دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

لباس کیسا ہونا چاہئے؟

سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: جو شخص لِباسِ شُہْرَت

پہنتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے اِعراض فرما لیتا ہےیہاں تک کہ وہ اسے اُتاردے،خواہ وہ شخص اس کا  مَحْبُوب بندہ ہی ہو۔[1]

حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی اور بعض دوسرے بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین فرماتے ہیں:وہ لِباس پہنو جو تمہیں عُلَما کے ہاں مَشْہُور کرے نہ جاہلوں کے ہاں ذلیل کرے۔

مزید فرماتے ہیں: اگر کوئی فقیر میرے پاس سے گزرے اور میں نَماز پڑھتے ہوئے اسے جانے دوں تو یہ جائز ہے اور کوئی دنیا دار میرے پاس سے گزرے اور اس پر یہ عُمدہ لِباس ہو تو میں اس سے ناراض ہوتا ہوں اور اسے نہ نکلنے دوں تو یہ بھی جائز ہے۔

فقرا کی تعظیم

کسی بُزرگ کا قول ہے کہ میں نے حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی مَـحْفِل میں کسی کو مالداروں سے زیادہ ذلیل دیکھا نہ فُقَرا سے زیادہ کسی کو مُعَزَّز دیکھا۔

ایک اور بُزرگ کا قول ہے کہ جب ہم حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتے تو تَمنّا کرتے: کاش!ہم فقیر ہوتے۔ کیونکہ ہم دیکھتے تھے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فُقَرا سے خُصُوصی تَوَجُّہ اور عزّت سے پیش آتے ہیں۔

ایک بُزرگ کا قول ہے کہ عالِم وہ ہے جوفقیر کو غنی اور غنی کو  فقیر سمجھے۔

اسلاف کا لباس

کسی کا قول ہے کہ حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے دو۲ کپڑوں اور جُوتے کی قیمت ایک دِرْہَم ،چار۴دَانِق (ایک دانِق دِرْہَم کا چھٹا حصّہ ہوتا ہے) لگائی گئی اور حضرت سَیِّدُنا اِبْنِ شُبْرُمَہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ اچھّے کپڑے وہ ہیں جو میری خِدْمَت کریں اور بُرے وہ ہیں جن کی میں خِدْمَت کروں۔

ایک اور بُزرگ کا قول ہے کہ مجھے سب سے زیادہ مَحْبُوب وہ لِباس ہے جس کی مجھے خِدْمَت نہ کرنا پڑے اور مجھے سب سے زیادہ پسند وہ  کھانا ہے جس کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ دھونا پڑیں۔

کسی عالِم کا قول ہے: ایسا لِباس پہنو جوتمہیں عام لوگوں میں مِلا دے اور ایسا لِباس نہ پہنو جو تمہیں مَشْہُور کر دے اور تمہیں ہی دیکھا جائے۔

ایک رِوایَت میں راوی فرماتے ہیں کہ ہم نے امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی قمیص میں لگے ہوئے پیوند شُمار کئے تو وہ 14 تھے جن میں سے بعض چمڑے کے تھے۔

ایک عالِم فرماتے ہیں: انسان کی پیٹھ پر کپڑوں کی کَثْرَت کا بوجھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے ایک سزا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا خَوَّاص رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ لِباس میں دو۲ سے زائد کپڑے نہیں پہنتے تھے، یعنی دو۲ چادَریں ہوتیں یا ایک قمیص اور اس کے نیچے تہبند۔اس صُورَت میں قمیص کے دامَن کو سَر پر اُلَٹ کر باندھ لیتے اور یوں سَر ڈھانپ لیتے۔ فقیر کے لیے یہی پسندیدہ لِباس ہے اور یہی لِباس کی حَد بھی ہے۔

حضرت سَیِّدُنا ابو سلیمان دَارانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں: (پہننے والا)کپڑا تین۳قِسْم کا ہوتا ہے: ایک وہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے ہوتا ہے،دوسرا نَفْس کے لیےاور تیسرا لوگوں (کو دِکھانے) کے لئے ہوتا ہے۔ جو کپڑا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے ہوتا ہے اس سے مُراد وہ کپڑا ہے جو سَتر کو ڈھانپ دے اور فَرْض کی اَدَائیگی کے کام آئے۔ نَفْس کے لیے وہ کپڑا مُراد ہے جس کی نَرْمی اور عُمْدَگی نَفْس کو مَطْلُوب ہوتی ہے اور لوگوں کے لیے وہ کپڑا مُراد ہے جس میں جَوہَر اور حُسن کو تلاش کیا جائے۔پھر اِرشَاد فرمایا: بعض اَوقات ایک ہی قِسْم کا کپڑا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے اور نَفْس کے لیے کافی ہوتا ہے۔

بعض عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ مَردوں کا لباس 40 دِرْہَم سے زائد قیمت کا ہو۔ بعض نے 100دِرْہَم تک کی اِجازَت دی ہے اور اس سے زائد کو سب نے اِسراف شُمار کیا ہے۔ جُمہور عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام اور بُزرگ تابعین عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے لِباس کی قیمت 20 سے 30 دِرْہَم کے درمیان ہوتی جبکہ ان سے پہلے صحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اِزار  کی قیمت 12دِرْہَم تک ہوتی۔ صحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عام طور پر دو۲ کپڑوں پر مُشْتَمِل لِباس پہنتے جس کی قیمت تقریباً 20دِرْہَم ہوتی۔

سرکارکا لباس

٭نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چار۴دِرْہَم کا ایک کپڑا خرید فرمایا۔ [2]

٭ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو دوکپڑے زیْبِ تَن فرماتے تھے ان کی قیمت 10 دِرْہَم سے ایک دینار تک ہوتی۔

٭آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مُبارَک تہہ بند کی لمبائی ساڑھےچار۴گزتھی۔[3]

٭آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تین۳دِرْہَم کے عِوَض پاجامہ خریدفرمایا تھا۔[4]

 



[1]………ابن ماجه ،  کتاب اللباس ،  باب من لبس شهرة من الثياب ، ۴/ ۱۶۳ ، حدیث:  ۳۶۰۸ ، بدون وان کان عندہ حبیباً

                                                الجامع  لمعمر بن راشد فی آخر المصنف لعبد الرزاق  ، باب شهرة الثياب ، ۱۰/ ۱۲۳ ، حدیث:  ۲۰۱۴۵ ،  بتغیرقلیل

[2]………معجم کبیر ،  ۱۲/  ۴۴۱ ، حدیث:  ۱۳۶۰۳

[3]………طبقات ابن سعد ،  ذکر منبر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ، ۱/  ۱۹۲

[4]………سنن کبرٰی للنسائی ،  کتاب الزينة ،  السراويل ، ۵/  ۴۸۲ ، حدیث:  ۹۶۷۱

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن