دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

حضرت سیِّدُنالُقْمان حکیم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے بیٹے سے اِرشَاد فرمایا:اے میرے بیٹے! دین کی اصلاح میں سب سے زیادہ مُعاوِن خُلْق دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنا ہے۔ جس نے دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کیا گویا وہ ان چیزوں میں رَغْبَت رکھتا ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس ہیں اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس چیزوں میں رَغْبَت رکھتا ہے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے عَمَل بھی کرتا ہے اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے عَمَل کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے اَجَر دیتا ہے۔ [1]

نبی اور اُمتی کے عَمَل میں فرق

حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے حَوَارِیوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی خِدْمَت میں عَرْض کی:  اے رُوحُ اللہ! ہم آپ کی طرح نَماز پڑھتے ہیں، آپ کی طرح روزے رکھتے ہیں اور جیسا آپ نے ہمیں حکْم دیا ہے ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا ذِکْر کرتے ہیں مگر پھر بھی آپ کی طرح پانی پر چلنے کی قُدْرَت نہیں رکھتے (اس کی کیا وجہ ہے؟)۔ اس پر آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے اِسْتِفْسَار فرمایا: پہلے اپنے مُتعلّق یہ بتاؤ کہ تمہاری دنیا سے مَحبَّت کی کَیْفِیَّت کیسی ہے؟ عَرْض کی: ہم اپنے دلوں میں دنیا کی مَحبَّت پاتے ہیں۔ اِرشَاد فرمایا: بے شک دنیا کی مَحبَّت دین کو خَراب کرتی ہے مگر میرے نزدیک یہ دنیا ایک پَتّھر اور مِٹّی کے ڈھیلے کی طرح ہے۔ [2] ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک پَتّھر اُٹھا کر اِسْتِفْسَار فرمایا:تمہیں کیا پسند ہے یہ پَتّھر یا دِرْہَم و دِینار ؟ عَرْض کی: دینار۔ اِرشَادفرمایا: میرے نزدیک ان سب کی حَیْثِیَّت ایک جیسی ہے۔

مَنْقُول ہے کہ جس کا دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنا اس قَدْر دُرُسْت ہو جائے کہ اس کے نزدیک پَتّھر اور سونے کی حَیْثِیَّت برابر ہو جائے تو وہ پانی پر چلنے لگتا ہے۔ یہ بات عام لوگوں میں اس قَدْر مَشْہُور ہوئی کہ ایک شاعِر نے  اس کے مُتَعَلِّق کچھ یوں اِظْہَارِ خَیال کیا:

لَوْ كَانَ زُهْدُكَ فِی الدُّنْيَا كَزُهْدِكَ فِیْ                                      وَصْلِیْ مَشَيْتَ بِلَا شَكٍّ عَلَى الْـمَآء

ترجمہ: اگر دنیا میں تیری بے رغبتی کا عالَم اس طرح ہوتا جیسا تو مجھ سے ملنے کے مُعَامَلے میں کسی چیز کی پَروا نہیں کرتا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ تو پانی پر چلنے لگتا۔

تارک الدنیا کی نیند

مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک مرتبہ دورانِ سَفَر چادَر اَوڑھ کر سوئے ہوئے ایک شخص کے پاس سے گزرے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اسے جَگا کر اِرشَاد فرمایا:اے سونے والے!اُٹھ اور اللہ کا ذِکْر کر۔اس نے عَرْض کی:آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟میں نے دنیا کو دنیا والوں کے لیے چھوڑ دیا ہے۔تو آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے اِرشَاد فرمایا:اے دوست!اگر ایسا ہے تو پھر سو جا۔

حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلّق بھی مَرْوِی ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام  کا گزَر ایک بار ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو سر کے نیچے اینٹ رکھے زمین پر سورہا تھا،چادَر اَوڑھنے کے باوُجُود اس کا چہرہ اور داڑھی گَرد آلُود تھے(مگر وہ کسی چیز کی پَروا کئے بغیر مَزے سےسویا ہوا تھا)۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی:اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !تیرا یہ بندہ دنیا میں ضائع ہو گیا ہے۔تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے وَحِی فرمائی:اے موسیٰ!کیا تم نہیں جانتے کہ جب میں اپنے بندے پر کامِل نَظَرِ رَحْمَت کرتا  ہوں تو دنیا کو اس سے مُکَمَّل طور پر دُور کردیتا ہوں۔[3]

شکستہ دل لوگ

اللہعَزَّ  وَجَلَّ نے حضرت سیِّدُنا اِسماعیل عَلَیْہِ السَّلَام کی طرف وَحِی فرمائی کہ مجھے شِکَسْتَہ دِل لوگوں کے پاس تلاش کرو۔عَرْض کی:وہ کون ہیں؟اِرشَاد فرمایا:سچّے فُقَرا۔[4]یہ رِوایَت حضرت سَیِّدُنا موسیٰعَلَیْہِ السَّلَام

کی اس گُزارِش کی وَضَاحَت ہے جس میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ خداوندی میں عَرْض کی تھی: اے میرے رب! میں تجھے کہاں تلاش کروں؟ اِرشَاد فرمایا: شِکَسْتَہ دل لوگوں کے پاس۔ [5]

مال داری کے فقر سے افضل ہونے کا شبہ

حضرت سَیِّدُنا احمد بن عَطا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح  کا شُمار مُتَاَخِّرِین میں ہوتا ہے، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ایک شُبہ کی وجہ سے غِنا کو فَقْر سے اَفضل قرار دیتے تھے۔ ہوا کچھ یوں کہ کسی شیخ نے آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے عَرْض کی: حَالَتِ غِنا اور فَقْر میں سے اَفضل کون ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے جواب دیا: غِنا اَفضل ہے کیونکہ یہ حَق تعالیٰ کی صِفَت ہے۔اس پر اس شیخ نے عَرْض کی: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غنی ہونے سے مُراد تو یہ ہے کہ وہ اَسباب و اَعراض سے مُسْتَغْنِی ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یہ سن کر خاموش ہو گئے اور ایک لفظ بھی نہ کہا۔

مذکورہ شبے کے رد میں چار جوابات

(1)  (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)بات تو ایسی ہی ہے جیسا کہ اس شیخ نے کہا، کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے وَصْف کے اِعْتِبَار سے غنی ہے اور اس اِعْتِبَار سے فقیر اس مَفہوم کا زیادہ حَق رکھتا ہے کیونکہ وہ اپنے وَصْف کے اِعْتِبَار سے اِیمان کی دولت رکھتا ہے نہ کہ اَسباب کی وجہ سے مال دار ہےکیونکہ وہ تو اس سے دُور ہیں۔ اس اِعْتِبَار سے فقیر بھی اَفضل ہے کیونکہ مال دار شخص تو اَسباب کو جَمْع کرنے والا اور پریشان حال ہوتا ہے۔ لہٰذا شک کی بنا پر فقیر اس سے اَفضل ہو گا۔

(2) حضرت سَیِّدُنا خوَّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کے مَوْقِف کی مُخالَفَت کی اور انہیں دُرُسْت بات کی مُوَافِقَت حاصِل ہو گئی۔آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ مَعْرِفَت  میں حضرت سَیِّدُنا احمد بن عَطا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح  سے بُلَند مَقام کے حامِل تھے، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنی کِتاب ”شَرَفُ الفقر“میں فرماتے ہیں: فَقْر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ایسی صِفَت ہے جس سے وہ لوگوں کو مُتَّصِف فرماتا رہتا ہے۔چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی یہ بات بھی ہماری تاویل کی مُوَافِقَت کرتی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اشیا سے مُسْتَغْنِی ہے۔

 (3) حضرت سَیِّدُنا احمد بن عَطا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح  نے جس بنا پر غِنا کو فَقْر سے اَفضل کہا تھا اس مُغَالَطے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اگر غِنا کو فَقْر سے اَفضل قرار دیں کہ غنی ہونا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی صِفَت ہے تو مُناسِب ہو گا کہ مُتَکَبِّراور جابِر شخص کو اور اپنی مَدْح و تعریف اور عزّت کو پسند کرنے والے شخص کو بھی فضیلت

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن