30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
النسآء:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اے اِیمان والو آپَس میں ایک دوسرے کے مال ناحَق نہ کھاؤمگر یہ کہ کوئی سَودا تمہاری باہَمی رضامندی کا ہو اور اپنی جانیں قَتْل نہ کرو بے شک اللہ تم پر مِہربان ہے۔
راہِ خُدا سے دوسروں کو روک کر ان کی ہَلاکَت کا باعِث بننے والوں کے مُتعلِّق اِرشَاد فرمایا:
اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ- (پ ۱۰، التوبة:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک بَہُت پَادْرِی اور جوگی لوگوں کا مال ناحَق کھا جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔
حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُتَعَلِّق مَرْوِی رِوایات و حِکایَات میں ہے کہ ایک بار آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا دورانِ سِیَاحَت زمین پر پڑے کچھ سونے کے پاس سے گزَر ہوا، آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ حَوَارِیوں کا ایک گروہ بھی تھا۔ چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس سونے کے پاس کھڑے ہو کر اِرشَاد فرمایا:یہ سب سے بڑا قاتِل ہے، اس سے بچو۔اس کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام اپنے حَوَارِیوں کے ساتھ آگے بڑھ گئے مگر تین۳اَفراد سونے کی خاطِر وہیں رُک گئے۔ دو۲ وہیں رُکے رہے اور تیسرے کو اُنہوں نے کھانے پینے کی کچھ چیزیں خریدنے کے لیے قریبی شہر بھیجا۔ (جب وہ تیسرا گیا) تو شیطان نے پیچھے رہ جانے والے دونوں ساتھیوں کے دِل میں وسوسہ ڈالاکہ کیا تم اس بات پر راضی ہو کہ یہ سونا تین۳برابر حصّوں میں تقسیم ہو؟ اس تیسرے کو
قَتْل کر دو تو یہ صِرف دو ۲حصّوں میں ہی تقسیم ہو گا۔ چنانچہ ان دونوں کا اس بات پر اِتّفاق ہو گیا کہ جب وہ تیسرا شخص واپَس آئے گا تو دونوں مِل کر اسے قَتْل کر ڈالیں گے۔ اُدھر شیطان تیسرے شخص کے پاس گیا اور اس کے دِل میں یہ وسوسہ پیدا کیا کہ کیا تو اس بات سے راضی ہے کہ کُل مال کا تیسرا حصّہ لے، اگر ان دونوں کو قَتْل کر دے تو سارا مال تیرا ہو گا۔ چنانچہ اس نے زَہْر خرید کر اسے کھانے میں ڈال دیا۔ جب وہ ان دونوں کے پاس واپَس آیا تو انہوں نے حملہ کر کے اسے قَتْل کر دیا، اس کے بعد بیٹھ کر کھانا کھانے لگے تو وہ دونوں بھی فوراً مَر گئے۔ جب حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا واپَسی میں اِدھر سے گزَر ہوا تو آپ نے سونے کے اِرْد گِرد ان سب کو مُردہ پایا جبکہ سونا اسی طرح وہاں مَوجُود تھا۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھیوں کو اس پر بڑا تَعَجُّب ہوا اور انہوں نے آپ سے ان کا ماجرا پوچھا تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے انہیں سارا قصّہ بتا دیا۔
حضرت سَیِّدُنا ابن مُبارَک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق سے عَرْض کی گئی: عوام کون ہیں؟ اِرشَاد فرمایا: عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام ۔ عَرْض کی گئی: بادشاہ کون ہیں؟ فرمایا: زاہِدین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین ۔
دل و زبان سے حکمت کی باتوں کا ظہور
حضرت سَیِّدُنا ابن مُسیّب رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے رِوایَت کرتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:جس نے دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے دل میں حِکْمَت ڈال کر اس کی زبان سے حِکْمَت کی باتیں جاری فرمادیتا ہے اور اس کی آنکھوں کو دنیا کی ہر بیماری اور اس کی دوا دِکھا کر اسے سَلَامَتی کے ساتھ دارُ السَّلام (یعنی جنّت)کی طرف لے جاتا ہے۔[1]
ایک رِوایَت میں ہے کہ مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:دنیا اس کا گھر ہے جس کا کوئی گھر نہیں اور اس کا مال ہے جس کا کوئی مال نہیں اور اسے وُہی جَمْع کرتا ہے جس میں کوئی عَقْل نہیں۔[2]
حلال اشیا میں صحابہ کا بے رغبتی برتنا
حضرت سَیِّدُنا حَسَن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: میں نے 70 بدری صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی زِیارَت کی، اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قَسَم!وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَلال کردہ اَشیا میں اس قَدْر بے رغبتی کا مُظاہَرہ کرتے کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حَرام کردہ چیزوں میں نہیں کرتے۔ ایک رِوایَت میں ہے کہ وہ آزمائش و سختی پر اس قَدْر خوش ہوتے کہ تم تنگی و کُشَادَگی پر ایسی فَرْحَت محسوس نہیں کرتے۔ اگر تم انہیں دیکھتے تو کہتے کہ یہ دِیوانے ہیں اور اگر وہ تمہیں دیکھتے تو تمہارے نیک لوگوں کو دیکھ کر فرماتے کہ ان کا کوئی حصّہ نہیں اور بُرے لوگوں کو دیکھ کر فرماتے کہ یہ روزِ قِیامَت پر اِیمان نہیں رکھتے۔ ان میں سے کسی کی خِدْمَت میں حَلال مال پیش کیا جاتا تو وہ قبول نہ کرتا بلکہ اِرشَاد فرماتا:مجھے ڈر ہے کہیں یہ میرے دل کو خراب نہ کر دے۔
جس کے پاس دِل ہو وہ اسے خَراب ہونے سے بچاتا ہے، اس کے بَدَلْنے سے ڈرتا ہے اور اسے دُرُسْت رکھنے والے کام کرتا ہے اور جس کے پاس دِل ہی نہ ہو وہ خواہشات کے اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ بعض اَوقات اَوندھے منہ گِرتا ہے تو دنیا و آخِرَت کا خَسارہ اُٹھاتا ہے یا اس کا شُمار دنیا پر راضی رہنے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نِشانیوں سے غَفْلَت بَرْتَنے والے لوگوں میں ہونے لگتا ہے ۔ یوں وہ محرومی پر راضی ہوتا ہے اور بے مِثل و اَعلیٰ شے پر اسے ترجیح دیتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ(۷) (پ ۱۱، یونس:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور دنیا کی زِنْدَگی پسند کر بیٹھے اور اس پر مطمئن ہو گئے اور وہ جو ہماری آیتوں سے غَفْلَتکرتے ہیں۔
یوں وہ شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِعراض اور ناراضی کا مُسْتَحِق ٹھہرا اور ان لوگوں کی مِثل ہو گیا جن سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اِعراض کرنے اور ان سے کچھ بھی قبول نہ کرنے کا حکْم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع