30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُقَابَلے میں اسے مَرْغُوب جان کر اس سے بے رغبتی کا مُظاہَرہ کرتے ہو۔ کیونکہ جس کی اِنتِہا فَنا پر ہو اس کی اِنتِہا بھی اِبْتِدَا کی طرح ہوتی ہے اور دنیا کی تو اِبْتِدَا ہی نہیں۔ البتہ! جس کی اِنتِہا دائمی ہو گویا وہ ہمیشہ سے ہے اور اس کی اِبْتِدَا بَقا میں اِنتِہا جیسی ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
| وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) (پ ۳۰، الاعلٰی:۱۷) | ترجمۂ کنز الایمان:اور آخِرَت بہتر اور باقی رہنے والی۔ |
آخرت کے دو۲ اوصاف
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہاں آخِرَت کو اس کے باقی رہنے کی وجہ سے اپنی دو۲ صِفات سے مُتَّصِف فرمایا ہے۔ جیسا کہ اِرشَاد فرمایا:
وَ اللّٰهُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۷۳) (پ ۱۶، طٰه: ۷۳) ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ بہتر ہے اور سب سے زیادہ باقی رہنے والا۔
ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍؕ- (پ ۱۴، النحل:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جو تمہارے پاس ہے ہو چکے گااور جو اللہ کے پاس ہے ہمیشہ رہنے والاہے۔
اس آیَتِ مُبارَکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا کی نِسْبَت ہماری جانِب فرمائی تاکہ اس کے ذریعے ہماری بے وَقْعَتی خُوب واضِح ہو جائے کیونکہ ہم فانی ہیں اور ہمیں اس سے بے رغبتی برتنا چاہئے۔ جبکہ آخِرَت کی نِسْبَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنی جانِب فرمائی تاکہ اس کی قَدْر و مَنْزِلَت کا اِظْہَار ہو کیونکہ وہ باقی رہنے والی ہے اور ہمیں اس میں رَغْبَت رکھنی چاہئے۔
بندہ جب اپنے دل کی آنکھ اور اِیمان کے یقین سے مُشاہَدہ کرتا ہے کہ جس بات کو سن اور جان کر وہ اس کی تصدیق کر رہا ہے وہ اس طرح خَتْم ہو جائے گی گویا وہ تھی ہی نہیں اور جو باقی رہے گی گویا وہ ہمیشہ سے ہے تو اس کا شُمار دَرْج ذیل لوگوں کی صَف میں ہونے لگتا ہے:
٭… مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ میں غور و فِکْر کرنے والوں اور مُشاہَدہ کرنے والوں میں ۔
٭… اس کی تِلاوَت کا حَق ادا کرنے والوں میں۔ ٭…اس پر حقیقی اِیمان لانے والوں میں۔
٭… دنیا میں حقیقی زُہْد اِخْتِیار کرنے والوں میں۔ ٭…آخِرَت میں حقیقی رَغْبَت رکھنے والوں میں۔
٭… دین میں قوّت کا مُظاہَرہ کرنے والوں میں۔ ٭…یقین میں بَصِیْرَت رکھنے والوں میں۔
جب بندہ اپنی دینی قوّت سے (دنیا کو)دیکھتا ہے تو دنیا سے منہ موڑ کر اپنے پروردگار عَزَّ وَجَلَّکی طرف چل دیتا ہے اور بطورِ زادِ راہ تقویٰ اپنے ساتھ لے لیتا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ(۴۹)فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِؕ- (پ ۲۷، الذّٰرِیٰت:۴۹، ۵۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نے ہر چیز کے دو۲ جوڑ بنائے کہ تم دھیان کرو تو اللہ کی طرف بھاگو۔
یعنی تم واحِد و اَحَد کی یاد میں مگن رہو اور اَشکال و اَضداد سے فَرار حاصِل کر کے اس کی بارگاہ میں حاضِر ہو جاؤ۔جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ(۲) (پ ۲۸، الحشر:۲) ترجمۂ کنز الایمان:تو عِبْرَت لو اے نِگاہ والو۔
جب وہ دیکھے گا تو عِبْرَت پکڑے گا اور اس کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگے گا جن کے مُتَعَلِّق فرمانِ باری تعالیٰ ہے: خُذِ الْكِتٰبَ بِقُوَّةٍؕ- (پ ۱۶، مریم:۱۲) ترجمۂ کنز الایمان: کتاب مضبوط تھام۔
یہاں (بِقُوَّةٍؕ )سے مُراد ایک قول کے مُطابِق کِتاب پر عَمَل کرنا ہے۔ ایک قول میں ہے کہ اس پر یقین کرنا مُراد ہے جبکہ ایک قول کے مُطابِق یہاں کوشِش و مُجاہَدہ مُراد ہے۔ بَہَرحَال اس کا شُمار ان مُـحْسِنِیْن میں ہونے لگتا ہے جو کِتَابُ الله کو مَضْبُوطِی سے تھام لیتے ہیں اور نَماز قائم کرتے ہیں۔ چنانچہ مَرْوِی ہے کہ حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیَتِ مُبارَکہ تِلاوَت فرمائی:
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ- (پ ۴، اٰل عمران:۱۹۱)
ترجمۂ کنز الایمان:جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔
پھر اِرشَاد فرمایا: اس شخص کے لیے ہَلاکَت ہے جس نے اس آیَتِ مُبارَکہ کی تِلاوَت کی مگر اس میں غور نہ کیا اور اس شخص کے لیے بھی ہَلاکَت ہے جس نے اس کی تِلاوَت کی مگر اپنی مونچھوں کے بالوں پر ہاتھ ہی پھیرتا رہا۔[1]
نیز (آیَتِ مُبارَکہ میں مَذکور)زمین سے جہنّم کے طبقات اور آسمان سے جنّت کے دَرَجات مُراد ہیں اور یہی وہ عالَمِ مَلکُوت ہے جس کا مُشاہَدہ اَہْلِ یقین کرتے ہیں اور اسے ہی مُلْکِ باطِن اور مُلْکِ کبیر بھی کہتے ہیں۔ لہٰذا یہ دونوں یعنی زمین و آسمان،ان سے بُلَند و پَسْت سب کچھ بلکہ عَرْش و تَحْتُ الثَّریٰ (پاتال)بھی اَہْلِ فِکْر و ذِکْر اور اَہْلِ یقین پر ظاہِر ہوجاتے ہیں۔ آسمان گویا جنّت، اس کے ستارے اَوْلِیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کی مَنازِل اور اس سے نیچے دیگر مخلوق آباد ہے۔ اسی طرح زمین گویا جہنّم ، اس کی سَرحَدیں زمین والوں کی مَنازِل اور اس سے نیچے دیگر مخلوق آباد ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
[1]………صحیح ابن حبان ، کتاب الرقاق ، باب التوبة ، ۲/ ۸ ، حدیث: ۶۱۹
اخلاق النبی وآدابه ، ذكر فعله فى ليلته وفی فراشه …الخ ، ص۱۰۵ ، حديث: ۵۲۱
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع