30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص سے پوچھا:تمہاری قوم کا سردار کون ہے؟عرض کی:میں ہی ہوں۔اِرشَادفرمایا:اگر تو واقعی ایسا ہوتا تو کبھی بھی ایسے نہ کہتا۔ [1]
ایک بار حضرت سَیِّدُنا محمد بن کعب عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَہَّاب نے کسی کو مکتوب لکھا اور صرف اپنا نسب بیان کرتے ہوئے قرظی ہونا لکھا۔ عرض کی گئی: اَنصاری ہونا بھی لکھ دیجئے۔فرمایا:مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر ایسی شے کی وجہ سے اِحسان جتاؤں جو میں نے نہیں کی۔
کسی کے اچھا و برا ہونے کی علامت
حضرت سَیِّدُنا سُفْیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ جب تم سے کہا جائے کہ تم کتنے بُرے ہو!یہ سن کر تمہیں غصّہ آ جائے تو واقعی تم بہت بُرے ہو۔
کسی بزرگ کا فرمان ہے: تم اس وَقْت تک خَیر و بھلائی پر رہو گے جب تک یہ خَیال نہ کرو گے کہ تم خیر وبھلائی پر ہو۔
کسی عالِم سے عَرْض کی گئی:نِفاق کی عَلامَت کیا ہے؟ تو انہوں نے اِرشَاد فرمایا:جب کسی شخص کے ایسے اَوصاف بیان کیے جائیں جو اس میں نہ ہوں اور اس سے اس کا دِل راحَت مَحْسُوس کرے تو ایسا شخص مُنَافِق ہے۔
حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ یہ پسند کرتا ہے کہ تمام لوگ اسے پسند کریں اور یہ ناپسند کرے کہ کوئی اس کا بُرائی سے تذکرہ کرے تو جان لو کہ وہ مُنَافِق ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے منافقین کے اَوصاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْؕ-(پ ۵، النسآء:۹۱(
ترجمۂ کنز الایمان:اب کچھ اور تم ایسے پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی اَمان میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی اَمان میں رہیں ۔
بہتر یہ ہے کہ جو اہل سنّت سے تعلّق رکھتا ہو وہ بدمذہبوں سے ڈرے۔ خود پسندی ایک مَذمُوم صِفَت ہے جو (اکثر)قاریوں میں پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے قاریوں کی مَذمّت بیان کی ہے۔ ان حضرات میں یہ مَذمُوم صِفَت اس طرح داخِل ہوتی ہے جس طرح کہ رات دن میں داخِل ہو جاتی ہے۔
سرکارِ دو۲عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جب مومن کی تعریف کی جائے تو اس کے دل میں اِیمان بڑھتا ہے۔[2]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہو سکتا ہے کہ کوئی جاہِل اور مَغْرُور شخص اس حدیثِ پاک کی غَلَط تاویل کر لے اور ایسا مَفہوم نکالے جو اس حدیثِ پاک کا مَقْصُود نہ ہو۔ لہٰذا جان لیجئے کہ سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہاں اِیمان کے بڑھنے کے مُتَعَلّق اِرشَاد فرمایا ہے اور مومِن کے بڑھنے کے بارے میں اِرشَاد نہیں فرمایا، پس اِیمان کا بڑھنا تو یہ ہے کہ اس میں زِیادَتی ہو اور اس کی زِیادَتی یہ ہے کہ مکر و فریب اور اِسْتِدْرَاج سے ڈرا جائے۔ اس میں عارِفین کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے۔ وہ اس طرح کہ جب اعلیٰ اِیمان بلند پایہ مومِن کی جانِب بڑھتا ہے تو وہ اپنے رب کا یہ اِنعام پاکر فَرْحَت مَحْسُوس کرتا ہے اور اسے اپنے خالِق و مالِک عَزَّ وَجَلَّکا کرم سمجھتا ہے کہ جس نے اسے یہ دولت عطا فرمائی۔ اس طرح ایک بلند پایہ مومِن کی سوچ کا رُخ شے دیکھ کر اس کے بنانے والے کی طرف ہو جاتا ہے اور جب وہ مخلوق میں غوروفکر کرتا ہے تو اس کے خالِق کے ہونے کی گواہی دینے لگتا ہے۔
حقیقت میں یہ تعریف خالِق و مالِک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہی ہوتی ہے۔اس طرح وہ مومِن اپنے نَفْس کی طرف دیکھتا ہے نہ اس کے اَوصاف سے خوش ہوتا ہے۔ مگر اَفسوس!یہ اَوصافِ حَمیدہ ایسی راہیں ہیں جو قصۂ پارینہ (ماضی کا قصّہ) بن چکی ہیں اور سُلوک کے یہ تمام راستے بھی خَتْم ہو رہے ہیں۔ مگر آج بھی بعض ایسے لوگ ضَرور موجود ہیں جو ان کی یاد دِلاتے ہیں اور یہ وہی ہیں جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کرم سایہ فگن ہے۔
عِلْمِ ایمان و یقین کی تمام عُلُوم پر فضیلت
بعض اَوقات مُنَافِق، بدمذہب یا مُشْرِک ہر قسم کا عِلْم نہ صِرف سیکھ لیتے ہیں بلکہ اس عِلم کے پھیلانے کا سَبَب بھی بنتے ہیں۔ بشرطیکہ وہ اس عِلْم میں رَغْبَت رکھتے ہوں اور حریص بھی ہوں کیونکہ عِلْم،عَقل و ذِہْن کے لیے ثمر(نتیجہ و پھل)کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر یاد رکھئے! عِلْمِ ایمان و یقین دِماغی قوّت سے حاصِل نہیں ہوتا بلکہ اس کے مُشاہدے کا ظُہور اور اس کی حقیقت تک رَسائی صِرف اسی شخص کو ہوتی ہے جو صاحِبِ اِیمان و یقین ہو۔ گزَشْتَہ صفحات میں ایمان کی زِیادَتی اور عِلْم و یقین کی حقیقت کے مُتَعَلّق تفصیل بیان ہو چکی ہے۔
معرفت کی دولت کسی فاسق کو نہیں ملتی
جان لیجئے !عِلْمِ اِیمان و یقین اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِشانی ہے اور اس نے وعدہ فرما رکھا ہے کہ جسے اس عِلْم کی دولت عَطا فرمائے گا اسے اپنی قُدْرَت و عَظَمَت کے مُکاشَفہ کی نِعْمَت سے بھی سرفراز فرمائے گا۔ لہٰذا جو شے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِشانی ہو وہ نہ کسی فاسِق کو حاصِل ہو سکتی ہے اور نہ اس کا وعدہ کسی ظالِم کو مل سکتا ہے، اسی طرح اس کی عَظَمَت و قُدْرَت کے مُشاہَدہ کی دولت کسی سرکش کو مل سکتی ہے نہ کسی باطِل پرست کو۔ کیونکہ اس صُورَت میں آیاتِ الٰہیہ کی توہین،بَراہین و قُدْرَتِ اِلٰہیہ میں نَقْص،مخلصین اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خاص بندوں کے لیے حُجّت کی حیثیت رکھنے والے یقین میں شک پایا جائے گا جس سے حَق و باطِل مُشْتَبِہ ہو جائیں گے، حالانکہ حق ان صِدِّیقین کا وَصْف ہے جو خدا کے محبوب اور حَق کی دلیل ہیں اور یہی بات سب سے بڑی حُجّت ہے کہ عِلْمِ مَعْرِفَت یعنی عِلْمِ اِیمان و یقین باقی تمام عُلُوم سے اَفضل ہے۔
یہ مفہوم درج ذیل فرامینِ باری تعالیٰ سے خوب واضِح ہو رہا ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع