30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زہد کی باتیں کرنے کا حق صرف زاہد کو ہے
کسی بزرگ کا فرمان ہے:عُلَمائے رَبّانِیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین حِکْمَت اور نصیحت کی باتیں دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے والوں کے سِوا کسی سے نہ سنتے اور اِرشَاد فرماتے:دنیادار اس کے اہل ہیں نہ اس کے لائق۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا رَجا بِن حَیْوَہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُتَعَلِّق مَنْقُول ہے کہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بَیْتُ الْمَقَدَّس کے ایک زاہِد کی مَـحْفِل میں شریک ہو کر اس کی باتیں سنا کرتے تھے۔ ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اس زاہِد کی مَـحْفِل میں تشریف لائے تو دیکھا کہ لوگوں کی کثیر تَعداد جَمْع ہے ، آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پیچھے ہی بیٹھ گئے اور یہ خَیال کیا کہ وہ زاہِد بھی ان لوگوں میں ہی تشریف فرما ہوں گے مگر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک بُزرگ نے مَـجْلِس میں زُہْد کی باتیں شُروع کر دیں، وہ بَیْتُ الْمَقَدَّس شریف کے مُؤَذِّن بھی تھے اور ان کے باتیں کرنے میں کوئی حَرَج بھی نہ تھا لیکن حضرت سَیِّدُنا رَجا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح نے ان کی باتیں سننے سے اِنکار کر دیااور پوچھا:یہ بولنے والا کون ہے؟ اس بُزرگ نے اپنا تَعَارُف کرایا تو آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کو مُعاف فرمائے، ایسی باتیں نہ کیجئے، کیونکہ ہمیں زُہْد کی باتیں صِرف زاہِدوں سے ہی سننے کا حکْم دیا گیا ہے۔
اسی طرح مَنْقُول ہے کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فَارُوق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمَتِ اَقْدَس میں کچھ چادَریں پیش ہوئیں تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک ایک چادَر تمام صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں تقسیم کر دی۔ جُمُعہ کے دن آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جب خود دو۲ چادَروں میں خُطْبَہ دینے لگے اور اِرشَاد فرمایا: اے لوگو! سنو!۔ تو حضرت سَیِّدُنا سلمان فارِسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کھڑے ہو کر عَرْض کی: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم! ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے۔ دَرْیَافْت فرمایا: وہ کیوں؟ عَرْض کی: کیونکہ آپ نے ہم سب کو ایک ایک چادَر عَطا فرمائی جبکہ خود دو۲ چادَروں میں مَلْبُوس ہیں۔ اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے، میں نے اپنے کپڑے دھو رکھے تھے اور میرے پاس ان کے عِلاوہ کوئی اور لِباس نہ تھا، چنانچہ میں نے دوسری چادَر اپنے بیٹے (عبداللہ)سے اُدھار لی ہے۔ یہ سن کر حضرت سَیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عَرْض کی: اب کہیے! ہم آپ کی باتیں سنیں گے۔
حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل سے صِدْق کے مُتعلِّق پوچھا گیا کہ اس سے کیا مُراد ہے؟ اِرشَاد فرمایا: اِخْلَاص۔ عَرْض کی گئی: اِخْلَاص کیا ہوتا ہے؟ اِرشَاد فرمایا: زُہْد۔ عَرْض کی گئی: زُہْد کیا ہوتا ہے؟ اس پر آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ خاموش ہو گئے اور تھوڑی دیر بعد اِرشَاد فرمایا:اس کے مُتعلِّق زاہِدوں سے پوچھو، یعنی حضرت سَیِّدُنا بِشْر بِن حَارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ سے پوچھو۔
زہد کی باتیں کرنے سے پہلے خودزہد کی حالت اختیار کرو
حضرت سَیِّدُنا ابو طالِب وَرَّاق عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّ زَّاق فرماتے ہیں کہ میں مُحَدِّثِیْن کِرام کی ایک جَمَاعَت میں حضرت سَیِّدُنا اِمام احمد بن حنبل عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَ وّل کی خِدْمَت میں حاضِر ہوا، میں نے زُہْد کی روایات پر مبنی ایک کِتاب لکھی تھی تاکہ ان سب کے سامنے پڑھوں۔ ہمارے لیے ایک کمرے میں ایک نئی چٹائی بچھائی گئی اور آپ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنے کمرۂ خاص سے ہمارے پاس تشریف لائے اور جب بیٹھ کر اپنے دَسْتِ مُبَارَک میں کِتاب کا مُسَوَّدَہ لیا تو اسے بند کر کے اِرشَاد فرمایا:اے ابو طالِب!زُہْد کی باتیں حَالَتِ زُہْد میں ہی کی جاتی ہیں۔ یہ فرما کر ہمارے نیچے سے نئی چٹائی ہَٹا دی اور ہم سب مِٹّی پر بیٹھ گئے۔
دنیا سے مَحبَّت ناقابلِ معافی گناہ ہے
بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین فرماتے ہیں: بندے کو یہی گناہ کافی ہے کہ اس کا دنیا سے مَحبَّت کرنا مُعاف نہیں کیا جائے گا۔ اس سے بھی سخت رِوایَت وہ ہے جسے حضرت سَیِّدُنا سفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے حضرت یحییٰ بن سلیم طائفی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے حوالے سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: اگر کوئی بندہ آسمانوں اور زمین کے تمام رہنے والوں کے برابر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت کرے مگر بارگاہِ خُداوندی میں اس حَالَت میں حاضِر ہو کہ دنیا کو مَحْبُوب جاننے والا ہو تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کل بروزِ قِیامَت اسے ایک مخصوص مَقام پر کھڑا کرے گا، پھر تمام مخلوق میں اس کا شُہْرَہ عام کرتے ہوئے اِرشَاد فرمائے گا:سنو! فلاں بن فلاں نے اس شے کو مَحْبُوب جانا جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو ناپسند تھی۔
سَیِّدُنا عمرو بن اسود عنسی کا عہد
حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن جابِر طائی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا عَمْرو بِن اَسْوَد عَنْسِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے یہ عَہْد کیا: میں دِن کو کبھی بھی لِباسِ شُہْرَت پہنوں گا نہ رات کو کمبل اَوڑھ کر سوؤں گا، کبھی کسی کام میں نَرْمی و سَہْل پسندی کا مُظاہَرہ کروں گا نہ کبھی اپنے پیٹ کو کھانے سے بھروں گا۔ ان کا یہ عَہْد سُن کر امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اِرشَاد فرمایا:جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہِدَایَت کو دیکھ کر خوش ہونا چاہتا ہو اسے چاہئے کہ عَمْرو بِن اَسْوَد کو دیکھ لے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے کیا ہی سچّی بات کی ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زُہْد کے مُتعلِّق ایسی ہی روایات مَرْوِی ہیں۔
سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیزکا عہد
حضرت سَیِّدُنا عُمَر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْعَزِ یْز کے سامنے جب حضرت سَیِّدُنا ابو سَلام حبشی عَلَیْہِ رَحمَۃُ
اللہ ِالْقَوِی نے دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان بیان کیا کہ میری اُمَّت کے فُقَرا جنّت میں اَغْنِیا سے پہلے داخِل ہوں گے۔ تو آپ نے دَرْیَافْت فرمایا: ان فُقَرا سے مُراد کون لوگ ہیں؟اس پر حضرت سَیِّدُنا ابو سَلام حبشی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے یہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سنایا:ان سے مُراد وہ لوگ ہیں جن کے بال پراگندہ اور لِباس مَیلے ہوں، جن پر بند دروازے کھولے جائیں نہ وہ ناز و نِعَم میں پلی بڑھی عورتوں سے نِکاح کریں۔ (راوی فرماتے ہیں کہ یہ سن کر) حضرت سَیِّدُنا عُمَر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْعَزِ یْز رونے لگے یہاں تک کہ آپ کی رِیش مُبارَک تَر ہو گئی پھر اِرشَاد فرمایا: میں ان میں سے نہیں ہوں۔ مجھ پر بند دروازے بھی کھولے گئے ہیں، میں نے ناز و نعمتوں میں پلی بڑھی خاتون یعنی اُمِّ بَنِیْن بِنْتِ عَبْدُ الملک بِن مَروان سے نِکاح بھی کر لیا، مگر اب بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم! میں اس وَقْت تک اپنے سَر میں تیل نہ لگاؤں گا جب تک کہ بال پراگندہ نہ ہو جائیں گے اور اپنے کپڑوں کو بھی اس وَقْت تک نہ دھوؤں گا جب تک کہ یہ مَیلے نہ ہو جائیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع