30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ (پ ۱۳، ابراھیم:۴۸)
ترجمۂ کنز الایمان:جس دِن بَدَل دی جائے گی زمین اس زمین کے سِوا اور آسمان اور لوگ سب نِکَل کھڑے ہوں گے اللہ کے سامنے۔
یہاں زمین کو جہنّم سے اور آسمانوں کو جنّت سے بَدَلْنا مُراد ہے۔ جبکہ سب لوگوں کے نِکَل کھڑنے ہونے سے مُراد یہ ہے کہ سب بارگاہِ خداوندی میں حاضِر ہوں گے۔
زمین و آسمان یعنی جنّت و جہنّم کے مُشاہَدے کے بعد اہلِ ذِکْر و فِکْر اور اہلِ یقین پر عزّت و جَبْرُوت کا ظُہُور ہوتا ہے تو اَفکار مُلک و مَلکُوت سے تَجاوُز کر جاتے ہیں۔ اس لیے کہ جب قُلُوب پر اَنوارِ یقین کی وجہ سے اُفْقِِ اَعلیٰ و جَبْرُوت کا ظُہُور ہوتا ہے تو اہلِ فِکْر کی بصیرت اپنے یقین کی قوّت کی مَدَد سے مُشاہَدۂ جَلال و جَمال میں مَصروف ہو جاتی ہے بشرطیکہ اس پر مَلَـکِیَّت و مَلَـکُوتِیَّت (یعنی عالَمِ ظاہِر و عالَمِ غیب) حِجاب میں نہ ہوں۔
ان دیکھی و نامعلوم چیزوں کی پہچان کا ذریعہ
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے جو باتیں ذِکْر کی ہیں وہ ظاہِر نہیں ہیں جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے خاص بندوں کو ان کے یقین سے بَالاتَر باتوں سے آگاہ نہیں فرمایا۔ البتہ!اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے خاص بندوں کی دیکھی بھالی چیزوں کو اَن دیکھی چیزوں کے دیکھنے کا دروازہ اور مَعْلُوم چیزوں کو نامَعْلُوم چیزوں کی پہچان کا ذریعہ بنا دیا ہے، نیز قرآنِ کریم میں مَوجُود اَحْکامِ خداوندی کی حِفَاظَت کرنے کے سَبَب انہیں عُلَمائے رَبَّانِـیِّیْن و شُہَدائے رُوْحَانِـیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے مَقام و مَرْتَبے پر بھی فائِز فرمایااور وہ اس پر گواہ ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْۙ-وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠(۴۳) (پ ۱۳، الرعد:۴۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ گواہ کافی ہے مجھ میں اور تم میں اور وہ جسے کِتاب کا عِلْم ہے۔
البتہ! عام مومنین کو دنیا میں جو مُشاہَدہ کی دولت نصیب ہوتی ہے وہ اس مُشاہَدہ کے قریب تر ہے مگر وہ اسے عَقْل کے پیمانے پر پَرَکھتے ہیں تو اسے سَزا سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ مَنْقُول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر کی وجہ سے ہی دنیا بندے پر کُشادہ ہوتی ہے اور اس کی نِگاہِ کَرَم کے صَدْقے ہی اس سے دُور ہوتی ہے۔
حضرت سَیِّدُنا داود عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتعلِّق مَرْوِی باتوں میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی جانِب وَحِی فرمائی:کیا آپ جانتے ہیں کہ میں نے آدَم کو دَرَخْت کھانے کی آزمائش میں کیوں مبتلا کیا؟ (پھر خود ہی جواب اِرشَاد فرمایا)تاکہ ان کی لَغْزِش کو دنیا کی آبادی کا سَبَب بنا دوں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اِطَاعَت و فرمانبرداری دنیا کی بربادی کا سَبَب ہے اور اس سے مُراد یہ ہے کہ دنیا سے بے رغبتی کا مُظاہَرہ کیا جائے۔ جیسا کہ ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:دنیا کی مَحبَّت ہر بُرائی کی اَصْل ہے۔[1] کیونکہ یہی اس کی بُنْیَاد ہے مگر یہ طَاعَت عام لوگوں کے بَس میں نہیں کیونکہ ان سے تو دنیا کی آبادی چاہی گئی ہے (نہ کہ بربادی)۔ لہٰذا چند خواص لوگ ہی (اگر زُہْد پر عَمَل پَیرا ہو کر دنیا سے بے رغبتی کا مُظاہَرہ کریں تو یہی) بہتر ہیں کیونکہ ان کی تعداد کی کمی دنیا کی آبادی کے لیے نُقْصَان دہ نہیں۔ اس لیے کہ دنیا کی آبادی دنیا داروں سے چاہی گئی ہے(نہ کہ زاہِدین سے)۔
مَنْقُول ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنا آدَم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے شَجْرِ مَـمْنُوْعَہ کا پھل کھایا تو قَضائے حاجَت کی وجہ سے آپ کے پیٹ میں حَرَکت پیدا ہوئی۔ اس دَرَخْت کے عِلاوہ جنّت کا کوئی بھی دَرَخْت کھانے کی وجہ سے ایسا نہ ہوا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو اسے کھانے سے مَنْع کیا گیا تھا۔ چنانچہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام جنّت میں اِدھر اُدھر پھرنے لگے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایک فرشتے کو حکْم اِرشَاد فرمایا کہ وہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے (اس بے چینی کے مُتَعَلِّق)پوچھے۔چنانچہ اس نے عَرْض کی :آپ کیا چاہتے ہیں؟اِرشَاد فرمایا: میں اپنے پیٹ میں مَوجُود تکلیف دہ شے سے نَجات چاہتا ہوں۔ فرشتے کو حکْم دیا گیا کہ پوچھے:آپ کہاں قَضائے حاجَت کرنا چاہتے ہیں؟ بستروں پر، چارپائیوں پر، نہروں میں یا درختوں کے سائے تَلے، کیا آپ یہاں اس کے مُناسِب کوئی جگہ پاتے ہیں؟البتہ! (اس سے نَجات چاہتے ہیں تو)زمین پر چلے جائیے۔چنانچہ اللہ نے ان پر اپنا کَرَم فرمایا اور انہیں زمین پر اُتار دیا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا کے پھلوں کو ناقِص بنایا اور ان کے اَوصَاف کو بیج اور گاد سے بھر کر (ان کی اَصْل کو)بَدَل دیا تاکہ لوگ ان سے بے رغبتی کا مُظاہَرہ کریں اور اس بات کی خَبَربھی دیدی کہ یہ لذّتیں خَتْم ہو جانے والی ہیں تاکہ لوگ دائمی لذّتوں کے حُصُول میں رَغْبَت رکھیں۔
کسی عالِم کا قول ہے کہ جب بھی دنیا کی کوئی زِیْنَت مجھ پر ظاہِر ہوتی ہے تو میں اس کے باطِن کو بھی دیکھ لیتا ہوں تا کہ اس کی حقیقت جان کر اس سے منہ پھیر لوں۔ یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اپنے مُقرَّبین اَولِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام پر خاص عِنایَت ہے۔چنانچہ جو شخص دنیا کے اِبْتِدَائی اَوصَاف کا مُشاہَدہ کر لیتا ہے وہ اس کے آخِر سے دھوکے میں مبتلا نہیں ہوتا اور جو اس کی باطِنی حقیقت سے آگاہ ہوتا ہے وہ اس کے ظاہِر سے خوش نہیں ہوتا اور جس پر اس کا اَنْجَام ظاہِر کر دیا جاتا ہے اسے دنیا کی زیب و زِیْنَت نہیں بَہْکا سکتی۔
حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا فرمان ہے: اے عُلَمائے سُوء ! تمہارے لیے ہَلاکَت ہے، تمہاری مِثال بَیْتُ الْخَلا کی اس نالی جیسی ہے جس کا ظاہِر تو اچھّا ہو مگر باطِن بَدْبُودار ہو۔
حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار فرماتے ہیں: جادو کرنے والی سے بچو! [2] کیونکہ یہ یعنی دنیا عُلَمائے کِرام کے دِلوں پر جادو کر دیتی ہے۔ چنانچہ جس نے باطِل کے ذریعے دنیا کی حِرْص کی اس نے اپنے آپ کو ہَلاکَت میں ڈالااور اگر اس کی حِرْصقَوِی ہو گئی اور دنیا سے اس کی مَحبَّت نے شِدّت اِخْتِیار کر لی تو گویا اب وہ دوسروں کو بھی ہَلاکَت میں مبتلا کرے گا۔چنانچہ (قرآنِ کریم میں بندے کے اپنے آپ کو ہَلاکَت میں مبتلا کرنے کے مُتَعَلِّق)فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
ۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹) (پ ۵،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع