30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:وہ تو شیطان ہی ہے کہ اپنے دوستوں سے دھمکاتا ہے تو ان سے نہ ڈرو اور مجھ سے ڈرو۔
اس طرح وہ شیطان کے ڈراوے میں آکر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرنے لگتے ہیں اور یوں ان کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگتا ہے جن کے مُتَعَلّق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰى حَرْفٍۚ- فَاِنْ اَصَابَهٗ خَیْرُ ﰳاطْمَاَنَّ بِهٖۚ- وَ اِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُ ﰳانْقَلَبَ عَلٰى وَجْهِهٖ۫ۚ -خَسِرَ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةَؕ- ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ(۱۱)(پ ۱۷، الحج:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور کچھ آدمی اللہ کی بَنْدَگی ایک کنارہ پر کرتے ہیں پھر اگر انہیں کوئی بھلائی بن گئی جب تو چَین سے ہیں اور جب کوئی جانچ آپڑی منہ کے بَل پَلَٹ گئے دنیا اور آخِرَت دونوں کا گھاٹا یہی ہے صریح نُقْصَان۔
اگر یہ لوگ اَہْلِ زُہْد کی فضیلت کے حَامِل نہ بھی ہوں تو کم از کم اس مُتَوسِّط راہ کو ہی اپنا لیں جس سے لوگ بھاگتے ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر بھروسا کر کے اور اس کی رَضا پر راضی ہو کر اس خوف سے بے نیاز ہو جائیں جس سے دنیادار لوگ ڈرتے ہیں تو یہی ان کے لیے کافی ہے۔
دنیا کی مَاہِیَّت، اس میں زُہْد کی کَیْفِیَّت
اور زَاہِدوں کے مَقامَات میں فَرق کا بیان
دنیاوی حصّہ چھوڑنے کی وجہ سے زہد کی مختلف صورتیں
ہر بندے کا دنیا میں نفسانی خواہشات اور قلبی شہوات وغیرہ میں سے کچھ حصّہ ضَرور ہوتا ہے ۔لہٰذا بندے کی دنیا میں اپنے حصّہ چھوڑنے کے اِعْتِبَار سے زُہْد کی مختلف صُورَتیں ہیں:
٭…جو بندہ اپنے حصّے میں زُہْد اِخْتِیار کرے اور اپنی مَذمُوم نفسانی خواہشات پر قابو پا لے تو اس قَدْر زُہْد کا اپنانا اس پر فَرْض ہے۔
٭…جو شخص مُبَاحَات میں زُہْد کا مُظاہَرہ کرے یعنی ضَرورت سے زائد چیزوں کو تَرْککر دے تو یہ اَفضل زُہْد ہے کہ اس کا تعلّق ان اَعضائے ظاہِرہ کی لذّتوں سے ہے جو دنیا کے دروازے اور راستے ہیں۔
٭… جو دُنْیَاوِی اشیا بندے پر حَرام ہیں ان میں تمام مسلمان زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں کہ اس سے ان کے اِسلام میں حُسْن پیدا ہوتا ہے۔
٭… شُبْہات میں اَہْلِ وَرَع و تقویٰ زُہْد اِخْتِیار کرتے ہیں کہ اس سے ان کے اِیمان کامِل ہوتے ہیں۔
٭…ضَروریاتِ نَفْس سے زائد حَلال اَشیا میں زُہْد کا مُظاہَرہ کرنا اَہْلِ زُہْد کا ہی کام ہےکہ اس سے ان کے یقین میں نِکھار پیدا ہوتا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا زُبَیر بن عوَّام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ دو ۲جہاں کے تاجْوَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے اِرشَاد فرمایا:اے زُبَیر!شہوات و شُبْہات کے مَوْقَع پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَرام کردہ اشیا سے سچّے وَرَع و تقویٰ کے ذریعے اپنے نَفْس کے ساتھ مُجاہَدہ کرو گے تو بِلا حِساب جنّت میں جاؤ گے۔ [1]
حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی زُہْد کے فضائل اور اعلیٰ مَقامات بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرماتے ہیں: کسی بھی بندے کا زُہْد اس وَقْت ہی کامِل ہوتا ہے جب وہ تین۳ چیزوں میں زُہْد اِخْتِیار کر لے:
(1 ۔۔۔۔) اس دِرْہَم میں جسے وہ نیکیوں میں خَرْچ کر کے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قُرْب حاصِل کرنا چاہتا ہے۔
(2 ۔۔۔۔) اس لِباس میں جسے وہ عِبَادَت کے وَقْت اپنے بَدَن کو ڈھانپنے کے لیے اِسْتِعمال کرتا ہے۔
(3 ۔۔۔۔) اس خوراک میں جس سے وہ عِبَادَت پر قوّت و مَدَد حاصِل کرتا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) حضرت سَیِّدُنا سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے یہ اِرشَاد اس لیے فرمایا کہ آپ کے نزدیک زُہْد کی حقیقت تمام مَقامات سے اَفضل ہے کیونکہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے تھے: زاہِد کو تمام عالِموں اور عابِدوں کا ثواب عَطا کیا جائے گا پھر ان کے اَعمال کا ثواب تمام مومنین پر تقسیم ہو گا۔ مزید اِرشَاد فرماتے کہ بَروزِ قِیامَت اس شخص سے اَفضل کوئی نہ ہو گا جو زُہْد کا پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ مُتَّقِی و پرہیز گار عالِم بھی ہو۔ ایک مرتبہ اِرشَاد فرمایا:زُہْد خوف کے بغیر حاصِل نہیں ہوتا کیونکہ جو ڈرتا ہے وہی دنیا تَرْککرتا ہے۔ گویا آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے زُہْد کو خوف کا ایک مَقام قرار دیا مگر اسے دَرَجات میں اِضافے کا باعِث ہونے کی وجہ سے اَفضل ٹھہرایا۔
زاہد کی دو۲ رَکْعَت نماز کی فضیلت
حضرت سَیِّدُنا مَسروق رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت کرتے ہیں کہ جس شخص کا دِل زاہِد ہو اس کی دو۲ رَکْعَت نَماز اس کے لیے بہتر ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں اس عِبَادَت گزار سے زیادہ پسندیدہ ہے جو (زاہِد نہ ہو اور )ہمیشہ عِبَادَت میں مَصروف رہے۔
عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے ایک گروہ کے نزدیک زُہْد کی کوئی اِنتِہا نہیں کیونکہ یہ مَخْفِی نفسانی خواہشات اور دنیا کے دروازوں کی باریکیاں جاننے کی اِنتِہا سے حاصِل ہوتا ہے۔ کسی بُزرگ کا قول ہے کہ زُہْد کی اِنتِہا یہ ہے کہ آپ ہر شے میں زُہْد اِخْتِیار کریں اور ہر اس شے سے بچیں جو نَفْس کے لیے راحَت و لذّت کا باعِث ہے۔
پتھر کا تکیہ بنانا بھی چھوڑ دیا
مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک پَتّھر کو اپنے سَر کے نیچے رکھا تاکہ سَرکے زمین سے اُونچا ہونے کے باعِث کچھ راحَت ملے تو شیطان نے کہا:اے ابنِ مریم! آپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع