30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک عالِم لوگوں میں ہر شے کو اس کے مَقام پر رکھتا ہے، اس سے تجاوُز کرتا ہے نہ لوگوں کے مَقام و مرتبہ سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ ان کے لیے مَعْذرَت ومُعافی کی راہیں نکالنے کی کوشش کرتا ہے۔
نیز عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا وَصْف یہ ہے کہ جب عام لوگ کسی مُعامَلے میں بڑھ چڑھ کر شریک ہوتے ہیں تو وہ وَقتی طور پر خاموش رہتے ہیں۔ چنانچہ،
لوگوں کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہئے؟
حضرت سَیِّدُنا اِمام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْکافی فرماتے ہیں کہ الگ تھلگ اور یکسو رہنا لوگوں کی عَداوَت پیدا کر سکتا ہے، لہٰذا الگ تھلگ اور گھلنے ملنے کے درمیان رہنا چاہئے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: تم لوگوں کو اپنے مالوں کے ذریعے کافی نہیں ہو سکتے لہٰذا انہیں کافی ہونے کے لیے تمہیں خوش اَخلاقی اور حُسْنِ اَخلاق سے پیش آنا چاہئے۔[1] ایک رِوایَت میں ہے:تمہیں خندہ پیشانی اور خوش اَخلاقی سے پیش آنا چاہئے۔
یہ تمام اَوصاف ایسے ہیں جو قاریوں میں نہیں پائے جاتے ، بلکہ وہ ان اَوصافِ حمیدہ سے آگاہ ہی نہیں۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہر شے کی ایک حد مُقَرّر فرما رکھی ہے تو جس نے اس حد سے تَجاوُز کیا یقیناً اس نے اس شے کو برباد کر دیا۔ ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ تھوڑی سی عجز و انکساری بہت زیادہ عَمَل سے بے نیاز کر دیتی ہے اور اسی طرح تھوڑی سی پرہیز گاری بھی بہت زیادہ عِلْم سے بے نیاز کر دیتی ہے۔
دو۲رُخی نفاق کی علامت ہے
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی جن عمدہ باتوں کو بعد والوں نے ہلکا سمجھا ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ اس بات کو نِفاق شُمار کرتے تھے کہ بندہ اس شخص کی تعریف کرے جس پر اس نے جرح کی ہو یا اس شخص سے بات چیت کرے جس پر جرح کی گئی ہو کیونکہ ان کا طریقہ یہ تھا کہ جب وہ کسی سے بات کرتے یا اسے سلام کرتے تو ان کے دل بھی اسے تسلیم کر لیتے، پھر وہ اس پر جرح نہ کرتے، مگر جب وہ کسی شخص کے بِدْعَتی یا فاسِق ہونے کی وجہ سے اس پر کلام کرتے تو پھر اس سے کبھی بات چیت نہ کرتے، اسی طرح جب کسی کی مدح و تعریف کرتے تو کبھی اس کی مَذمّت نہ کرتے اور جب کسی کی مَذمَّت کرتے تو کبھی اس کی تعریف نہ کرتے۔ کیونکہ اس صُورَت میں ان کی زبان ایک نہ رہتی بلکہ وہ دو۲زبانوں والے اور دو۲مختلف چہروں والے دکھائی دیتے اور ان کا ظاہِرو باطِن بھی مختلف ہوتا۔ چنانچہ وہ فرمایا کرتے کہ جب تم کسی سے ملاقات کے وَقْت اسے سلام کرو تو اس سے مُراد یہ ہے کہ تم اپنے مُخَاطَب کو کہتے ہو کہ وہ تمہاری جانِب سے اس بات سے محفوظ ہے کہ تم اس کی غیبت یا مَذمَّت کرو۔ اگر اس کہنے اور کرنے میں اِخْتِلاف ہو تو سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اسے نِفاق شُمارکرتے تھے۔ جیسا کہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے:سب سے بُرا بندہ وہ ہے جس کے دو۲چہرے ہوں، ایک گروہ کے پاس ایک چہرہ لے کر جائے اور دوسرے کے پاس دوسرا۔[2] ایک رِوایَت میں ہے کہ جس شخص کی دنیا میں دو۲زبانیں ہوں گی اللہ عَزَّ وَجَلَّ قِیامَت کے دن آگ سے اس کی دو۲زبانیں بنا دے گا۔[3]
غیبت وغیرہ سے چھٹکارے کا بہترین نسخہ
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ جب بھی میرے سامنے کسی شخص کا ذکر کیا گیا تو میں نے اسے اپنے پاس بیٹھا ہوا ہی تَصَوُّر کیا اور پھر اس کی عَدَم مَوجُودَگی کے باوُجُود وہی گفتگو کی جو وہ سننا پسند کرتا۔
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میرے سامنے جب کسی شخص کا ذکر ہوتا ہے تو میں اپنے دل میں اس کا تَصَوُّر باندھ لیتا ہوں، پھر اس کے بارے میں ایسی باتیں کرتا ہوں جو اپنے لیے پسند کرتا ہوں۔ ایک اور بزرگ فرماتے ہیں کہ قلیل تواضُع کثیر عَمَل سے اور قلیل تقویٰ کثیر عِلْم سے بے نیاز کر دیتا ہے۔
پس یہ صِفات ان مسلمانوں کی ہیں جن کے ہاتھوں اور دلوں سے دوسرے لوگ محفوظ رہتے تھے۔ جب ان میں سے کسی کے سامنے کسی کا بُرا تذکرہ ہوتا تو وہ پہلے اپنے مُتَعَلّق سوچتاکہ کہیں اس میں تو یہ بُرائی نہیں۔ اگر اس میں وہ بُرائی ہوتی تو اپنے اسلامی بھائی کے بارے میں بات کرنے سے حَیا محسوس کرتا اورخاموش رہتا اور اگر اس میں وہ بُرائی نہ ہوتی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرتا اور اپنے بھائی کے لیے رحمت کی دعا کرتا۔ پس اس کا اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکا شکر ادا کرنا اسے غیبت وغیرہ جیسے بُرے اَوصاف سے بچا لیتا اور سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا یہی طریقہ تھا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نازِل کردہ کسی کِتاب میں ہے کہ تعجب ہے اس شخص پر جس میں خیر و بھلائی نہ ہو اور جب اسے کہا جائے کہ وہ خیر پر ہے تو یہ سن کر وہ کیسے خوش ہوتا ہے! اور تعجب ہے اس شخص پر بھی جس میں شر اور بُرائی پائی جائے اور جب اسے کہا جائے کہ اس میں بُرائی ہے تو یہ سن کر وہ کیسے غَضَب ناک ہوتا ہے! اور سب سے بڑھ کر تعجب اس شخص پر ہے جو اپنے آپ سے تو بڑے یقین کے ساتھ مَحبّت رکھتا ہو مگر دوسروں سے شک کی بِنا پر نفرت کرتا ہو۔
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جن باتوں پر سختی کیا کرتے تھے ان میں سے ایک خود ستائشی اور مدح و تعریف بھی ہے۔چنانچہ ایک بزرگ کا فرمان ہے کہ جو مدح و تعریف تو پسند کرے مگر اپنی مَذمَّت پسند نہ کرے وہ مُنَافِق ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع