30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا جاتا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدمَت میں جب سَیِّدُنایزید رُقاشی، زیاد نُمَیْرِی اور فَرقَد سنجی رَحِمَہُمُ اللہ تعالٰی کی مِثْل قاری حاضِر ہوتے تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اِرشَاد فرماتے: تم سرورِ دو۲جہاں صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صحابہ کے کس قدر مُشابہ ہو! وہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بات سن کر خوش ہوتے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مزید اِرشَاد فرماتے: تمہارے سَر اور تمہاری داڑھیاں مجنوں کے اس شعر کا مِصْدَاق ہیں:
اَمَّـاالْـخِیَامُ فَاِنَّـھَا کَـخِـیَامِـھِـمْ وَاَریٰ نِسَآءَ الْـحَیِّ غَیْرَ نِسَآئِھَا
یہ تمام خیمے ان کے خیموں جیسے ہی ہیں مگر میں اس بستی کی عورتوں کو ان کی عورتوں جیسا نہیں دیکھتا۔
اگر صحابہ کرام تمہیں دیکھتے تو کہتے
کثیر صَحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے مروی ہے کہ اگر سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے تمام صحابہ کرام زندہ ہوتے اور تمہیں دیکھتے تو تمہارے اَعمال میں نمازِ باجماعت کے سِوا کوئی شے مسلمانوں والی نہ پاتے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ وہ تم میں مسلمانوں والی صِرف یہی شے دیکھتے کہ تم سب نماز پڑھتے ہو۔
حضرت سَیِّدُنا اِمام حَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے کہ میں بَہُت سے ایسے لوگوں کی صحبت میں رہا کہ اگر تم انہیں دیکھتے تو یقیناً انہیں مجنوں کہتے اور اگر وہ تمہارے بہترین لوگوں کو دیکھتے تو کہتے کہ ان کا اِسلام میں کوئی حصّہ نہیں۔
قاری 100بندوں میں بھی پہچانا جاتا
حضرت سَیِّدُنا ابو حازِم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَکرَم فرماتے ہیں کہ میں بہت سے قاریوں سے ملا جو حقیقت میں قاری تھے، اگر ان میں سے کوئی ایک بھی سو بندوں میں کھڑا ہوتا تو اپنی حد درجہ تواضُع، حُسْنِ سیرت اور خُشوع و خُضوع کی وجہ سے پہچانا جاتا۔ یقیناً قرآنِ کریم نے نہ صِرف ان کی سیرت پر اپنے گہرے اَثَرات مُرَتّب کئے بلکہ انہیں خُشوع و خُضوع کی دولَت سے بھی سرفراز فرمایا مگر آج کے دور کے لوگ فَوَ اللهِ! مَا هُمْ بِالْقُرَّآءِ وَلٰـكِـنَّهُمُ الْـجُرَآءُ۔ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! یہ حقیقت میں قاری نہیں بلکہ (اَحْکامِ باری تعالیٰ کے خِلاف پر)جرأت کرنے والے ہیں(کہ انہیں عَظَمَت و ہیبتِ کلامِ باری تعالیٰ کی کوئی پروا نہیں)۔
جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی حالت
ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ ہم جنازہ میں شریک ہوتے تو یہ پہچان نہ پاتے کہ ان میں مصیبت کا مارا کون ہے اور نہ یہ پہچان پاتے کہ تعزیت کس سے کریں؟ کیونکہ ہر بندہ شدید غم و اندوہ کا مظہر نظر آتا۔
مزید فرماتے ہیں کہ ان میں ایک شخص کی حالَت جنازہ میں شرکت کے بعد تین۳دن تک ایسی ہوتی کہ اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا جا سکتا۔
حضرت سَیِّدُنا فُضَیْل رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنے زمانے کے قاریوں سے ڈراتے ہوئے فرمایا کرتے کہ ان کی صحبت سے بچو! کیونکہ اگر تم نے کسی بھی مُعَامَلے میں ان کی مُخالَفَت کی تو یہ تمہیں کافِر تک قرار دے دیں گے۔
حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے کہ ایک نوجوان کی صحبت اِخْتِیار کرنا تو مجھے پسند ہو سکتا ہے مگر (آج کل کے)کسی قارِی کی صحبت میں بیٹھنا مجھے بالکل پسند نہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اکثر فرمایا کرتے کہ آج کل جو خوبصورت انداز میں گانا نہیں گا سکتا وہ اَچھّا قاری نہیں بن سکتا۔
بے عیب اشیا میں عیب نکالنے والے
حضرت سَیِّدُنا بِشْر بِن حارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِث فرمایا کرتے کہ کسی نوجوان کی صحبت اِخْتِیار کرنا مجھے اس بات سے بڑھ کر محبوب ہے کہ میں کسی قاری کی صحبت اِخْتِیار کروں۔ پس قاریوں کی صحبت سے بچو! کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو ان اشیا میں بھی عیب نکال لیتے ہیں جو عیب والی نہیں ہوتیں، اگر تم ان کے ساتھ ہو اور (کسی بھی وجہ سے) با جَمَاعَت نماز چھوڑ دو گے تو بھی یہ تمہارے حق میں گواہی دیں گے(کہ تم نے جَمَاعَت کے
ساتھ نماز پڑھی ہے)۔ کیونکہ یہ ہر مُعامَلے میں جہاں حد سے بڑھ جاتے ہیں وہیں بَہُت جلد ہر بات کا انکار بھی کر دیتے ہیں۔ ان تمام باتوں کا سَبَب یہ ہے کہ ان پر جَہالَت غالِب ہوتی ہے اور عُلَمائے کرام کی محافِل میں بَہُت کم شریک ہوتے ہیں،عِلْم کے دشمن ہیں، ریاکاری اور تصنّع و بناوَٹ ان کے اَوصاف کا حِصّہ ہیں، ہر اَچھّی بات کو ناپسند کرتے اور قابلِ مُعافی چھوٹی سی بات پر آپے سے باہَر ہو جاتے ہیں، ان میں عُمدہ اَخلاق پائے جاتے ہیں نہ وہ خوش خُلقی کا نام جانتے ہیں۔ عام لوگوں پر سختی اور تنگی وبخل سے کام لیتے ہیں مگر امیروں پر اپنا حَق جتاتے ہوئے ان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں یہاں تک کہ ایسے لگتا ہے کہ یہ انہی کا رِزْق کھاتے ہیں اور ان کی خاطِر ہی عِبَادَت کرتے ہیں۔ خُوش خلق لوگوں کے لیے ان کے دل میں حد درجہ بُغْض وعِناد پایا جاتا ہے۔
کسی کا قول ہے کہ شریف انسان کی جب ضِیافَت کی جائے تو عجز و انکساری سے پیش آتا ہے مگر جب کسی کمینے کی ضِیافَت کی جائے تو وہ اَکڑتا ہے اور بڑائی و تکبر کا اِظْہَار کرتا ہے۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ جب کسی ایسے شخص کی دَعْوَت کی جائے تو وہ بَہُت زیادہ نیکی کی دعوت کی باتیں کرتا ہے مگر ہر بات میں اپنے پاس بیٹھے ہوئے دوسرے افراد پر بے جا اِعْتِراض کرتا رہتا ہے۔ اس کے کَثْرَت سے نیکی کی باتیں کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود کو نمایاں کرنا چاہتا ہے۔
اِنہی اَسباب کی وجہ سے عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے ایسے لوگوں کا بڑی سختی سے رَدّ کیا اور حکمائے عظام نے ان کی مَذمَّت بیان کی کیونکہ عِلْم وُسْعَت پیدا کرتا ہے اور جہاں عِلْم ہو وہیں اَخلاقِ حسنہ، آدابِ مَحفِل اور اَندَازِ مُرَوّت پائے جاتے ہیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع