30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
٭… آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دو۲ سفيد اُونی بڑی چادَریں پہنتے تھے جنہیں حُلّہ کہا جاتا کیونکہ یہ دونوں ایک ہی جِنْس کے کپڑے کی ہوتیں۔
٭…بعض اَوقات ایک ہی جِنْس کے دو۲ کپڑے بھی زیبِ تَن فرمایا کرتے تھے۔ [1]
٭… آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض اَوقات یمنی یا سَحولی (یعنی یمن کے علاقے سَحول کی بنی ہوئی) دو۲ موٹی چادَریں زیْبِ تَن فرمایا کرتے تھے۔[2]
٭… ایک رِوایَت میں ہے کہ (سَراور داڑھی مُبارَک میں بَکَثْرَت تیل اِسْتِعمال فرمانے کی وجہ سے) آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مبارک قمیص یوں محسوس ہوتی گویا تیل والی ہو۔
سرکار کابعض چیزوں کو ناپسندکرنا
دو۲ جَہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دِن سُنْدُس کی بنی ہوئی زَرْد دھاری دار ریشمی چادَر پہنی،جس کی قیمت200 دِرْہَم تھی۔صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس چادَر کو چھوتے اور حیرت سے عَرْض کرتے:یارسول اللہصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا یہ آپ پر جنّت سے نازِل کی گئی ہے؟ حالانکہ یہ چادَر اِسْکَنْدَرِیَّہ کے بادشاہ مُقَوْقَس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَت میں تحفۃً بھیجی تھی اور آپ نے مَحْض اس کے اِعزاز کے لئے یہ چادَر پہنی،پھر اُتار کر اَزْرُوئے بھلائی ایک مُشْرِک کو بھیج دی۔[3] اس کے بعدآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ریشم اور دیباج کا پہننا حَرام قرار دیدیا۔[4]
آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ریشم اس لیے پہنا تاکہ بعد میں اس کی حُرْمَت پختہ ہو جائے،جیسا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دِن سونے کی انگوٹھی پہنی ،پھر اُتار دی اور اس کا پہننا مَردوں کے لئے حَرام فرمادیا [5] اورجیسا کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےحضرت سیِّدَتُنا بَرِیْرَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے متعلِّق اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے اِرشَاد فرمایا:اِشْتَرِطِیْ لِاَهْلِهَا الْوَ لَاء یعنی اس کے گھر والوں کے لئے وِلاکی شَرْط کرلو۔جب اُنہوں نے یہ شَرْط کرلی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مِنْبَر پر تشریف لائے اور اسے حَرام فرما دیا[6] تاکہ اس کی حُرْمَت مُؤکَّد ہو جائے۔
اسی طرح آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے(غزوہ اَوْطاس میں) تین۳دن کے لئےمتْعہ یعنی عارِضی نِکاح کو مُباح فرمایا اور پھر اسے بھی حَرام فرمادیا[7] تاکہ نِکاح کا مُعَامَلہ مُؤکَّد ہو۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) عُلَمائے دنیا ایسی رِوایات (جن میں سرکارِ دو۲ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی چیز کو جائز قرار دیا مگر پھر حَرام ٹھہرا دیا ہو، ان )کو حُجّت بنا کر اپنے نُفُوس کے لیے کوئی (آسانی کی)راہ تلاش کر لیتے ہیں، دیگر لوگوں کو بھی اس بات کی دَعْوَت دیتے ہیں اور مُتَشَابِہ حدیث کی تاویل کرتے ہوئے ظاہِر یہ کرتے ہیں کہ وہ راہِ حَق کی دَعْوَت دے رہے ہیں۔ یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جن کے دِلوں میں کجی ہے اور وہ دنیا کی طَلَب اور فتنہ برپا کرنے کے لیے قرآنِ کریم کی مُتَشَابِہ آیاتِ بیّنات کی اپنی نفسانی خواہشات کے مُطابِق تاویل کر لیتے ہیں۔اس لیے کہ فرامینِ مصطفےٰ فرامینِ باری تعالیٰ کا مَفہوم ہیں اور ان میں بھی ناسِخ و مَنْسُوخ، مُحْکَم و مُتَشَابِہ اور خاص و عام کی مِثالیں مَوجُود ہیں۔ عُلَمائے دنیا اور اپنی نفسانی خواہشات کی پَیروی کرنے والے لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُحْکَم اَقوال واَفعال سے منہ موڑ کر مُتَشَابِہ اَقوال واَفعال اِخْتِیار کرتے ہیں۔
سرکار کی عاجزی کے (6) مختلف واقعات
(1)عمدہ چادر کسی کو عطا فرما دی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مرتبہ خَـمِیْصَہ یعنی سیاہ دھاریدار چادَر میں نماز ادا فرمائی،سلام پھیرنے کے بعد اِرشَاد فرمایا:شَغَلَنِىَ النَّظْرُ اِلٰى هٰذِهٖ اِذْهَبُوْا بِهَا اِلٰی اَبِیْ جَهْمَ وَائْتُوْنِىْ بِاَنْبِجَانِيَّتِهٖیعنی اس کی طرف دیکھنے نے مجھے مشغول کردیا،اسے ابو جَہم کے پاس لے جاؤ اور ان کی چادَر مجھے لا دو[8]۔[9] گویاآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عُمدہ کپڑےکے بجائے معمولی چادَر پسند فرمائی۔
(2)دنیا یاد دِلانے والےپردے کا حشر
سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا کے حُجرے کے دروازے پر ایک پردہ مُلَاحَظہ فرمایا تو اسے پھاڑ دیا [10]اور اِرشَاد فرمایا:كُلَّمَا رَاَیْتُهٗ ذَكَرْتُ الدُّنْيَا۔ میں اسے جب بھی دیکھتا ہوں مجھے دنیا یاد آتی ہے۔اَرْسِلِیْ بِهٖ اِلٰی اٰلِ فُلَان۔ اسے فلاں کے گھر بھیج دو۔
(3)بستر کی تبدیلی سے نیند نہ آئی
ایک رات اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہانے سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے نیا بِسْتَر بچھایا۔ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چونکہ ایک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع