۲ ، حدیث: ۱۲۳
[4]………معجم لابن الاعرابی ، باب الدال ، الجزء الثالث ، ص۸۹۳ ، حدیث: ۱۸۶۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع