30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے تو دنیا کو تَرْککردیا تھا پھر اب کیا ہوا؟ پوچھا:ہاں! حقیقت تو یہی ہے (مگر تو نے کیا دیکھا ہے؟)بولا:آپ کا پَتّھر کو سر کے نیچے رکھ کر تَکْیَہ بنانے کا کیا مَطْلَب ہے؟یہ سن کر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے وہ پَتّھر پھینک دیا اور فرمایا:میں نے اس پَتّھر کو اور اس جیسی دیگر تمام چیزوں کو بھی ان تمام چیزوں کے ساتھ ہی چھوڑا جو میں نے تمہارے لیے پہلے ہی چھوڑ رکھی ہیں۔
اُونی جُبّہ اتار کر بالوں کا جُبّہ پہن لیا
حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن زَکَرِیّا عَلَیْہِمَا السَّلَام کے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام بالوں سے بناہوا جُبّہ زیبِ تَن فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ جِسْمِ مُبارَک پر نِشانات پڑگئے تو والِدہ ماجِدہ نے اِرشَاد فرمایا کہ اس بالوں سے بنے ہوئے جُبّہ کو اُتار کر اس کی جگہ اُونی جُبّہ پہن لیں۔ چنانچہ آپعَلَیْہِ السَّلَامنے پہنا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے وَحِی فرمائی:اے یحییٰ!تم نے دنیا کو مجھ پر ترجیح دے دی؟اس پرآپ رونے لگے،اُونی جُبّہ اُتارا اور پھر سے بالوں سے بنا ہوا جُبّہ زیْبِ تَن فرمالیا۔
حضرت سیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:میں نے70 کے قریب صَالِـحِین کو دیکھا کہ جن کے پاس صِرف ایک ہی کپڑا تھا ،ان میں سے کبھی کوئی زمین پر کپڑا نہیں بچھاتا تھا بلکہ جب سونے کا اِرادہ ہوتا تویہ حَضْرات زمین پر لیٹ کر کپڑا اَوڑھ لیتےتھے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یاد رکھئے! میں نے تمام نعمتوں کو تین۳ نعمتوں میں پایا اور سب نعمتوں کا کَمال زُہْد میں ہے۔
٭۔۔۔۔البتہ! تمام نعمتوں کی اَصْل اِسلام ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر (بارگاہِ خداوندی تک رَسائی کے لیے) لوگوں نے کثیر مَقامات پر حقیقتِ توحید میں ٹھوکریں کھائی ہیں۔
٭۔۔۔۔اس کے بعد دوسری نِعْمَت سنّت ہے ، اس لیے کہ اس کے بغیر باقی سب کچھ بِدْعَت ہے اور بعض لوگوں نے سنّت کی حقیقت پانے میں غَلَطی کی ہے۔
٭۔۔۔۔تیسری نِعْمَت عِلْمِ باری تعالیٰ ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قُدْرَت و عَظَمَت کی مَعْرِفَت کا حُصُول جَہالَت ہے۔
اس کے بعد دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کی باری آتی ہے، لہٰذا جسے ان تینوں نعمتوں کے حُصُول کے بعد زُہْد کی نِعْمَت بھی مِل جائے اس پر نعمتیں تمام ہو جاتی ہیں اور اس کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگتا ہے جن پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اِنْعَام ہوا یعنی نَبِیِّیْن، صِدِّیْقِین، شُہَدا اور صَالِـحِین میں اس کا شُمار ہوتا ہے۔اس لیے کہ اس کے عِلاوہ شُبْہات میں بَہُت زیادہ حِرْص اور شہوات میں بَہُت زیادہ رَغْبَت پائی جاتی ہے۔
حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمانِ عالی شان کی وجہ سے زُہْد کو سنّت کی پَیروی کے لیے شَرْط قرار دیتے:
قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کودوست رکھتے ہو تومیرے فرمانبردارہوجاؤ۔
اِرشَاد فرماتے ہیں کہ سنّت یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُکَمَّل پَیروی کی جائے۔کیونکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زاہِد (یعنی دنیا سے بے رَغْبَت)تھے ۔
زاہِدین کے دَرَجات میں تفاوُت اس شے کی وجہ سے ہوتا ہے جس میں وہ زُہْد اپناتے ہیں ، نیز ان کے مَقامات میں فَرْق ان کے مُشاہَدات کی رِفْعَت کی بنا پر ہوتا ہے۔
٭…بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِجلال و اِکرام کی وجہ سے زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں۔
٭…بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا کرتے ہوئے زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں۔
٭…بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کے سَبَب زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں۔
٭…بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وَعدے پر اُمِّید رکھتے ہوئے زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں۔
٭…بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکام کی بجا آوری میں جَلْدی کرتے ہوئے زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں۔
٭…بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت میں زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت میں زُہْد اِخْتِیار کرنا زُہْد کا اعلیٰ دَرَجَہ ہے۔ جبکہ بَروزِ قِیامَت طویل مدّت تک حِساب کِتاب کے لیے کھڑے ہونے کے ڈر سے زُہْد اِخْتِیار کرنا زُہْد کا ادنیٰ درجہ ہے۔جیسا کہ مَنْقُول ہے کہ جس کے پاس دو۲ دِرْہَم ہوں گے اس کا حِساب بَروزِ قِیامَت ایک دِرْہَم والے کے حِساب سے سَخْت ہو گا۔اس لیے بھی کہ جو شخص دنیا میں کسی چیز کے جوڑے کا مالِک ہو وہ مُتَّقِیْن کے راستے پر نہیں چلتا۔ نیز دنیا میں جس کو بھی کچھ دیا گیا تو یہ بھی فرمایا گیا کہ اسے لے لو مگر اس کے تین۳ حصّے کر لو یعنی ایک تِہائی حصّہ فِکْر، ایک تِہائی مَشْغُولِیَّت اور ایک تِہائی حِساب۔ چنانچہ بَروزِ قِیامَت ایک مال دار شخص کو حِساب کے لیے اتنی دیر کھڑا کیا جائے گاکہ 100 پیاسے اُونْٹ اس کے پسینے سے سیراب ہو جائیں، حالانکہ وہ جنّت میں اپنا ٹھکانا دیکھ رہا ہو گا ۔چنانچہ جب اَہْلِ وَرَع و تقویٰ کے دِلوں میں حِساب کِتاب کا یہ مُعامَلہ اس قَدْر راسِخ ہو گیا تو وہ طُولِ حِساب سے ڈر گئے اور انہوں نے جَمْع و مَنْع میں زُہْد اِخْتِیار کر لیا، نیز تَخْفِیفِ سوال اور قِیامَت کی ہولناکیوں سے جَلْد نجات حاصِل کرنے کے لیے فُضُول اُمِّیدوں کو بھی چھوڑ دیا۔
زُہْد کی عَلامَت یہ ہے کہ فَقْر اور فُقَرا سے مَحبَّت کی جائے، مَساکین کے ٹھکانوں پر ان کی ہم نشینی اِخْتِیار کی جائے اور ان کے لیے عاجِزی و اِنکساری کا مُظَاہَرہ کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مَساکین کی مَجالس میں اَنہی جیسا لِباس پہن کر بیٹھتے اور اپنے رب کے قُرْب کی اُمِّید رکھتے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع