30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا عیسٰی عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں وَحِی فرمائی:اے ابنِ آدَم!
٭…اپنی زِنْدَگی کے اَیَّام میں اس شخص کی طرح روتا رہ جس نے دنیا کو اَلْوَدَاع کہہ دیا ہو اور اب اس کی رَغْبَت ان چیزوں میں ہو جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پاس ہیں۔
٭…تھوڑی سی دنیا کو کافی سمجھ تاکہ تجھے رُوکھی سُوکھی کافی ہو۔
٭…میں تجھے سچّی بات بتا رہا ہوں کہ تجھے اپنے ہر دن اور گھڑی کا حِساب دینا ہو گا۔
٭…دنیا سے جو کچھ تو لے رہا ہے اور جن مُعَامَلات میں خَرْچ کر رہا ہے ہر بات تیرے نامۂ اَعمال میں لکھی جارہی ہے، لہٰذا اسی کے مُطابِق عَمَل کر کہ تجھ سے اس بارے میں پوچھا جائے گا۔
٭…اگر تو ان وعدوں کو جان لیتا جو میں نے صَالِـحِین سے کیے ہیں تو تیری جان نِکَل جاتی۔
حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام فرماتے ہیں : دنیا کی حَلَاوَت آخِرَت کی کَڑوَاہَٹ ہے[1] اور لِباس کی عُمْدَگی دلوں کا تکبُّر یعنی ان کا خود پسندی و غُرور میں مبتلا ہونا ہے[2] اور شِکَمْ سَیْرِی نَفْس کی طَاقَت و اِجْتِمَاعِیَّت ہے۔ میں تمہیں حَق بات بتا رہا ہوں: جس طرح مریض عُمدہ کھانے سے لذّت نہیں پاتا اسی طرح دنیا کو پسند کرنے والا عِبَادَت کی حَلَاوَت نہیں پاتا۔
دَرْج ذیل باتیں بھی زُہْد ہیں:
٭… نَرْم و مُلائم اور پسندیدہ و جاذِبِ نَظَر لِباس کا تَرْک کرنا۔
٭… عُمدہ کھانوں سے لُطْف اَنْدَوز ہونے سے اِجْتِنَابکرنا۔
٭… نعمتوں والے جن باتوں کو مَرْغُوب جانتے ہیں ان سے دُور رہنا۔
٭…اہلِ ثَروَت جن زیب و زِیْنَت اور اَسباب و آلاتِ فَخْر کو اِخْتِیار کرتے ہیں ان کا تَرْک کرنا۔
٭… ایک ہی چیز کو دیگر بَہُت سی اشیا میں اِسْتِعمال کرنا۔ سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا سامان میں یہی طریقہ رہا ہے کہ وہ اَسباب میں کمی کو پسند فرماتے جبکہ دنیا دار لوگ ایک ہی شے کے لیے بَہُت سی اَشیا اِسْتِعمال کرتے ہیں جو تَـکَاثُر یعنی زِیادَتی کا راستہ ہے اور یہی باتیں دنیا کے دروازے ہیں۔
کسی بُزرگ کا قول ہے :زُہْد کی اِبْتِدَا لِباس سے ہوتی ہے۔ کسی عالِم کا قول ہے : جس کا لِباس باریک ہو اس کا دِین بھی پتلا و باریک ہو جاتا ہے۔ حضرت سَیِّدُنا ابنِ مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ایک لِباس دوسرے لِباس کے اس وَقْت مُشَابِہ ہوتا ہے جب ایک دل دوسرے دِل کے مُشَابِہ ہو جاتا ہے۔[3]
ایک مَشْہُور حدیثِ پاک میں ہے کہ شِکَسْتَہ حَالی اِیمان سے ہے۔[4]
ایک قول کے مُطابِق یہاں لِباس میں شِکَسْتَہ حَالی کے قریب ہونا مُراد ہے۔ جبکہ اسی بات کی وَضَاحَت ایک اور حدیثِ پاک میں کچھ یوں مَرْوِی ہے کہ حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جس نے خُوبْصُورَت لِباس پر قادِر ہونے کے باوُجُود اسے مَحْض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَضا کی خاطِر تواضُع اِخْتِیار کرتے ہوئے پہننا چھوڑ دیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اِخْتِیار عَطا فرماتا ہے کہ وہ اِیمان کے حُلّوں (یعنی خُوبْصُورَت لِباسوں)میں سے جو چاہے زیبِ تَن کر لے۔[5] ایک رِوایَت میں یہ اَلفاظ ہیں:جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے زیب و زِیْنَت تَرْک کی اور اس کی خاطِر تواضُع کرتے ہوئے اور اس کی رَضا کے حُصُول کے لیے خُوبْصُورَت لِباس تَرْک کردیاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر حَق ہے کہ وہ اس کی خاطِر بے مِثل و غیر معمولی جنّتی لِباس کو یَاقُوت سے بنی کپڑوں کی اَلماری میں جَمْع فرما دے۔[6]
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اَہْلِ قُبا کے پاس تشریف لائے تو اَْہلِ قُبا شَہْد مِلا دُودھ کا شَرْبَت لے کر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ ناز میں حاضِر ہوئے مگر آپ نے پیالہ دَسْتِ اَقْدَس سے نیچے رکھ دیا اور اِرشَاد فرمایا:میں اسے حَرام نہیں کہتا مگر میں اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے تواضُع اِخْتِیار کرتے ہوئے چھوڑ رہا ہوں۔[7]
ٹھنڈا پانی پینے کا بھی حساب ہو گا
سَخْت گرمی کے دِن امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمَت میں ٹھنڈے پانی اور شَہْد کا شَرْبَت پیش کیا گیا تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:مجھ سے اس
[1]………الزھدلاحمد بن حنبل ، زهد عيسٰى على نبينا وعليه الصلاة والسلام ، ص۱۲۷ ، حدیث: ۴۸۴
[2]………موسوعة ابن ابی الدنيا ، كتاب التواضع والخمول ، باب التواضع فی اللباس ، ۳/ ۵۶۴ ، حدیث: ۱۴۵
[3]………الزهدلوکیع ، باب السمت الحسن والخشوع ، ص۵۹۷ ، حديث: ۳۲۴ مصنف ابن ابی شیبة ، كتاب الزهد ، كلام ابن مسعود ، ۸/ ۱۶۲ ، حدیث: ۳۳
[4]………ابن ماجه ، کتاب الزھد ، باب من لا يؤبه له ، ۴/ ۴۳۰ ، حدیث: ۴۱۱۸
[5]………ابو داود ، کتاب الادب ، باب من کظم غیظا ، ۴/ ۳۲۶ ، حدیث: ۴۷۷۸ ، بتغیر
ترمذی ، کتاب صفة القيامة ، باب رقم: ۳۹ ، ۴/ ۲۱۷ ، حدیث: ۲۴۸۹ ، بتغیرقلیل
[6]………موسوعة ابن ابی الدنيا ، كتاب التواضع والخمول ، باب التواضع فی اللباس ، ۳/ ۵۶۶ ، حدیث: ۱۵۶
[7]………نوادر الاصول ، الاصل الثانی وال
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع