30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کا اَجَر اسے نہیں ملتا۔ [1]
ایک بُزرگ سے مَرْوِی ہے کہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کسی بندے کے مال پر ناراض ہوتا ہے تو اس پر پانی اور مِٹّی (یعنی غیر ضَروری تعمیرات)کو مُسَلَّط فرما دیتا ہے۔
خوبصورت عمارتوں اور ان کے دروازوں کو مت دیکھو
حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن یَمان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں کہ میں حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ راستے میں ایک مُنَقَّش دروازے کی جانِب میں نے دیکھا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا:اسے مَت دیکھو! میں نے عَرْض کی:اے ابو عبداللہ! کیا آپ اسے دیکھنا پسند نہیں فرماتے؟ اِرشَاد فرمایا:تمہارا دروازے کی جانِب دیکھنا اس کے بنانے پر مُعاوَنَت شُمار ہو گا، کیونکہ اسے اسی لیے بنایا گیا ہے کہ اس کی طرف دیکھا جائے اور اگر کوئی بھی گزَرنے والا اسے نہ دیکھے تو یہ نہ بنایا جاتا۔
حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے پہلے کے ایک بُزرگ سے بھی ایسا ہی ایک قول مَنْقُول ہے کہ (خُوبْصُورَت) عِمارَتوں کی طرف مَت دیکھا کرو! کیونکہ لوگ تمہاری خاطِر انہیں آرَاسْتَہ کرتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِرشَاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَ لَا فَسَادًاؕ- (پ۲۰،القصص:۸۳)ترجمۂ کنز الایمان:یہ آخِرَت کا گھر ہم ان کے لیے کرتے ہیں جوزمین میں تکبّر نہیں چاہتے اور نہ فَساد۔
ایک قول کے مُطابِق اس آیتِ مُبارَکہ میں زمین میں بُلَندی ،کَثْرَتِ مال کی مَحبَّت،حُکُومَت و رِیَاسَت کی طَلَب اور تعمیرات میں بَاہَم مُقَابَلَہ بازی کرنا مُراد ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے: كُلُّ بِنَآءٍ وَّبَالٌ عَلٰى صَاحِبِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِلَّا مَا اَكَنَّ مِنْ حَرٍّوَّ بَرْدٍ۔یعنی سردی گرمی سے بچنے کے لیے بنائی گئی عِمارَت کے سِوا ہر عِمارَت بروزِ قِیامَت اپنے بنانے والے کے لیے وَبال ہو گی ۔[2]
بارگاہِ رسالت میں گھر چھوٹا ہونے کی شکایت
ایک شخص نے بارگاہِ رِسَالَت میں اپنے گھر کے چھوٹا ہونے کی شِکایَت کی تو سرکارِ دو۲ عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اِتَّسِعْ فِی السَّمَآءِ۔ یعنی آسمان میں وُسْعَت اِخْتِیار کرو۔[3]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس حدیثِ پاک کی دو۲ طرح شَرْح بیان کی جاسکتی ہے ایک کے مُطابِق مُراد یہ ہے کہ جنّت میں وسیع و عریض مَکان کے لیے کوشِش کرو۔جبکہ دُوسری شَرْح کے مُطابِق مُراد یہ ہےکہ مَعْرِفَت میں بُلَند اور وسیع مَکان کے حُصُول کی کوشِش کرو اور ظاہِری مَکان کی وُسْعَت طَلَب نہ کرو۔
یاد رکھئے! زُہْد اپنانے سے رِزْق کم نہیں ہوتا بلکہ زُہْد تو صَبْر میں زِیادَتی کا باعِث بنتا ہے اور فَقْر و بھوک کو دائمی کرتا ہے۔یوں زُہْد زاہِد کے لیے آخِرَت کا رِزْق بن جائے گا اس اِعْتِبَار سے کہ زاہِد دنیا سے مَحْرُوم اور کَثْرَت و وُسْعَتِ مال سے محفوظ رہا ۔ زُہْد چونکہ زاہِد کے اُخْرَوِی رِزْق کا سَبَب بنتا ہے، لہٰذا زاہِد جس قَدْر دنیا سے دُور ہو گا اور مال داری و وُسْعَت سے پرہیز کرے گا اسی قَدْر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حُسْنِ اِخْتِیار اور نِگاہِ کَرَم کے صَدْقے آخِرَت میں رِزْق اور بُلَند دَرَجات پائے گا۔ جیسا کہ ایک عالِم فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک سبزی فروش آیا اور عَرْض کرنے لگا:میں ایک ایسے مَحلّے میں سبزی بیچا کرتا تھا جہاں میرے سوا کوئی سبزی بیچنے والا نہ تھا، یوں میں خوب سبزی بیچ لیتا، پھر میرے مُقابَلے میں ایک اور سبزی فروش آ گیا تو کیا اس کی وجہ سے میرے رِزْق میں کمی آجائے گی؟اِرشَاد فرمایا:نہیں! بلکہ وہ سبزی بیچنے میں تیری سُستی کو بڑھا دے گا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ مذکورہ بحث سے) مُمکِن ہے کوئی باطِل اور لَہْو و لَعْب کو پسند کرنے والاشخص اپنے وُسْعَتِ مال اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے اپنے کسی دنیادار ساتھی کو یہ کہتے ہوئے فریب میں مبتلا کرنے کی کوشِش کرے کہ جب دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے سے میرے رِزْق میں کوئی کمی نہیں ہوئی تو دنیا کی کَثْرَت و وُسْعَت اور عَیْش وتَنَعُّم کی مَوجُودَگی میں مجھے زُہْد میں کسی مَقام کا حاصِل ہونا بھی دُرُسْت ہے ، کیونکہ میں اپنا ہی رِزْق کھاتا اور اپنا ہی نصیب لیتا ہوں۔ لہٰذا زُہْد میں بھی میرا ایک مَقام ہے اور رَضا و تَوَکُّل میں بھی میرا ایک حال ہے۔ یا وہ یہ کہے کہ زُہْد کَثْرَت و زِیْنَت کے باوُجُود دُرُسْت ہو سکتا ہے۔ یوں وہ شخص ان لوگوں کے سامنے لچھے دار باتیں کرے جو زُہْد کی حقیقت سے آگاہ نہیں بلکہ زاہِدین کے طریقوں سے ناواقِف لوگوں کو اپنی ایسی باتوں سے دھوکے میں مبتلا کرنے کی کوشِش کرے۔ ایسے شخص کا شُمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو دین کے بَدْلے دنیا کھاتے ہیں یا چِکنی چُپْڑی باتیں کرتے ہیں اور غَفْلَت میں مبتلا لوگوں پر خود کو عالِم ثابِت کرتے ہیں۔ چنانچہ،
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے خارِجیوں نے جب یہ کہا: لَا حُكْمَ اِلَّا لِلّٰه۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کسی کا کوئی فیصلہ قبول نہیں۔ تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:بات تو سچ ہے مگر اس سے مُراد غَلَط لی گئی ہے۔[4]
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے سچ فرمایا ، کیونکہ خَوارِج اپنی اس بات سے خُلَفائے رَاشِدِین عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اَحْکام کو ساقِط کرنا اور عادِل اِمام کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع