30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭…غافِلین نے انہیں عِلْم بنا لیا ہے ۔ ٭…بے کار لوگ انہیں اپنی مَصروفیت کا بہانہ سمجھتے ہیں۔
٭…لوگوں نے ان عُلُوم کو دنیا کے حُصُول کا ذریعہ بنا لیا ہے۔
٭…وہ دنیا داروں کو ان عُلُوم کی مُعَاوَنَت سے اپنے گِرد اِکَٹّھا کر لیتے ہیں۔
٭…انہوں نے ان عُلُوم کو شہوات کے حُصُول کی سیڑھی بنا لیا ہے۔
٭…ایسے لوگوں کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تعلّق مُنْقَطِع ہو چکا ہے۔
٭…وہ مُشاہَدۂ آخِرَت سے حِجاب میں ہیں۔٭…انہیں حقیقت تک رَسائی سے روک دیا گیا ہے۔
٭…ان کا رُخ خالِق سے موڑ کر مَخلوق کی طرف کر دیا گیا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم ان عُلُوم کے جاننے والوں کی کَثْرَت کی وجہ سے ان کے مُتَعَلِّق مزید کچھ ذِکْر نہ کریں گے مگر یہ سوال ضَرور کریں گے:
٭۔۔۔۔کیا یہ حقیقی عِلْم ہیں یا مَحْض باتیں؟ ٭۔۔۔۔کیا یہ حَق ہیں یا اس کی تشبیہ؟
٭۔۔۔۔صِدْق و حِکْمَت پر مَبْنِی ہیں یا خُوبْصُورَت اور دِل فریب باتوں کا مجموعہ؟
٭۔۔۔۔سنّت ہیں یا بِدْعَت؟ ٭۔۔۔۔قدیم ہیں یا نئی و فُضُول باتیں؟
اگر ہمیں اپنے سوالات کا جواب مِل گیا تو ہم ان عُلُوم کے صحیح ہونے کے مُتعلِّق ضَرور کلام کریں گے۔
دَرْج ذیل صُورَتیں بھی اَفضل زُہْد ہیں:
٭…لوگوں پر حکمرانی میں زُہْد اِخْتِیار کرنا۔
٭…لوگوں کے ہاں جاہ و مرتبے میں زُہْد اِخْتِیار کرنا۔
٭…لوگوں کی مَدْح و تعریف میں زُہْد اِخْتِیار کرنا۔
ان اُمُور میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کے اَفضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام اُمُور عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے نزدیک دنیا کے حُصُول کے بَہُت بڑے دروازے ہیں۔ لہٰذا ان میں زُہْد کا اِخْتِیار کرنا صِرف عُلَمائے کِرام ہی کا کام ہے۔
حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:حکمرانی اور مخلوق کی تعریف میں زُہْد اِخْتِیار کرنا دِرْہَم و دینار میں زُہْد اِخْتِیار کرنے سے زیادہ سَخْت ہے۔ اس لیے کہ دِرْہَم و دینار تو بَسا اَوقات ان اُمُور کے حُصُول میں خَرْچ کئے جاتے ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ یہ ایک مَـخْفِی دروازہ ہے جسے صِرف ماہِر عُلَمائے کِرام ہی دیکھ سکتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُنا فُضَیل بن عِیاض رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: پہاڑوں کی چَٹانیں ایک جگہ سے دوسری جگہ مُنْـتَقِل کرنا جاہِل شخص کے دِل میں سَمائی حکمرانی کو خَتْم کرنے سے زیادہ آسان ہے۔
حضرت سَیِّدُنا اُوَیس قَرَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی فرماتے ہیں: زُہْد یہ ہے کہ جو شے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذِمَّۂ کَرَم پر ہے اسے تلاش کرنا چھوڑ دیا جائے۔
حضرت سَیِّدُنا ہَرِم بِن حِبّان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں کہ میں دریائے فُرات کے کنارے پر حضرت سَیِّدُنا اُوَیس قَرَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی سے ملا ، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس وَقْت پانی سے روٹی اور کپڑے کا ایک ٹکڑا صَاف کر رہے تھے جو انہیں کہیں سے ملے تھے، یہی آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا کھانا اور لِباس تھا۔ میں نے ان سے زُہْد کے مُتَعَلّق عَرْض کی کہ یہ کیا شے ہے؟ تو مجھ سے پوچھنے لگے: کس شے کی تلاش میں گھر سے نکلے ہو؟ میں نے عَرْض کی:طَلَبِ مَعاش کے سلسلے میں۔ فرمانے لگے: جب زاہِد رِزْق کی تلاش میں نکلتا ہے تواس سے زُہْد رُخْصَت ہوجاتا ہے۔
حضرت سیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل فرماتے ہیں:زُہْد توحضرت سیِّدُنا اُوَیس قَرَنی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَنِی کا تھا کہ (بَسااَوقات)لِباس نہ ہونے کے سَبَب آپ کھجوروں کے بڑے تھیلے میں بیٹھے رہتے تھے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں:عورتوں کے مُعَامَلے میں زُہْد یہ ہے کہ معمولی خاندان کی یا یتیم عورت کو خُوبْصُورَت اور خاندانی عورت پر ترجیح دی جائے۔حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار کا بھی یہی قول ہے۔
حضرت سَیِّدُنا سَہْل بن عبداللہ تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:عورتوں کے مُعَامَلے میں زُہْد اِخْتِیار کرنا دُرُسْت نہیں کیونکہ عورتیں تمام زاہِدوں کے سردار یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحْبُوب بنائی گئی ہیں۔
اس رائے میں حضرت سَیِّدُنا سُفیان بن عُیَینہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی رائے بھی حضرت سَیِّدُنا سَہْل رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی رائے کے مُوَافِق ہے۔آپ فرماتے ہیں:صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سب سے زیادہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم زُہْد کے پیکر تھے مگر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بھی چار۴ اَزْوَاج اور 10سے زائد لونڈیاں تھیں۔
حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:میں اِبْتِدائی مَرْحَلے میں مُرید کے لیے یہ پسند کرتا ہوں کہ وہ اپنے دِل کو تین۳ چیزوں میں مشغول نہ کرے ورنہ اس کا حال بَدَل جائے گا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع