دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

بقدرِ کفایت رزق کے متعلق (8 )فرامینِ مصطفےٰ

(1) …ہم نشینی کے اِعْتِبَار سے بروزِ قِیامَت میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جس نے دنیا میں

میری طرح زِنْدَگی بَسَر کی ہو گی۔[1]

(2) …اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !میری آل کو بَقَدْرِ کِفَایَت رِزْق عَطا فرما۔[2]

(3) … اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس شخص کو عَذاب نہیں دے گا جسے دنیا میں ہر دن نیا رِزْق دیا ہوگا۔

(4) …مُبَارَک ہو اس شخص کو جسے اِسلام کی ہِدَایَت دی گئی اور دنیا میں اسے بَقَدْرِ كِفَایَت رِزْق دیا گیا اور اس نے اس پر قَناعَت بھی کی۔ [3] ایک رِوایَت میں ہے کہ اس نے صَبْر کیا۔ [4]

(5) … بروزِ قِیامَت ہر مال دار اور غریب شخص یہ چاہے گا کہ کاش دنیا میں اس کا رِزْق بَقَدْرِ كِفَایَت ہوتا۔ [5]

(6) … اےاللہ عَزَّ  وَجَلَّ ! جومجھ سے مَحبَّت رکھے اور میری دَعْوَت پر لَـبَّیْك کہے اس کے مال اور اولاد میں کمی فرما دے اور جو مجھ سے بُغْض رکھے اور میری دَعْوَت پر لَـبَّیْك نہ کہے اس کے مال اور اولاد میں کَثْرَت فرما اور اسے اپنے ماننے والوں کی مُوَافِقَت بھی عَطا فرما(تاکہ وہ ان کے ساتھ الجھا رہے)۔ صحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس شخص کو یہ بَدْدُعا دیا کرتے جو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بُغْض رکھتا۔[6]

(7) …دنیا کی کمی آخِرَت کی زِیادَتی کا اور دنیا کی زِیادَتی آخِرَت کی کمی کا باعِث ہے۔[7]

(8) …جس کو بھی دنیا کی کوئی چیز عَطا فرمائی گئی تو اس کا ایک دَرَجَہ کم کر دیا جاتا ہے خواہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں کس قَدْر ہی مُعَزَّز کیوں نہ ہو۔[8]

دنیا دار زاہدین

حضرت سَیِّدُنا اِبراہیم بن احمد خَوَّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ زُہْد کا دعویٰ کرنے والوں کے مُتعلِّق اِرشَاد فرماتے ہیں: بعض لوگوں نے زُہْد کا دعویٰ کیا اور عُمدہ لِباس پہنے تاکہ لوگوں کویہ یقین دِلاسکیں کہ انہیں اسی قسم کے عُمدہ لِباس بَطَورِ تَحائِف دیئے جائیں اور اس لیے بھی کہ لوگ انہیں حِقَارَت کی نَظَر سے نہ دیکھیں جیسا کہ  فُقَرا کو دیکھتے ہیں اور نہ انہیں مسکینوں کی طرح صَدَقہ وخیرات دیں۔ جب ان لوگوں کو مَجْبُور کر کے حقیقَتِ حَال دَرْیَافْت کی جاتی ہے تو وہ اپنے لیے ان باتوں کے جَواز کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ وہ وَسیع عِلْم والے اور سُنّت کے پیکر ہیں،دنیا ان کے پاس آتی ہے وہ اس کے پاس نہیں جاتے  اور وہ تَحائِف  بھی دوسروں کی وجہ سے قبول کرتے ہیں۔یہ سب لوگ دین کے بَدْلے دنیا کھانے والے ہیں، انہیں باطِن کی صَفائی کی کوئی فِکْر ہے نہ اَخلاقیات کی اِصلاح کی کوئی پَروا،ان کی ظاہِری صِفات ان پر غالِب ہوتی ہیں اوروہ دنیا کی طرف مائل ہونے اور خواہشات کی پَیروی کرنے کے باوُجُود اپنے لیے بُلَند مَقام کا دعویٰ کرتے ہیں۔حضرت سَیِّدُنا خَوَّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ دو۲ کپڑوں سے زیادہ نہیں پہنتے تھے یعنی دو۲ چادَریں پہنتے یا قمیص اور تہہ بنداور اس صُورَت میں قمیص کے دامَن کو موڑ کر سَر پر ڈال لیتے  اور یوں اپنا سَر ڈھانپ لیتے۔ نیز فقیر کے لیے ایسا ہی لِباس پسند فرماتے۔

(اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)فَقْرکے فَضائل،فُقَرا کی فضیلت،دنیا کی مَذمَّت اور اَغْنِیا کے عُیوب کی نشاندہی پر مُشْتَمِل روایات ہماری ذِکْر کردہ رِوایات سے بَہُت زیادہ ہیں،ہم نے یہاں ان تمام رِوایات کو جَمْع کرنے کا قَصْد کیا ہے نہ ان سے بَہُت زیادہ اِسْتِدْلَال ہمارا مَقْصُود ہے۔

تعمیرات میں زہد

فالتو عِمارتیں بنانا تَرْک کرنا بھی زُہْد ہے اور یہ کہ بُلَند و بالااور مَضْبُوط عِمارَت تعمیر کی جائے نہ بغیر ضَرورت کے کوئی عِمارَت مِٹّی (یعنی گارے، سیمنٹ وغیرہ) سے بنائی جائے۔

لمبی اُمِّیدوں کے مُعاملے میں سب سے پہلی چیز

مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وِصالِ ظاہِری کے بعد سب سے پہلے جو بِدْعَت پیدا ہوئی وہ (آٹا چھاننے والی)چھلنیوں اور دَسْتَر خَوان کا اِسْتِعمال کرنا ہے اور لمبی اُمِّیدوں کے مُعَامَلے میں جو چیز سب سے پہلے ظاہِر ہوئی وہ تَدْرِیْز اور تَشْیِیْد ہے۔تَدْرِیْزسے مُراد کپڑوں کی عُمدہ اور باریک سِلائی ہے، جبکہ پہلے لمبے لمبے ٹانکوں سے کپڑے سیئے جاتے تھے اور تَشْیِیْد سے مُراد چونے اوراینٹوں سےمکان بنانا ہے جبکہ پہلےکھجور کی شاخوں سے مکان بنائے جاتے تھے۔

ایک زمانہ ایسا آئے گا

ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَادفرمایا: لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ وہ عِمارتوں کو بھی یمنی چادَروں کی طرح مُنَقَّش بنایا کریں گے۔

سب سے پہلے پختہ عمارت کس نے بنوائی؟

 



[1]………الزھد لاحمد بن حنبل ،  زھد ابی ذر ، ص۱۷۰ ، حدیث:  ۷۹۵ ، بغیر قلیل

                                                مسند احمد  ،  حدیث ابی ذر الغفاری ، ۸/  ۱۰۶ ، حدیث:  ۲۱۵۱۴ ، بغیر قلیل

[2]………مسلم ،  کتاب الزکاة ،  باب فى الكفاف والقناعة ، ص۵۲۴ ، حديث:  ۱۰۵۵

[3]………ترمذی ،  کتاب الزھد ،  باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیه ، ۴/  ۱۵۶ ، حدیث:  ۲۳۵۶ ،  بتغیر

[4]………صحیح ابن حبان ،  کتاب الرقائق ، باب الفقر والزھد والقناعة ، ۲/ ۳۱ ، حدیث:  ۶۶۹ ،  بتغیر

                                                ترمذی ، کتاب الزھد ،  باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیه ، $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن