دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

میرے لیے ایسا كیسے ممكن ہے؟ اِرشَاد فرمایا:جب تجھ سے کچھ مانگا جائے تو اِنکار مَت کرنا اور جب تجھے کچھ دیا جائے تو اسے مَت چھپانا۔  [1]

کیا آپ یہ خَیال کر سکتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو کسی اَدنیٰ حال کا حکْم اِرشَاد فرمائیں گے؟ اور ایسا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ حضرت سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شُمار بُلَند پایہ صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے۔ لہٰذا یہاں اَحْوَال میں فَقْر کو اِیمان میں یقین کے مُشَابِہ قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے رَضا اور یقین کے ساتھ عَمَل کرو، اگر ایسا نہ ہو سکے تو ناپسندیدہ باتوں پر تمہارے صَبْر کرنے میں بَہُت بڑی بھلائی ہے۔[2]یہاں بھی میٹھے میٹھے آقا، مکّی مَدَنی مصطفےٰصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو یقین کے اَفضل ہونے کے باعِث اس تک رسائی حاصِل کرنے کی ترغیب دلائی جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو اَحْوَال میں فَقْرکے اَشرف ہونے  کے باعِث اسے اپنانے کی ترغیب دلائی۔ یقیناً آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے وُہی حال پسند فرمایا جو اپنے لیے پسند فرمایا تھا، اس طرح فَقْر اَہْلِ یقین کا حال بن گیا کیونکہ اس سے آخِرَت مُنْکَشِف ہوتی ہے۔جبکہ غِنا میں شُکْر مومِن کا حال ہے کیونکہ اس سے دنیا ملتی ہے۔ چنانچہ زاہِد فقیر  کو شاکِر غنی پر وُہی فضیلت حاصِل ہے جو مُشاہَدہ کرنے والے اہلِ یقین کو مُجاہَدہ کرنے والے اَہْلِ یقین پر حاصِل ہے۔

حالتِ فقر میں موت کی دعا

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دُعا مانگا کرتے تھے: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ! مجھ پر حَالَتِ فَقْر میں ظاہِری مَوت طارِی کرنا اور حَالَتِ غِنا میں مجھ پر موت طارِی نہ کرنا۔[3]

معلوم ہوا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو جو یہ اِرشَاد فرمایا تھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے حَالَتِ فَقْر میں ملنا؛ اس سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مُراد یہ نہ تھی کہ وہ کسی کم تَر حال کو اَپنائیں۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا ابن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اِرشَاد فرمایا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے رَضا اور یقین کے ساتھ عَمَل کرنا۔ تو اس سے بھی حضرت سَیِّدُنا ابن عُمَر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو کسی کم تَر مَقام کی ترغیب دِلانا مُراد نہ تھا۔ اسی طرح ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے لیے یہ دُعا مانگی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ آپ کو زِنْدَگی اور موت بلکہ حَشْر میں بھی مسکینوں کے گروہ میں رکھے۔[4]

مذکورہ ہر رِوایَت فَقْر کی فضیلت اور فُقَرا کے شَرَف پر مبنی ہے۔ جیسا کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:يَدْخُلُ فُقَرَآءُ اُمَّتِى الْجَـنَّةَ قَبْلَ اَغْنِيَآئِهَا بِـنِصْفِ یَوْمٍ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ۔ یعنی میری اُمَّت کے فُقَرا  مال داروں سے نِصْف دن یعنی 500سال پہلے جنّت میں داخِل ہوں گے۔[5]

مال کی کمائی ذکر سے غافِل کر دیتی ہے

مَرْوِی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے:میں مسکینی کو پسند کرتا اور غنی کے لیے مال و دولت کو بُرا جانتا ہوں، کیونکہ مال میں بَہُت سی بیماریاں ہیں۔ عَرْض کی گئی: اے روح اللہ!اگرچہ حَلال طریقے سے کمایا ہو تو بھی؟اِرشَاد فرمایا:ہاں! کیونکہ مال کمانا بندے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذِکْر سے غافِل کر دیتا ہے۔ 

نیک فقیر نیک امیر سے بہتر ہے

حضرت سَیِّدُنا وَھْبْ بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے عَرْض کی:ہم تورات میں یہ لکھا دیتے ہیں کہ ایک نیک فقیر نیک امیر سے بہتر ہے(تو کیا اِسلام میں بھی ایسا ہی ہے؟)۔ اِرشَاد فرمایا: کیا تم یہ نہیں جانتے کہ اللہ کو فقیر سے بڑھ کر کوئی شے پسند نہیں بشرطیکہ وہ نیک ہو۔

مال داری کی خرابی

مَنْقُول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو سب ناموں سے زیادہ یہ پسند تھا کہ آپ کو مسکین کہہ کر پکارا جائے۔آپ عَلَیْہِ السَّلَام فرمایا کرتے تھے:مال داری کی خرابی یہ ہے کہ بندہ مال دار بننے کے لیے گناہ کرتا ہے مگر فقیر ہونے کے لیے گناہ نہیں کرتا۔

اسی مَفہوم کو کسی حکیم نے اَشْعَار میں یوں بیان کیا ہے:

يَا عَائِبًا لِلْفَقْرِ تَبْغِی الْغِنٰى                                    عَيْبُ الْغِنٰى اَعْظَمُ لَوْ تَعْتَبِر

اِنَّكَ تَعْصِیْ لِتَـنَالَ الْغِنٰى                                                                                                                                               وَلَسْتَ تَعْصِی اللهَ كَیْ تَفْتَقِر

یعنی اے فَقْرکو عَیب جاننے والے! تو غِنا چاہتا ہے، غِنا کا عیب (فَقْرکے عَیب سے) بَہُت بڑا ہے، اگر تو سمجھے۔ کیونکہ تو غِنا کے حُصُول کے لیے تو گناہ کرتا ہے مگر فقیر بننے کے لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی نہیں کرتا۔ 

حضرت سَیِّدُنا ابو سعید خُدْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی حدیثِ پاک میں ہے کہ اے لوگو! عُسْرَت و تنگ دستی اور فاقہ تمہیں حَرام طریقے سے رِزْق تلاش کرنے پر مجبور نہ کرے کیونکہ میں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ دُعا مانگتے سناہے کہ اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ! مجھ پر حَالَتِ فَقْر  میں ظاہِری موت طارِی کرنا، حَالَتِ غِنا میں مجھ پر موت طاری نہ کرنا اور قِیامَت کے دن مجھے مساکین کے گروہ میں اُٹھانا۔[6]

عاملین کو ہی اجر ملتا ہے

 



[1]………مستدرك ، کتاب الرقاق ، باب الق اللہ فقیرا ولاتلقه غنیا ، ۵/  ۴۵۰ ، حدیث:  ۷۹۵۷

[2]………نوادر الاصول  ،  الاصل الرابع والاربعون ، ۱/  ۱۸۶ ، حدیث:  ۲۷۵ ، عن ابن عباس

[3]………الدعاء للطبرانی ،  باب ما كان النبي صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ يدعوبهفيسائرنهاره ، ص۴۲۲$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن