30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک بُزرگ فرماتے کہ ہمارے اکثر عُلوم اور وِجْدانی کیفیات کا تَعَلُّق ان اُمُور سے ہوتا جو ہم ایک دوسرے سے ملاقات کے بعد باہمی تبادلۂ خَیال سے حاصِل کرتے، مگر (افسوس!)آج ان اُمُور کو کوئی نہیں جانتا،انہیں یکسر فَرامَوش کر دیا گیاہے۔ آج کل لوگ ایک دوسرے سے مل کر حال چال معلوم کرتے ہیں تو ان کی مُراد اُمُورِ دنیا اور اسبابِ حِرْص و ہَوا کے مُتَعَلّق پوچھنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد ہر شخص اپنے پروردگار جلیل کی شِکایَت اسی کے بندۂ پُر تقصیر سے کرتا ہے، اس کے اَحْکام سے ناراضی کا اِظْہَار کرتا ہے، اس کے فیصلے سے بَراءَت ظاہِر کرتا ہے اور یوں وہ اپنے نَفْس کے ساتھ ساتھ اپنی بداَعمالیاں تک بھول جاتا ہے۔ چنانچہ ایسے ہی شخص کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُؕ-(پ ۱۵، الکھف:۵۷)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اس سے بڑھ کر ظالِم کون جسے اس کے رب کی آیتیں یاد دلائی جائیں تو وہ ان سے منھ پھیرلے اور اس کے ہاتھ جو آگے بھیج چکے اسے بھول جائے۔
اور دوسری جگہ اِرشَاد فرمایا:
اِنَّ الْاِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُوْدٌۚ(۶) (پ ۳۰، العٰدیٰت:۶( ترجمۂ کنز الایمان:بے شک آدمی اپنے رب کا بڑا ناشکر ہے۔
(صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) اس آیتِ مُبارَکہ كی تفسیر میں منقول ہے کہ انسان اپنے ربّ کی نعمت کا شکر ادا نہیں کرتا، مَصائِب تو شُمار کرتا ہے مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں بھول جاتا ہے۔ ایسا اس کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے غافِل اور جاہِل ہونے کے سَبَب ہے۔
آج کل لوگوں کا ایک دوسرے سے ملاقات کے وَقْت یہ پوچھنا بھی بِدعَت ہے: کَـیْـفَ اَصْبَحْتَ وَكَـيْـفَ اَمْسَيْتَ؟یعنی آپ نے صُبْح کیسے کی؟ اور آپ کی شام کیسی رہی؟[1] کیونکہ بُزرْگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جب ایک دوسرے سے مِلتے تو (سب سے پہلے)اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْـمَةُ الله کہتے تھے۔
جو سلام نہ کرے اس سے بات نہ کرو
سرکارِ دو۲عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:جو سلام سے پہلے باتیں کرنا شروع کر دے اسے جواب مَت دو۔[2]
اس بِدعَت کا آغاز طاعُون کے زمانے میں ہوا۔ جب شام کے علاقے عَموَاس میں طاعُون پھیلا جس میں کثیر لوگ مَوت کا شِکار ہو گئے تو اس وَقْت ایک شخص صُبْح کے وَقْت اپنے کسی دوست سے ملتا تو پوچھتا : صُبْح کیسےہوئی؟اور جب شام کو ملتا تو پوچھتا کہ شام کیسے ہوئی؟ کیونکہ اس زمانے میں ایک شخص صُبْح کو ہوتا تو شام کو نہ ہوتا اور شام کو زندہ ہوتا مگر صُبْح نہ ہوتا۔ پس آج بھی یہ جُملے ایک دوسرے سے پوچھے جاتے ہیں مگر ان کا سَبَب بھُلا دیا گیا ہے۔ ان جُملوں کے آغاز کے مُتَعَلّق جاننے والے مُتَقَدِّمِین ان سے کلام کے آغاز کو مکروہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا احمد بن ابی حَوَاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْبَارِی فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت سَیِّدُنا ابو بکر بن عَیَّاش رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے جب یہ پوچھا کہ آپ نے صُبْح یا شام کیسے کی؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے کوئی جواب نہ دیا،بلکہ اِرشَاد فرمایا:ہمیں اس بِدْعَت سے دور ہی رہنے دو۔ حضرت سَیِّدُنا احمد بن ابی حَوَاری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْبَارِی فرماتے ہیں کہ میں نے بھی ایک شیخ سے جب پوچھا کہ آپ کی صُبْح کیسے ہوئی؟ تو انہوں نے پہلے تو کوئی توجّہ نہ دی، پھر اِرشَاد فرمایا:صُبْح کیسے ہوئی؟‘‘یہ کیسا جُملہ ہے؟ (جب بھی کسی سے ملو تو سب سے پہلے)اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہا کرو۔
حضرت سَیِّدُنا حَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان باہم ملتے تو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہتے ،بخدا اُس وَقْت دِل سَلامَت تھے، مگر (افسوس!) آج یہ کہا جاتا ہے:تمہاری صُبْح کیسے ہوئی؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں تَندُرُسْت رکھے اور تمہاری شام کیسی رہی؟اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں عافیت عَطا فرمائے۔اگر ہم بھی لوگوں کی اِن باتوں پر عَمَل کرنے لگیں تو یہ (پختہ)بدعَت ہو گی،خبردار! اس کے بجا لانے میں کوئی عزت (یعنی ثواب)نہیں۔ خواہ (ہماری مخالفت کی بنا پر)ایسا کرنے والے ہم پر ناراض ہی ہوں۔
لوگوں میں ایک بِدْعَت یہ بھی پیدا ہو گئی ہے کہ جب کسی کو خط لکھتے ہیں تو پہلے اس شخص کا نام لکھتے ہیں جس کی جانِب خط لکھا جاتاہے۔ حالانکہ سنّت یہ ہے کہ پہلے اپنا نام لکھا جائے یعنی یہ لکھا جائے کہ یہ خط فلاں کی طرف سے فلاں کی جانِب ہے۔[3] چنانچہ حضرت سَیِّدُنا ابنِ سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِین فرماتے ہیں کہ ایک بار میں کچھ عرصہ گھر سے دُور رہا تو اپنے والدِ محترم کو خط لکھا جس کے آغاز میں میں نے ان کا نام لکھ دیا تو انہوں نے کچھ یوں جواب اِرْسَال فرمایا:جب بھی مجھے خط لکھو تو پہلے اپنا نام لکھاکرو، اگر آئندہ تم نے اپنے نام سے پہلے میرا نام لکھا تو میں تمہارا خط پڑھوں گا نہ جواب دوں گا۔
[1]………موجودہ زمانے میں بھی یہ بِدْعَت بَہُت زیادہ عام ہے۔کیونکہ آج کل کَـیْـفَ اَصْبَحْتَ؟(یعنی صبح کیسے کی؟)اور كَـيْـفَ اَمْسَيْتَ؟(یعنی آپ کی شام کیسی رہی؟)کے بجائے جب لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو مغربی تہذیب کی پیروی میں سب سے پہلے سلام کرنے کے بجائے Good Morning اور Good Afternoon وغیرہ کہتےہیں جو دُرُست نہیں ۔
[2]………عمل الیوم والليلة لابن السنی ، باب من بدأ بالکلام قبل السلام ، ص۱۰۹ ، حدیث: ۲۱۴
[3]………دورِ حاضِر میں بھی اس بِدْعَت کا عام مُشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ آج کل ہمارے مُعَاشَرے میں نوجوان نسل کو بچپن ہی
سے نصابی کتب میں سنّت کے برعکس خطوط لکھنے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّہمارے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِین نے ہر دور میں سنّتوں کے اِحْیا اور بدعتوں کے قلع قمع کے لیے کوششیں جاری رکھیں ۔ دورِ حاضر میں یادگارِ اَسلاف پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت ، شیخِ طریقت ، امِیرِ اہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ہر قول و فعل سنّتوں کے تابع ہے۔ چنانچہ خطوط نویسی میں آپ کے سنّت کے مطابق لکھے گئے بے شُمار مکتوبات میں سے چند ایک کی ہلکی سی جھلک مکتبہ المدینہ سے شائع ہونی والی مختلف کُتُب و رسائل میں مُلاحَظہ کی جا سکتی ہے۔مثلاً آپ کی حیاتِ مُبارکہ کے روشن اَوراق پر مشتمل رسالے حقوقُ العباد کی احتیاطیں میں آپ کے چند مکتوبات دیکھے جا سکتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع