30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ ہر بُلَندی سے ڈھلکتے ہوں گے۔
اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُؕ- (پ ۱۳، یوسف:۱۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کر دے۔
پس بکھری ہوئی چیزیں جَمْع ہو گئیں اور پھٹی ہوئی جگہیں مِل گئیں، ہر قِسْم کا فَرْق خَتْم ہو گیا اور قوّتِ گویَائی حاصِل ہوئی اور اِرشَاد ہوا:
وَ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ (پ ۱۲، ھود:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اس کا عَرْش پانی پر تھا کہ تمہیں آزمائے۔
یہ اَہْلِ آخِرَت کا مُشاہَدہ ہے جو ان کے دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے سے اَعلیٰ ہے۔جَمْع شُدہ اَشیا بِکھَر گئیں اور بند چیزوں میں دَرَاڑیں پڑ گئیں،پانی سے ہر زِنْدَہ شے کا ظُہُور ہوا،فَضا وَسیع ہوگئی، حِجاب بھی نظروں سے پوشیدہ ہو گئے، تفصیل پائی جانے لگی اور گمان کے مُطابِق حاصِل ہو جانے کا فیصلہ ہو گیا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَاؕ-وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّؕ- (پ ۱۷، الانبیآء: ۳۰)
ترجمۂ کنز الایمان:آسمان اور زمین بند تھے تو ہم نے انہیں کھولا اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی۔
یہ اَہْلِ دنیا کا مُشاہَدہ ہے جو ان پر بَہُت بھاری ہے کیونکہ وہ غفلت سے اَچانک بیدار ہوں گے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّؕ-ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ(۱۹) (پ ۲۶، ق:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اور آئی موت کی سختی حَق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا۔
لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ(۲۲)(پ ۲۶، ق:۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نِگاہ تیز ہے۔
وَ النّٰزِعٰتِ غَرْقًاۙ(۱) وَّ النّٰشِطٰتِ نَشْطًاۙ(۲) وَّ السّٰبِحٰتِ سَبْحًاۙ(۳) (پ ۳۰، النّٰزعٰت:۱ تا ۳)
ترجمۂ کنز الایمان:قَسَم ان کی کہ سختی سے جان کھینچیں اور نَرْمی سے بند کھولیں اور آسانی سے پیریں (چلیں)۔
یہ عام لوگوں کا مُشاہَدہ ہے جو وہ موت کے وَقْت کریں گے تو اپنی کوتاہیوں پر ان کی حَسْرَت حَد سے زیادہ ہو گی۔
خواص اپنے حصّے کے مُشاہَدے سے فارِغ ہو چکے ہیں، ان کی نِگاہوں کا مَرْکَز آنے والی نعمتیں ہیں، انہوں نے بندوں سے منہ موڑ کر ذاتِ حَق کے مُشاہَدہ سے اپنا تعلّق جوڑ رکھا ہے، انہیں ظاہِری، باطِنی، لطیف، پوشیدہ، مَعْرُوف و مُنْکَر طریقے سے ذاتِ باری تعالیٰ کا مُشاہَدہ کروانے کا تَصرّف بھی حاصِل ہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰۤى اَمْرِهٖ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ(۲۱) (پ ۱۲، یوسف:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہ اپنے کام پر غالِب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے۔
اَلْغَرَضْ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جس پر غالِب ہو وہ ظاہِر نہیں ہوتا اور جس شے کو اپنے بندوں پر مُسَلَّط کر دے وہ غالِب آجاتی ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:کتنی ہی سچّی بات کسی شاعِر نے کہی ہے:
اَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَّا خَلَا اللهَ باطِلٌ
یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا ہر چیز باطِل ہے۔[1]
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَالْحَقُّ٘-وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ(۸۴) (پ ۲۳، ص:۸۴) ترجمۂ کنز الایمان:تو سچ یہ ہے اور میں سچ ہی فرماتا ہوں۔
نیز اِرشَاد فرمایا:
خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّ مِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّؕ-یَتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَیْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ﳔ وَّ اَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا۠(۱۲) (پ ۲۸، الطلاق:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان: (اللہ ہے) جس نے سات۷ آسمان بنائے اور انہی کے برابر زمینیں حکْم ان کے درمیان اترتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے اور اللہ کا عِلْم ہر چیز کو مُحِیط ہے۔
تم کافر ہو جاؤ یا مجھے کافر کہنے لگو
حضرت سَیِّدُنا ابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ اگر میں اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر بیان کر دوں تو تم لوگ کُفْر میں مبتلا ہو جاؤ۔ عَرْض کی گئی: وہ کیسے؟ اِرشَاد فرمایا:تم اس کا اِنکار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع