دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اَوصَاف ہیں۔چونکہ تمام مسلمان ان اَوصَاف کے حَامِلین اَفراد کی مَذمَّت پر مُتَّفِق ہیں،لہٰذا جس میں وَصْفِ غِنا ہو گا وہ بھی اِنہی اَفراد میں شامِل ہو گا، کیونکہ غنی ہونا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ایسا وَصْف ہے جو عزّت و کِبْرِیَائی کے ساتھ مِلا ہوا ہے ۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے تمام اَوصَاف کو اسی کے لیے تسلیم کیا جائے اور اس کی کسی صِفَت کو کسی کے لیے ثابِت کرنے کی خاطِر جھگڑا جائے نہ کسی کو اس صِفَت میں شریک کیا جائے۔

(4) …حضرت سَیِّدُنا احمد بن عَطا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح  کا قول اس لیے بھی غَلَط ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اِرشَاد فرماتا ہے:بڑائی میری رِدا اور عَظَمَت میرا تہبند ہے جو ان میں سے کسی ایک میں بھی مجھ سے جھگڑے گا میں اسے جہنّم میں ڈالوں گا۔[1] اُنہوں نے اس حَدِیْثِ قُدْسِی کی بھی مُخالَفَت کی جبکہ ہماری مُوَافِقَت میں ہر خاص و عام کے مُسَلّمہ عارِف یعنی حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:جس نے غِنا، بقا اور عزّت کو مَحْبُوب جانا گویا اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اس کی صِفات میں جھگڑا کیا۔ چونکہ یہ صِفاتِ رَبّانی ہیں لہٰذا اس شخص کے ہَلاکَت میں مبتلا ہونے کا خوف ہے۔ جب یہ ثابِت ہو گیا تو فَقْر غِنا سے اَفضل ہو گا کیونکہ یہ بَنْدَگی  کا وَصْف ہے۔ جس نے اس وَصْف کو پا لیا گویا اس نے بَنْدَگی  پا لی کہ بَنْدَگی  کے اَوصَاف ہی اِیمان کے اَخلاق ہیں اور یہی وہ اَوصَاف ہیں جن سے مومنین کا مُتَّصِف ہونا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پسند ہے۔ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پسند ہے کہ اس کے مومِن بندے خوف، عاجِزی، تواضُع اور فَقْر کے ساتھ مُتَّصِف ہوں جبکہ اَوصَافِ رَبُوبِیَّت کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دشمنوں یعنی جَبّارِین اور مُتَکَبِّرِین کو آزمایا جاتا ہے۔ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دشمنوں کو عزّت و تکبُّر اور بَقا و غِنا وغیرہ اَوصاف سے آزمایا جاتا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا امام حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے تھے: میرے خَیال میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا میں ہمیشہ کی زِنْدَگی صِرف اپنی مخلوق میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ فَرد یعنی اِبلیس کوہی عَطا فرمائی ہے ۔

اسی طرح عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کو پسند نہ کرو کیونکہ مخلوق میں سب سے بَدتَر اَفراد یعنی شیطانوں کی زِنْدَگی ہی سب سے زیادہ لمبی ہے ۔ نیز غِنا سے مَقْصُود دنیا میں باقی رہنا ہوتاہے۔ مَنْقُول ہے کہ اس مسئلہ میں حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی نے حضرت سَیِّدُنا ابن عَطا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح  سے مُبَاھَلَہ کیا اور انہیں بَد دُعا دی کیونکہ انہوں نے آپ کی یہ بات ماننے سے سختی سے اِنکار کر دیا تھاکہ صابِر فقیر شاکِر امیر (مال دار) سے اَفضل ہے، اگرچہ دونوں اپنی حَالَت کے اِعْتِبَار سے فرائض کی ادائیگی میں مُسَاوِی ہی ہوں، حالانکہ مُتَّقِی غنی اپنے نَفْس کو راحَت پہنچاتا ہے اور غِنا سے لُطْف اندوز ہوتا ہے جبکہ صابِر فقیر پر اس کے فَقْر کی وجہ سے دُکھ اور مصیبتیں ہی آتی ہیں جو اس کے دَرَجات کو مزید بڑھاتی ہیں۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مُعَامَلہ بھی حقیقت میں ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی نے اِرشَاد فرمایا ہے۔

اسی طرح حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ  وّل فرمایا کرتے تھے: فَقْر سے بڑھ کر کوئی شے نہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فَقْر کو اَفضل جانتے اور صابِر فقیر کی شان کو عظیم سمجھتے تھے۔ حضرت سَیِّدُنا مَرْوَزِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ  وّل کی خِدْمَت میں کسی فقیر کا ذِکْر کیا گیا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس فقیر کی عَظَمَت بیان کرنے لگے اور اس کے مُتعلّق مزید سوالات کرنے شُروع کر دئیے۔ فرماتے ہیں کہ میں نے عَرْض کی:اسے عِلْم کی حاجَت ہے۔ اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تجھ پر رَحْم فرمائے! چپ ہو جاؤ!اس کااپنے فَقْر پر صَبْر کرنا اور اس میں تکالیف کا بَرْدَاشْت کرنا کثیر عِلْم سے بہتر ہے۔ اس کے بعد اِرشَاد فرمایا: یہ لوگ ہم سے بَہُت زیادہ بہتر ہیں۔

جس نے فقر کا مزہ نہیں چکھا

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)میں یہ کہتا ہوں کہ وہی غِنا کو  فَقْر سے اَفضل کہتا ہے جس نے حقیقت میں کبھی فَقْر کا مَزہ چکھا ہے نہ اس کی حَلَاوَت۔ وہ فَقْر کی سختیوں کی بنا پر فریب کا شِکار اور فَقْر کی حَلَاوَت سے مَحْرُوم ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ فَقْر کی کڑواہٹ یعنی اس کی تکلیف اور غم کو چکھ لے تو ضَرور اسے ہی اَفضل سمجھے اور اگر اسے فَقْر کی یعنی زُہْد و رَضا کی حَلَاوَت چکھا دی جائے تو وہ کبھی فَقْر پر کسی شے کو فضیلت نہ دے۔

مال دار کے لیے تین۳شیطانی فریب

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے کہ شیطان کہتا ہے:غنی شخص مجھ سے اپنی تین۳خصلتوں میں سے کسی ایک کی بنا پر نہیں بچ سکتا۔ میں اس کے دل میں مال کی مَحبَّت پیدا کرتا ہوں تو وہ اسے ناجائز طریقے سے حاصِل کرنے لگتا ہے یا ناجائز جگہوں پر خَرْچ کرتا ہے یا جائز مَقام پر خَرْچ کرنے سے روکتا ہے۔ [2]

شیطان راہِ فقر میں بیٹھتا ہے

اگر شیطان کو یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ فَقْر تمام اَحْوَال میں اَفضل ہے تو وہ اس کے طریقوں پر نہ بیٹھتا۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

لَاَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِیْمَۙ(۱۶)(پ ۸، الاعراف:۱۶)

ترجمۂ کنز الایمان:میں ضَرور تیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔

ایک قول کے مُطابِق یہاں سیدھے راستے سے مُراد فَقْر ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے بندوں کو اس بات سے آگاہ کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُكُمُ الْفَقْرَ (پ ۳، البقرة:۲۶۸)                       ترجمۂ کنز الایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دِلاتا ہے محتاجی کا۔

مُراد یہ ہے کہ وہ تمہیں فَقْر میں مبتلا ہو جانے سے ڈراتا ہے۔ مگر ایک صادِق فقیر کا کام یہ ہے کہ وہ راہِ مستقیم پر چلتے ہوئے آخِرَت کی طرف گامزَن رہے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عَطا کردہ مَدَد اور قوّت سے شیطان کے دِلائے گئے خوف کو دُور پھینک دے۔ مَنْقُول ہے کہ مال داری پر رَشْک کرنے والے مال دار لوگوں کو بھی شیطان ڈراتا ہے کہ وہ فقیر بن جائیں گے اور انہیں بھی ان کی طرح مشکلات آلیں گی۔ جیسا کہ اِرشَاد ہوتا ہے:

اِنَّمَا  ذٰلِكُمُ  الشَّیْطٰنُ  یُخَوِّفُ  اَوْلِیَآءَهٗ   ۪-فَلَا  تَخَافُوْهُمْ  وَ  خَافُوْنِ (پ ۴، اٰل عمران:۱۷۵)      

 



[1]………مسلم ، کتاب البر والصلة والآداب ، باب تحريم الكبر ، ص۱۴۱۲ ، حدیث:  ۲۶۲۰۰ ،  بتغیرقلیل

                                                العقد الفريد ، كتاب الياقوتة فی العلم والادب ، باب فی الكبر ، ۲/  ۱۹۷

[2]………معجم کبیر ، ۱/  ۱۳۶ ، حدیث:  ۲۸۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن