30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) … رِزْق کی طَلَب(2) …حدیث کی طَلَب اور (3) … نِکاح۔
ایک بار آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا:میں صُوفی کے لیے اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ وہ لکھنے پڑھنے میں مشغول نہ ہو تاکہ اسے یکسوئی حاصِل رہے۔
(1 ۔۔۔۔) ایک رِوایَت میں ہے: زُہْد یہ ہے کہ جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ہے اس پر تیرا اِعْتِماد اس سے زیادہ ہو جو تیرے پاس ہے۔[1] یہ تَوَکُّل کا مَقام ہے۔
(2 ۔۔۔۔) ایک جَمَاعَت کی رائے ہے کہ زُہْد تَرْکِ جَمْع کا نام ہے، یعنی ان کے نزدیک دنیا جَمْع کرنے کا نام ہے۔
(3 ۔۔۔۔) کسی کا قول ہے کہ دنیا وہ ہے جو دِل میں گھر کر لے اور دل کو اس طرح اپنے اِہتِمام میں لگا دے کہ اس کا تعلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مُنْقَطِع ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین دُنْیَاوِی مَشَاغِل تَرْککرنے اور نَفْس کو اَحْکامِ خداوندی کے تَصَرُّف میں کر دینے کو زُہْد قرار دیتے کہ یہ مَقامِ تفویض و رَضا ہے۔
(4 ۔۔۔۔) حضرت سَیِّدُنا اِمام اَحمد بن ابوالحَوارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں:میں نے حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی سے عَرْض کی کہ حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دِینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار نے حضرت سَیِّدُنا مُغِیرہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے فرمایا:آپ گھر کے اندر جاکروہ برتن لے لیں جو آپ نے مجھے تحفے میں دیا تھا کیونکہ شیطان مجھےیہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ اُسے چور لے گیا ہے۔یہ سن کرحضرت سَیِّدُنا ابوسلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی نے فرمایا:یہ صُوفِیا کے دِلوں کی کمزوری ہے،اگر انہوں نے دنیا سے بے رغبتی اِخْتِیار کر لی تھی تو پھر برتن کے چوری ہونے میں ان کا کوئی نقصان نہیں تھا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی کا مَقْصُود یہ تھا کہ اَحْکام جارِی ہونے کی وجہ سے بندہ حقیقتِ رَضا کے مَقام پر فائز ہو اور حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار کا مَقْصُود زُہْد کی حقیقت پانا تھا، وہ اس طرح کہ وہ اپنے قَلْب کو اس برتن کے اِہتِمام سے ہی فارِغ کر دیں۔
(5 ۔۔۔۔) ایک عالِم فرماتے ہیں: اپنی رائے اور عَقْل کے مُطابِق عَمَل کرنا دنیا ہے جبکہ عِلْم اور سنّت کی پَیروی کرنا زُہْد ہے۔یہ طریقہ مُحَدِّثِیْن کا ہے اور یہ قول بَظَاہِر عُلَمائے ظاہِر کے قول کے مُشَابِہ ہے۔
(6 ۔۔۔۔) حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے مَرْوِی ہے کہ لوگوں نے حضرت سَیِّدُنا اِمام زُہْرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عَرْض کی: زُہْد کیا ہے؟ اِرشَاد فرمایا: حَرام بندے کے صَبْر پر غالِب آئے نہ حَلال اسے شُکْرسے روکے۔ مُراد یہ ہے کہ بندہ حَرام سے اس قَدْر دُور رہے کہ اس کی خواہش اس پر غالِب نہ آئے اور حَلال پر شُکْرادا کرتا رہے اور حَلال کے مُعَامَلے میں اس قَدْر مشغول نہ ہو کہ شُکْرسے غافِل ہو جائے۔
(7 ۔۔۔۔) حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: زاہِد وہ ہے جو کسی کو دیکھے تو کہے کہ یہ مجھ سے اَفضل ہے۔اس قول میں اس بات کی طرف اِشَارَہ ہے کہ عاجِزی کا نام زُہْد ہے۔
(8 ۔۔۔۔) حضرت سیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: زُہْد قَناعَت کا نام ہے۔
(9 ۔۔۔۔) حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: وَرَع زُہْد کی اِبْتِدَا ہے۔
(10 ۔۔۔۔)حضرت سَیِّدُنا اِمام اَحمد بن ابوالحَوارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا ابو ہِشام مَغَازِلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالوَالِی سے عَرْض کی: زُہْد کیا شے ہے؟ انہوں نے اِرشَاد فرمایا:اُمِّیدوں کو خَتْم کرنا، اپنی محنت کی کمائی دوسروں کو دے دینا اور راحَت و آرام کو تَرْککر دینا۔
(11 ۔۔۔۔)حضرت سَیِّدُنا یُوسُف بن اَسباط رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جو شخص تکلیفوں پر صَبْر کرے،شہوات کو تَرْککردے اور حَلال غِذا کھائے بے شک اس نے زُہْد کی حقیقت کو پالیا۔
(12 ۔۔۔۔)حضرت سَیِّدُنا احمد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَحَد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا ابو صَفْوَان رُعَینی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی سے عَرْض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جس دنیا کی قرآنِ کریم میں مَذمَّت بیان فرمائی ہے اس سے مُراد کیا ہے؟ کیا عَقْل مند کے لیے اس سے بچنا بہتر ہے؟ تو انہوں نے اِرشَاد فرمایا:ہر وہ کام جو تو دنیا میں دنیا کی خاطِر کرے وہ مَذمُوم ہے اور ہر وہ کام جس سے آخِرَت مُراد ہو وہ دنیا نہیں۔ میں نے یہ بات حضرت سَیِّدُنا مَروان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان کو بتائی تو انہوں نے اِرشَاد فرمایا: حضرت سَیِّدُنا ابو صَفْوَان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان نے سمجھداری کی بات کی ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ایسا آپ نے اس لیے فرمایاتھا کہ اِخلاص کے علاوہ باقی ہر شے دنیا ہے۔ جو عِلْم کے مُوَافِق ہو وہ مُباح اور جو مُخالِف ہو وہ نفسانی خواہش ہے اور نفسانی خواہش نَفْس کا حصّہ جبکہ اِخلاص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حصّہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مُخْلِص بندے اس کے دشمنوں پر حُجّت ہیں اور یہی لوگ اَہْلِ آخِرَت ہیں۔
$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع