30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک بُزرگ فرماتے ہیں کہ ناز و نِعْمَت کی مَوجُودَگی میں زُہْد اِخْتِیار کرنے والا اس شخص کی مِثل ہے جو اپنے ہاتھ میں لگی ہوئی گوشت کی چکنائی کو مچھلی سے صاف کرے۔
کسی اور بُزرگ کا فرمان ہے کہ دنیا کی طَلَب میں مَشْغُول زاہِد کی مِثال اس شخص جیسی ہے جو گھاس سے آگ بجھانے کی کوشِش کرے۔
ایک زاہِد اَہْلِ شام کے سامنے زُہْد کی باتیں کیا کرتے تھے، اَہْلِ شام کے فقیہ حضرت سَیِّدُنا رَجا بِن حَیوَہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بھی اس زاہِد کی مَـحْفِل میں شریک ہو کر اس کی باتیں سنا کرتے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو اس زاہِد کی مَـحْفِل میں تشریف لانے میں تھوڑی دیر ہو گئی، لوگوں کی کثیر تعداد جَمْع تھی، بَیْتُ الْمَقَدَّس شریف کے مُؤَذِّن صَاحِب دَرْس دینے لگے تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ان کی باتیں سننے سے اِنکار کرتے ہوئے پوچھا:یہ بولنے والا کون ہے؟ اس بُزرگ نے اپنا تَعَارُف کرایا تو اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو مُعاف فرمائے، ہم زُہْد کی باتیں زاہِدوں کے علاوہ کسی اور سے سننا پسند نہیں کرتے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا: ہم وَعْظ و نصیحت صِرف زاہِدوں سے ہی سننا پسند کرتے ہیں۔
ایمان کی حلاوت اور نور کا خاتمہ
حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے:دنیا داروں کے اَمْوَال کی طرف مَت دیکھو! کیونکہ ان کے مالوں کی چَـمَک تمہارے نُورِ اِیمان کو خَتْم کر دے گی۔ ایک عالِم فرماتے ہیں: اَمْوَال کو اُلَٹ پَلَٹ کرنا (یعنی اسے شُمار کرتے رہنا) اِیمان کی حَلاوَت کو چُوس لیتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:ہر اُمَّت (کی آزمائش) کے لیے ایک بچھڑا ہوتا ہے اور اس اُمَّت کابچھڑا دِرْہَم و دِینار ہیں۔[1] کیونکہ حضرت سَیِّدُنا موسٰی عَلَیْہِ السَّلَام کی اُمَّت کے لیے سَامِری نے جو بچھڑا بنایا تھا وہ بھی سونے چاندی کے زیورات سے بنا ہوا تھا۔جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
ابْتِغَآءَ حِلْیَةٍ اَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهٗؕ- (پ ۱۳، الرعد:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان: گہنا (زیور) یا اور اَسباب بنانے کو اس سے بھی ویسے ہی جھاگ اٹھتے ہیں۔
گویا مذکورہ حدیثِ پاک اسی آیَتِ مُبارَکہ سے ماخوذ ہے۔
چار۴ فرشتوں کی ندائیں
مَنْقُول ہے کہ روزانہ جب دن طُلُوع ہوتا ہے تو چار۴ فرشتے آفاق میں چار۴ نِدائیں کرتے ہیں:ان میں سے دو۲فرشتے مَشْرِق میں نِدا کرتے ہیں اور دو۲ مَغْرِب میں۔چنانچہ،
مَشْرِق میں مَوجُود دونوں فرشتوں میں سے ٭۔۔۔۔ایک کہتا ہے:اے خیر کے طالِب!آگے بڑھ (اور نیک عَمَل کر)اور اے شَر کے طالِب !رُک جا(بُرائی سے باز آجا)اور٭۔۔۔۔دوسرا کہتا ہے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ! خَرْچ کرنے والے کو اس کا اچھّا بَدَل عَطا فرمااور بُخْل کرنے والے کے مال کو ہلاک فرما۔
مَغْرِب میں مَوجُود فرشتوں میں سے ٭۔۔۔۔ایک کہتا ہے:موت کے لیے اَولاد پیدا کرو اور ویران ہونے کے لیے گھر تعمیر کرواور٭۔۔۔۔دوسرا کہتا ہے:طویل حِساب کے لیے دُنْیَاوِی نعمتیں کھاؤ اور خوب مَزے اڑاؤ۔[2]
ایك عالِم فرماتے ہیں:بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا کو وَحْشَت کے ساتھ مُزَیَّن فرمایا تاکہ فرمانبرداری کرنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مَانُوس ہوں۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ یہ دُعا مانگا کرتے تھے:اےاللہ عَزَّ وَجَلَّ!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب میں اپنے نَفْس سے کوئی حَق وُصُول کرنے لگوں تو اس وَقْت مجھے عجز و اِنکساری عَطا فرما اور جو مال میری ضَرورت سے زائدہو اس میں مجھے بے رغبتی عَطا فرما۔[3]
کسی عارِف کا قول ہے کہ مَعْرِفَتِ باری تعالیٰ سے مُزَیَّن فَقْر کے سِوا ہر شے خَزائِنِ باری تعالیٰ میں پڑی ہوئی ہے، فَقْر ایک رسی میں پرویا ہوا ہے اور اس پر مُہر لگا دی گئی ہے جو صِرف اسے ہی عَطا ہوتا ہے جس پر شُہَدا کی مُہر ثَبْت ہو۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُؕ- (پ ۲۸، الجمعة:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ اللہ کا فَضْل ہے جسے چاہے دے۔
بعض دنیا دار عُلَما اپنے نفسوں کے لیے مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ کی تفسیر سے یہ حُجّت قائم کرنے کی کوشِش کرتے ہیں کہ فَقْر پر مال داری کو فضیلت حاصِل ہے۔حالانکہ اس آیَتِ مُبارَکہ میں غور و فِکْر کرنے والوں کے نزدیک یہاں فُقَرا مُراد ہیں، کیونکہ فُقَرا سے پہلے یہ اِرشَاد فرمایا گیا تھا کہ اگر تم نے ایسا کیا تو کوئی تم سے دَرَجات میں آگے بڑھ سکے گا نہ کوئی تمہارے بعد ان دَرَجات کو پا سکے گا۔ [4]یہ بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمانِ عالیشان سے ثابِت ہے اور بِالْکُل دُرُسْت ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے فرمان میں اسی طرح مَعْصُوم ہیں جیسا کہ اپنے فِعْل میں مَعْصُوم ہیں۔[5]
[1]………فردوس الاخبار ، ۲/ ۱۹۳ ، حدیث: ۵۰۵۷
[2]………الزھد لابن المبارك ، باب فضل ذکر اللہ ، ص۳۷۸ ، حدیث: ۱۰۷۰ ، مختصراً
نهاية الارب فی فنون الادب ، البابالثالثمنالقسمالثالثمنالفنالثانی ، ۵/ ۲۶۳
[3]………طبقات المحدثین باصبھان ، الطبقة الخامسة ، ۲/ ۲۷ ، الرقم: ۸۴: عبد الرحمن بن يوسف
[4]………بخاری ، کتاب الاذان ، باب الذکر بعد الصلاة ، ۱/ ۲۹۳ ، حدیث: ۸۴۳ ، بتغیرقلیل
[5]………یہاں صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی نے اَصْل میں اس رِوایَت کیجانِب اِشارہ کیا ہے جس میں ہے کہ ایک بار فُقَرا صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی: مالدارلوگ خیرات ، صَدَقات ، حَج اور جِہاد کے ذریعے نیکیوں میں ہم سے سَبْقَت لے گئے ہیں ، (ہم کیا کریں ?)۔تو آپ صَلَّی $&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع