دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

دوہری تہہ والے کمبل پر آرام فرمایا کرتے تھے، اس لیے پوری رات کروٹیں بدلتے رہے،جب صُبْح ہوئی تو اِرشَاد فرمایا:میرے لئے وہی پُرانا کمبل بچھایا کرو اور اس نئے بستر کو مجھ سے دُور کردو ، اس نے مجھے ساری رات سونے نہیں دیا۔[1]

(4)گھر میں موجود دیناروں نے سونے نہ دیا

ايك مرتبہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمكی خِدْمَت میں عِشَا کے وَقْت کہیں سے پانچ۵ یاچھ۶ دینار آئے جو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رات کو گھر میں رکھ دئیے،مگر ان کی وجہ سے آپ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رات کو سو نہ پائے یہاں تک کہ رات کے آخِری حصّے میں انہیں گھر سے نِکال دیا (یعنی صَدَقَہ کردیا)۔اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہافرماتی ہیں:اس کے بعدآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آرام فرمایا یہاں تک کہ میں نے آپ کے سانسوں کی آواز سنی۔اس موقع پر اِرشَاد فرمایا: میں اپنے رب کے بارے میں کیا گمان کرتا اگران دِیناروں کے ہوتے ہوئے مجھے موت آجاتی؟[2]

(5)نعلینِ پاک سے نئے تسمے نکلوا دئیے

آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عربی  نعلیْنِ پاک کے تَسمے پرانے ہوگئے تو ان کی جگہ نئے تسمے ڈال دیئے گئے،آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ان میں نَماز ادا فرمائی[3]، سلام پھیرنے کے بعد اِرشَاد فرمایا:ان نئے  تسموں کی جگہ وہی پُرانے تسمے ڈال دو۲ کیونکہ نَماز کے دوران میری تَوَجُّہ ان کی طرف ہوگئی تھی ۔[4]

(6)توجہ بٹانے والی شے دُور کر دی

آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مرتبہ انگوٹھی پہن رکھی تھی،جب اس پر نَظَر پڑی جبکہ مِنْبَر پر تشریف فرما تھے ۔تو اسے اُتار کر پھینک دیا اور اِرشَاد فرمایا:اس نے میری تَوَجُّہ تم سے ہٹا دی تھی ،میں ایک نَظَر اس کو دیکھتا اور ایک نَظَر تم کو۔[5]

مَحبَّتِ رسول کی علامت

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ ۳، اٰل عمران:۳۱)        

ترجمۂ کنز الایمان:اے مَحْبُوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: مَنْ اَحَبَّنِىْ فَلْيَسْتَنَّ بِسُنَّتِىْ ۔ یعنی جو مجھ سے مَحبَّت کرتا ہے وہ میری  سنّت کو اِخْتِیار کرے۔[6] ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے:عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِىْ وَسُنَّةِ الْـخُلَفَآءِ الرَّاشِدِيْنَ مِنْ بَعْدِىْ عَضُّوْاعَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ۔ یعنی تم پر میری اور میرے بعد خُلَفَائے رَاشِدِین کی سنّت کو اِخْتِیار کرنا لازِم ہے،اسے مَضْبُوطِی سے تھامے رکھنا۔[7]

حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:مَحبَّتِ باری تعالیٰ کی عَلامَت مَحبَّتِ محبوبِ باری  ہے اور مَحبَّتِ محبوبِ باری کی عَلامَت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں سے مَحبَّت ہے،  آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنتوں سے مَحبَّت کی عَلامَت دنیا سے نَفْرَت ہے اور دنیا سے نَفْرَت کی عَلامَت یہ ہے کہ اس سے صِرف زَادِ راہ اور بَقَدْرِ ضَرورت ہی لیا جائے۔ 

جنّت میں سرکار تک رسائی کا آسان ذریعہ

سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُناعائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہاسے اِرشَاد فرمایا:اگر تم (جنّت میں)میرا ساتھ چاہتی  ہوتو مال داروں کی صُحْبَت سے بچنا اور کسی کپڑے کو اس وَقْت تک پُرانا نہ سمجھنا جب تک اسے پیوند نہ لگالو۔[8]

نئے جوتے مسکین کو دیدئیے

آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مرتبہ نئے جُوتے بنوائے جن کا دِیدہ زیب ہونا  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پسند آیا تو فوراً سجدے میں تشریف لے گئے اور اِرشَاد فرمایا:ان جُوتوں کی خُوبْصُورَتی مجھے اچھّی لگی ہے مگر میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے تواضُع کرتا ہوں اس  خوف سے کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے۔پھر وہ جُوتے لے کر باہَر تشریف لائے اور جو پہلا مسکین ملا اسے عِنَایَت فرمادیئے۔پھرامیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اِرشَاد فرمایا کہ وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے جوتے بنوا دیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نےآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو وہ جوتے پہنے دیکھا۔ یہ جوتے ایسے چمڑے کے بنے ہوئے تھے جس پر بال نہیں تھے۔

 



[1]………طبقات ابن سعد ،  ذکر ضجاع رسول اللہ وافتراشه ، ۱/ ۳۶۰ ، بتغیر

[2]………مسند احمد  ،  حدیث ام سلمة ، ۱۰/ ۲۱۳ ، حدیث:  ۲۶۷۳۴ ، بتغیر

                                                مسند احمد  ،  مسند السيدة عائشة ، ۹/ ۵۴۷ ، حدیث:  ۲۵۵۴۸ ، بتغیر

[3]………مُفَسِّرِ شَہِیر ، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰة المناجیح ، جلد1 ، صفحہ469پرفرماتے ہیں :   مَوزوں  میں  نَماز ادا کرنا سنّت ہے لیکن جُوتے اگر پاک ہوں  اور اتنے نَرْم کہ سجدہ میں حَرَج واقِع نہ ہو کہ پاؤں  کی انگلیاں  بخوبی مُڑ کر قِبلہ رُو ہو سکیں  تو ان میں  نَماز جائز ہے۔ ہمارے ملک کی جُوتیاں  نماز کے قابِل نہیں  ،  نیز اب لوگ صحابہ کِرام جیسے با اَدَب نہیں  ،  اگر انہیں  جُوتوں میں  نَماز کیاِجازَت دی جائے تو مُصلّے اور مسجدیں  گندگی سے بھر دیں  گے ، اس لیے اب جُوتے اُتار کر ہی مسجِدوں  میں آنا اور نماز پڑھنا چاہیے۔( از مرقاۃ و شامی)مزید فرماتے ہیں  :  خَیال رہے کہ مَسْجِد یا نَماز کے اَدَب کے لیے جُوتا اتارنا قرآن شریف سے ثابِت ہے۔ رب فرماتا ہے:   فَاخْلَعْ نَعْلَیْكَۚ-اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًىؕ(۱۲)۱۶ ،  طه:  ۱۲)۔ اے موسیٰ تم عزّت والے جنگل میں  ہو جُوتے اُتار دو۔ بعض با اَدَب مُرید اپنے شیخ کے شہر میں  جُوتے نہیں  پہنتے ،  اِمام مالِک زمینِ مدینہ میں  کبھی گھوڑے یا کسی اور سواری پر سوار نہ ہوئے ،  ان کے آداب کا ماخذ یہ آیت ہے۔

[4]………الزھد  لابن مبارك ،  باب فی التواضع ،  ص۱۳۵ ،  حدیث:  ۴۰۲

[5]………مسلم ،  کتاب اللباس والزينة ،  باب تحریم خاتم الذھب علی الرجالالخ ، ص۱۱۵۷ ، حدیث:  ۲۰۸۹$&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن