30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…اگر باہَر نکلے تو دیکھے اس کا باہَر نکلنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کے لیے ہے تو ٹھیک ،ورنہ گھر لوٹ جائے۔
٭…اگر اس کا گھر واپَس لَوٹنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کے لیے ہو تو ٹھیک ،ورنہ سَفَر کرے۔
٭…مال خَرْچ کرے تو دیکھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کے لیے ہے تو ٹھیک، ورنہ خَرْچ نہ کرے۔
٭…اگر مال خَرْچ نہ کرنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا ہو تو ٹھیک، ورنہ پھینک دے۔
٭…بات کرے تو دیکھے کہ اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا ہے تو ٹھیک، ورنہ چُپ رہے۔
٭…اگر اس کے چُپ رہنے میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا ہو تو ٹھیک، ورنہ باتیں کرے۔
عَرْض کی گئی:یہ تو بَہُت مُشکِل کام ہے۔ اِرشَاد فرمایا:یہ بارگاہِ خداوندی تک پہنچانے والا راستہ ہے، (اگر عَمَل کرو گے توپہنچو گے) ورنہ اسے کھیل مَت بناؤ۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ اس کا حال ہے جو اِخلاص کا پیکر اور صَاحِبِ مُرَاقَبہ ہو، اس کا مَقام وَرَع ہو۔ گویا حضرت سَیِّدُنا اَیُّوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کے نزدیک زُہْد سے مُراد بندے کا اپنے عِلْم کی اِنتِہا اور وسیع کوشِش کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کی مُوَافِقَت حاصِل کرنا اور اپنی ہر حَرَکَت و سُکُون میں اس کی مَحبَّت کا دَم بھرنا ہے۔یہ نفسانی خواہش میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کا مَقام ہے اور اس زاہِد کی صِفَت ہے جس نے اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکی رَضا چاہنے کے لیے اپنے نَفْس سے منہ موڑ لیا ہو۔ گویا آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے نزدیک زُہْد مُرَاقَبہ کا نام ہے اور مُرَاقَبہ حقیقت میں اِخْلَاص کا نام ہے۔
سَیِّدُنا حاتم اَصم کے نزدیک زہد
حضرت سَیِّدُنا شقیق بلخی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے شاگرد حضرت سَیِّدُنا حاتِم اَصم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَکرَم سے زُہْد کے مُتَعَلِّق پوچھا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا:زُہْد کی اِبْتِدَا بھروسے و یقین سے ہوتی ہے، وَسْط صَبْر پر ہوتا ہے اور اِنتِہا اِخْلَاص پر ہوتی ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)جب بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک زُہْد کی اِنتِہا اِخْلَاص ہے تو یہ کیسے دُرُسْت ہو سکتا ہے کہ ایک بندہ زُہْد کی اِبْتِدَا سے قبل اِنتِہا تک پہنچ جائے؟ یا وہ اِخْلَاص سے تَجاوُز کر کے مَقاماتِ مَعْرِفَت تک رَسائی حاصِل کر لے؟ گویا ان کے نزدیک زُہْد کی اِنتِہا مَعْرِفَت کی اِبْتِدَا ہے۔
ایک طبقے کا خیال ہے کہ دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنا مومنین پر فَرْض ہے، اس لیے کہ ان کے نزدیک اِخْلَاص کی حقیقت ہی زُہْد کا اپنانا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے فَرْض قرار دیا اس اِعْتِبَارسے کہ مومنین پر اِخْلَاص فَرْض ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت میں اِخْلَاص اپنانے کا حکْم دیا گیا ہے اور یہ سنّت سے بھی ثابِت ہے۔ حضرت سَیِّدُنا عبد الرحیم بن یحییٰ اَسْوَد رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اسی قول کی طرف مائل ہیں۔
اسی مَفہوم میں حضرت سَیِّدُنا امام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل سے مَرْوِی ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا: صِدْق کیا ہے؟ اِرشَاد فرمایا: اِخْلَاص۔ پھر پوچھا گیا: اِخْلَاص کیا ہے؟ اِرشَاد فرمایا: زُہْد ۔پھر سوال ہوا کہ اے ابو عبداللہ!زُہْد کیا ہے؟تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے سَر جھکا دیا اور اِرشَاد فرمایا: زاہِدین سے پوچھو، حضرت سَیِّدُنا بِشْر بن حارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ سے اس کے مُتعلّق پوچھو۔
ایک قوم کا کہنا ہے کہ دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے سے مُراد حَلال طَلَب کرنا ہے اور ہمارے زمانے میں اشیا کے اِختلاط اور شُبْہات کے غَلَبہ کی وجہ سے یہ فَرْض ہو چکا ہے۔لوگوں نے عَرْض کی: گویا زُہْد کا فَرْض ہونا مُتَعَیِّن ہو چکا ہے۔ یہ مَذہَب حضرت سَیِّدُنا اِبراہیم بن اَدْہَم، حضرت سَیِّدُنا وُھَیب بن وَرْد اور حضرت سَیِّدُنا سلیمان خوَّاص رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے عِلاوہ اہلِ شام کے صُوْفِیائے کِرام کی ایک جَمَاعَت کا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:لوگوں میں سب سے زیادہ دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے والا وہ شخص ہے جس کا کھانا سب سے زیادہ صَاف ہے۔ ایک مرتبہ اِرشَاد فرمایا: وَرَع کا اِنْتِہائی مَقام زُہْد کا اَدنیٰ مَقام ہے۔
حضرت سَیِّدُنا یُوسُف بِن اَسباط رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اور حضرت سَیِّدُنا وَکِیع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْرَّفیْع فرماتے ہیں: اگر ہمارے زمانے میں کوئی شخص زُہْد اِخْتِیار کرے یہاں تک حضرت سَیِّدُنا ابو دردا اور حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا جیسا ہو جائے تب بھی ہم اسے زاہِد نہ کہیں گے کیونکہ ہمارے نزدیک زُہْد اب حَلالِ مَحْض میں مُعْتَبِر ہے اور آج کل تو حَلالِ مَحْض کو ہم پہچانتےہی نہیں۔
اسی طرح اِمامُ الاَئِمّہ حضرت سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: تَرْکِ دنیا سے اَفضل کوئی شے نہیں۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا فُضَیل بن ثَور رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ سے عَرْض کی: اے ابو سعید! دو۲ آدمی ہیں، ان میں سے ایک حَلال دنیا طَلَب کرتا ہے اور اسے پاکر صِلہ رِحمی کرتا ہے اور اپنی ذات پر بھی خرچ کرتا ہے جبکہ دوسرا شخص تارِکُ الدُّنیا ہے (ان میں سے بہتر کون ہے؟)۔اِرشَاد فرمایا:مجھے ان دونوں میں تَرْکِ دنیا کرنے والا زیادہ پسند ہے۔فرماتے ہیں کہ میں نے عَرْض کی:اے ابو سعید! اس شخص نے حَلال رِزْق تلاش کیا اور اسے پاکر صِرف اپنی ہی ذات پر خَرْچ نہیں کیا بلکہ صِلہ رِحمی بھی کی ہے۔ اِرشَاد فرمایا: اس کے باوُجُود مجھے تَرْکِ دنیا کرنے والا ہی پسند ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)حضرت سَیِّدُنا اِمام حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے تَرْکِ دنیا کو پسند فرمایا، کیونکہ مَقامِ زُہْد تَوَکُّل اور رَضا کا جامِع ہے۔ کیا آپ نے دو۲ جَہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں سنا:زُہْد یہ ہے کہ جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ہے اس پر تو اس سے زیادہ بھروسا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع