30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سب سے اچھّا اور سب سے دیرپا ہے۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی رِوایَت میں ہے کہ جب یہ آیَتِ مُبارَکہ(وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ (پ ۱۰، التوبة:۳۴) ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ کہ جوڑ کر رکھتے ہیں سونا اور چاندی۔)نازِل ہوئی تو دو۲ جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:ہَلاکَت ہو دِرْہَم و دِینار کے لیے۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے عَرْض کی:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں سونا چاندی جَمْع کرنے سے مَنْع فرمایا ہے تو ہم کیا جَمْع کریں؟ اِرشَاد فرمایا: تم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ وہ ذِکْر کرنے والی زبان، شُکْر کرنے والا دِل اور ایسی نیک بیوی اِخْتِیار کرے جو اُمُورِ آخِرَت میں تمہاری مَدَد کرے۔[1]
تین۳مصیبتیں
حضرت سَیِّدُنا حُذَیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا، مکّی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جس نے دنیا کو آخِرَت پر ترجیح دی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے تین۳چیزوں میں مبتلا کرے گا:
(1) …ایسے غم میں کہ اس کا دِل کبھی اس غم سے خالی نہ ہو گا۔
(2) …ایسے فَقْر میں کہ وہ کبھی غنی نہیں ہو گا۔ (3) …ایسے حِرْص میں کہ وہ کبھی سیر نہیں ہو گا۔[2]
حضرت سَیِّدُنا علی بن ابی طلحہ رَحِمَہُ اللہ سے ایک مُرْسَل حدیث[3] مَرْوِی ہے کہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:بندے کا اِیمان اس وَقْت کامِل ہوتا ہے جب وہ شُہْرَت سے زیادہ گمنامی کو اور اَشیا کی کَثْرَت سے زیادہ ان کی قِلَّت کو پسند کرتا ہے۔[4]
سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی زہد پر مبنی چند باتیں
٭…دنیا ایک پُل ہے جسے عُبُور کر کے آخِرَت کی طرف جانے کے لیے بنایا گیا ہے، لہٰذا اسے عُبُور کرو اور آباد نہ کرو۔[5]
٭…ایک شخص نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے عَرْض کی: مجھے بھی سَفَر میں اپنے ساتھ لے جائیے۔ اِرشَاد فرمایا: اپنا مال خود سے دُور کر کے میرے ساتھ شامِل ہو جاؤ۔ عَرْض کی: میں ایسا نہیں کر سکتا۔ توسختی سے اِرشَاد فرمایا: کیا غنی جنّت میں داخِل ہوگا! یعنی آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے تَعَجُّب کا اِظْہَار کیا۔
٭… حَوَارِیوں نے عَرْض کی:اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نبی! کاش!آپ ہمیں حکْم اِرشَاد فرمائیں کہ ہم ایک عِمارَت تعمیر کر کے اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت کریں۔ اِرشَاد فرمایا:جاؤ! جا کر پانی پر عِمارَت بنا لو۔ عَرْض کرنے لگے:پانی پر عِمارَت کی بنیادیں کیسے قائم رہ سکتی ہیں؟ اِرشَاد فرمایا:تو پھر دنیا کی مَحبَّت پر عِبَادَت کی بنیادیں کیسے اُسْتُوار ہو سکتی ہیں؟
٭…تم میں سے کوئی اِیمان کی حقیقت اس وَقْت ہی پاسکتا ہے جب وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عِبَادَت پر تعریف کو پسند کرے نہ دُنْیَاوِی غِذا کی کوئی پروا کرے۔[6]
حضرت سَیِّدُنا بِشر بِن حارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ فرماتے ہیں:تقویٰ زُہْد کے بغیر عُمدہ نہیں ہو سکتا۔ ایک مرتبہ اِرشَاد فرمایا:عِبَادَت (میں ہی لگے رہنا)اَغْنِیا کو زیبا نہیں، غنی کی عِبَادَت ایسی ہے جیسے کچرا کنڈی پر خُوبْصُورَت باغ ہو اور فقیر کی عِبَادَت ایسی ہے جیسے کسی خُوبْصُورَت گردن میں موتیوں کا ہار ہو۔
عِبَادَت میں فُقَرا کے ان اَوصَاف کا مَفہوم قرآنِ کریم کی ان آیاتِ مُبارَکہ سے ماخوذ ہے:
لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ (پ ۳، البقرة:۲۷۳)
ترجمۂ کنز الایمان:ان فقیروں كے لیے جو راهِ خدا میں روكے گئے۔
تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا (پ ۲۶، الفتح:۲۹) ترجمۂ کنز الایمان:تو انہیں دیكھے گا رُکُوع کرتے سجدے میں گِرتے۔
مَعْلُوم ہوا ان پر عَلامَتِ فَقْر کی عُمْدَگی کی وجہ سے عِبَادَت کا لِباس بھی عُمدہ ہو گیا۔
حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی اپنے شہزادے کو کی گئی وَصیتوں میں ہے کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اپنے شہزادے کو شیطان کے داخِل ہونے کے راستوں سے ڈرایا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک بار اِرشَاد فرمایا: جب شیطان تیرے پاس فَقْر کی جانِب سے آئے تو اسے بتانا کہ حقیقی مالدار وہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طَاعَت کرے اور فقیر وہ ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَعْصِیَّت رُسْوا کرے اور جب شیطان تجھے مالداری کی رَغْبَت دِلائے تو اسے بتانا کہ مالداری اور قرأت کا جَمْع ہونا اچھّا نہیں۔
[1]………ابن ماجه ، کتاب النکاح ، باب افضل النساء ، ۲/ ۴۱۳ ، حدیث: ۱۸۵۶ ، بتغیر
مسند احمد ، احادیث رجال من اصحاب النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، ۹/ ۴۲ ، حدیث: ۲۳۱۶۲
[2]………موسوعة ابن ابى الدنيا ، كتاب ذم الدنيا ، ۵/ ۳۳ ، حدیث: ۳۵ ، عن عیسی علیہ السلام ، بتغیر
[3]………اگر سَنَد میں راوِی کا سُقُوط آخِرِ سَنَد سے ہو تو اسے حَدِیْثِ مُرْسَل کہتے ہیں اور اس فِعل کو اِرسال ۔ جیسے کوئی تابِعی کہے: رسولاللہصَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا۔جُمہورو اِمام اعظم اور اِمام مالِک کے نزدیک ثِقہ کی حَدِیْثِ مُرْسَل حُجّت ہے۔ اس لیے کہ راوی کو اپنے شیخ کے ثقہ ہونے پر اِعْتِمادِ کُلّی نہ ہوتا تو اِرسال نہ کرتا۔(نزہۃ القاری ، ۱/ ۹۵)
[4]$&'); container.innerHTML = innerHTML; }
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع