دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

دیتےہوئے اِرشَاد فرمایا:

فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ﳔ عَنْ ذِكْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاؕ(۲۹) ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِؕ- (پ ۲۷، النجم:۲۹، ۳۰)                      

ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اس سے منہ پھیر لو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زِنْدَگی یہاں تک ان کے عِلْم کی پہنچ ہے۔

ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا(۲۸)(پ ۱۵، الکھف:۲۸)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دِل ہم نے اپنی یاد سے غافِل کر دیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حَد سے گزر گیا۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ میں (فُرُطًا)سے مُراد یہ ہے کہ جن اُمُور سے مَنْع کیا گیا ہے وہ ان سے تَجاوُز کرنے والا اور جن باتوں کے بجا لانے کا حکْم دیا گیا ہے ان میں کوتاہی کرنے والا ہے۔ جبکہ ایک قول کے مُطابِق یہاں اس کا اپنی ہَلاکَت کی طرف بڑھنا مُراد ہے۔

دنیا داروں سے ناراضی

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا داروں پر ناراضی کے باعِث اپنے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بھی مَنْع فرما دیا کہ وہ ان پر کَرَم کی نَظَر نہ فرمائیں۔ بلکہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اس بات سے آگاہ فرمایا کہ اس نے جو دنیا کی زیب و زِیْنَت ان دنیاداروں کے لیے ظاہِر فرمائی ہے وہ مَحْض ان کی آزمائش کے لیے ہے اور قَناعَت و زُہْد ہی بہتر اور باقی رہنے والی چیزیں ہیں۔ چنانچہ ان اُمُور کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اپنے اس فرمانِ عالیشان میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے:

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ- وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱)(پ16، طٰه:۱۳۱)   

ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے اپنی آنكھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافِروں کے جوڑوں کو بَرْتَنے کے  لیے دی ہے جیتی دنیا کی تَازْگی کہ ہم انہیں اس کے سَبَب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رِزْق سب سے اچھّا اور سب سے دیرپا ہے۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

ایک قول کے مُطابِق مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ میں(وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى)سے مُراد قَناعَت ہے، جبکہ ایک قول کے مُطابق ایک دِن کی خوراک ہے اور ایک قول میں ہے کہ یہاں دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنا مُراد ہے اور یہی قول قرآنِ مجید کے زیادہ مُشَابِہ ہے جس کی دلیل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان ہے:

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) (پ ۳۰، الاعلٰی:۱۷)                      ترجمۂ کنز الایمان:اور آخِرَت بہتر اور باقی رہنے والے۔

مَعْلُوم ہوا کہ مذکورہ فرمانِ باری تعالیٰ( وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى)سے مُراد یہ ہے کہ دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے کی وجہ سے آخِرَت میں مِلنے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کا رِزْق بہتر اور سب سے دیر پا ہے ۔ جبکہ ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﳛ (پ ۱۲، ھود:۸۶)                

ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کا دیا جو بچ رہے وہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تمہیں یقین ہو۔ 

یہاں قَناعَت مُراد ہے جبکہ ایک قول کے مُطابِق حَلال رِزْق مُراد ہے یعنی مال و اَسباب کی کَثْرَت کے بجائے رِزْقِ حَلال بہتر ہے کیونکہ اَنْجَام کے اِعْتِبَار سے یہی اَچھّا ہے۔

بہترین مال کی علامت

ایک مرتبہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر 10 ماہ کی حامِلہ اُونٹنیوں کے پاس سے ہوا،ایسی اُونٹنیاں عربوں کے ہاں عُمدہ و بہترین مال شُمار ہوتی تھیں، کیونکہ یہ گوشت، دودھ، بچوں اور اُون کے حُصُول کا ذریعہ تھیں اور ان کا تعلّق ان اُونٹوں سے تھا جن پر سواری کی جاتی ۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نیک لوگوں کی مِثال ان اُونٹنیوں سے دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:لوگ ان 100 اُونٹوں  کی طرح ہیں جن میں سُواری کے قابِل بَہُت کم ہیں۔[1] یعنی اُونٹ تو بَہُت ہیں مگر مذکورہ پانچ۵ اَوصَاف کے حامِل اُونٹ بَہُت کم ہیں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دَرْج ذیل فرمان میں اِنہی اُونٹنیوں کا تذکرہ ہے:

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْﭪ(۴) (پ ۳۰، التکویر:۴)                            ترجمۂ کنز الایمان:اور جب تھلکی (گابھن) اُونٹنیاں چھوٹی پھریں۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ میں ایسی اُونٹنیاں مُراد ہیں جنہیں ان کے مالِکوں نے چھوڑ دیا ہو اور وہ قِیامَت کی ہَولناکیوں کی وجہ سے اپنی جانوں کی فِکْر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے ان کی طرف سے غافِل ہو گئے ہوں۔

راوی فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان اُونٹنیوں کی طرف سے اپنا رُخِ مُبارَک پھیر لیا اور نِگاہیں جھکا لیں تو عَرْض کی گئی:یا رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ ہمارے بہترین مال ہیں،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی طرف کیوں نہیں دیکھ رہے؟ اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے ان کی طرف دیکھنے سے مَنْع فرمایا ہے۔ اس کے بعد آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیَتِ مُبارَکہ تِلاوَت فرمائی: 

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ- وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱)(پ ۱۶، طه:۱۳۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اور اے سننے والے اپنی آنكھیں نہ پھیلا اس کی طرف جو ہم نے کافِروں کے جوڑوں کو بَرْتَنے کے لیے دی ہے جیتی دنیا کی تَازْگی کہ ہم انہیں اس کے سَبَب فتنہ میں ڈالیں اور تیرے رب کا رِزْق



[1]………بخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب رفع الامانة ، ۴/ ۲۴۶ ، حديث:  ۶۴۹۸

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن