30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مُلکِ شام کی طرف جاتے ہوئے راستے میں چونے اور اینٹوں سے تعمیر کیا گیا ایک مَـحَل دیکھاتو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے تكبیر کہی (یعنی الله اکبركہا) اور اِرشَاد فرمایا:میرا یہ گمان نہیں تھا کہ اس اُمَّت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جو ایسی عِمارَت تعمیر کریں گے جیسی فِرْعَون کے لیے (اس کے وزیر)ہَامان نے تعمیر کی تھی۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مُراد فِرْعَون کا یہ قول ہے:
فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا (پ ۲۰، القصص:۳۸)
ترجمۂ کنز الایمان:تو اے ہامان میرے لیے گارا پکا کرایک مَـحَل بنا۔
مَنْقُول ہے کہ سب سے پہلے فِرْعَون نے چونے اور اینٹوں سے عِمارَت تعمیر کروائی اور سب سے پہلے یہ کام (اس کے وزیر)ہامان نے کیا،پھر دیگر سرکش لوگوں نے ان دونوں کی پَیروی کی اور یہی زیب و زِیْنَت ہے۔
ایک بُزرگ نے کسی شہرکی جامِع مَسْجِد کاتذکرہ کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:میں نے اس مَسْجِد کو پہلے کھجور کی ٹہنیوں اور شاخوں سے بنا ہو ادیکھا ،پھر گارے اور مِٹّی سے تعمیر شدہ بھی دیکھا اور اب اسےپکی اینٹوں سے بنا ہوا دیکھ رہا ہوں۔مگر اسے کھجور کی شاخوں اور ٹہنیوں سے بنانے والے گارے مِٹّی سے بنانے والوں سے جبکہ گارے مِٹّی سے بنانے والے اینٹوں سے بنانے والوں سے بہتر ہیں۔
بعض بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین زِنْدَگی میں کئی مرتبہ اپنے مَکان کی مُرمَّت کیا کرتے تھے کیونکہ ان کے مَکان مَضْبُوط اور پکّے نہیں ہوتے تھے اور انہیں طویل عَرْصَہ ان مَکانوں میں رہنے کی اُمِّید بھی نہ ہوتی تھی،اس لیے وہ پختہ تعمیرات سے بچتے تھے ۔
بعض اَسلاف کِرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامجب سَفَرِ حَج یا جِہاد کے لیے روانہ ہونے لگتے تو اپنا مَکان اُکھاڑ دیتے یا پڑوسیوں کو ہِبہ کر جاتے، واپَس آکر دوبارہ مَکان بناتے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے گھر گھانس پھونس اور کھالوں سے بنے ہوتے تھے۔(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں) آج بھی یمن میں اہْلِ عرب اسی طرح کے گھر بناتے ہیں۔
بلند عمارتوں کو گرانے کا حکم دیا
مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو وہ کمرہ گِرانے کا حکْم اِرشَاد فرمایا جسے انہوں نے بُلَند کیا تھا۔[1]
حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزَر ایک بُلَند قُبَّہ کے پاس سے ہوا۔ اِسْتِفْسَار فرمایا:یہ کس کا ہے؟لوگوں نے عَرْض کی:فلاں کا ہے۔ جب وہ صحابی بارگاہِ رِسَالَت میں حاضِر ہوئے توآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے اِعراض فرمایا اور پہلے کی طرح تَوَجُّہ نہ فرمائی۔انہوں نے صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سےسرکارِ دو۲ جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے رُخِ اَنْوَر کی تبدیلی کا سَبَب پوچھا تو انہوں نے حقیقت بتا دی،چنانچہ انہوں نے فوراً جاکر اس قُبَّہ کو گرا دیا۔اس کے بعدجب رسولِ اَکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوبارہ اس مَقام سے گزَرے اور قُبَّہ نہ دیکھا تو اس کے مُتَعَلِّق دَرْیَافْت فرمایا ،جب خَبَردی گئی کہ اس صحابی نے اسے گِرا دیا ہے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے لیے خیر کی دُعا فرمائی۔[2]
بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے گھروں میں چھت کی اُونچائی اِنسانی قَدْ سے کچھ زیادہ ہوتی تھی۔حضرت سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:میں جب صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے گھروں میں داخِل ہوتا تو اپنے ہاتھ سے چھت کو چھولیتا تھا۔
حضرت سیِّدُنا عَمْرو بن دِینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار فرماتے ہیں:جب کوئی شخص چھ۶ گز سے زیادہ اُونچی عِمارَت بناتا ہے تو ایک فِرِشتہ اس سے کہتا ہے:اے سب سے بڑے فاسِق!اور کتنا اونچا کرے گا؟
سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے:جو شخص ضَرورت سے زیادہ عِمارَت تعمیر کرے گا بَروزِ قِیامَت اسے وہ عِمارَت اُٹھانے پر مجبور کیا جائے گا۔[3]
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا گزَر ایک بُلَند و بالا مَکان کے پاس سے ہوا تو اِرشَاد فرمایا:دَرَاہِم نے سَر نکال ہی لیا ہے۔ ایک بار آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا گزَر ایک عامِل کے پاس سے ہوا جس نے بُلَند و بالا مَکان تعمیر کر لیا تھا۔ راوی فرماتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھ سے اِرشَاد فرمایا:ہر خائِن پر دو۲ امین ہوتے ہیں یعنی پانی اور گارا مِٹّی۔ پھر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کے مال کے دو۲ حصّے کیے اور ایک حصّہ بَیتُ المال میں جَمْع کروا دیا۔
دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نِشان ہے:بندے کو ہر شے پر خَرْچ کرنے کا اَجَر مِلتا ہے مگر جو کچھ وہ پانی اور گارے مِٹّی پر خَرْچ کرتا ہے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع