30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَاتَّخِذْهُ وَكِیْلًا(۹)وَ اصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ (پ ۲۹، المزمل:۹، ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اسی کو اپنا کارساز بناؤ اور کافِروں کی باتوں پر صَبْر فرماؤ۔
تَوَکُّل بندے کو صَبْر پر قائم رکھتا ہے اور گویا ایسا شخص کلامِ باری تعالیٰ کو سنتاہے اور اسے سمجھتا بھی ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے باغات اور چشموں کی اَمْن والی جگہ پر پہنچا دیتا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جو یقین کی حقیقت کے ساتھ قرآنِ کریم کی تِلاوَت کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اِیمان کے وَصْف سے مُتَّصف قرار دیتے ہوئے یوں اِرشَاد فرماتا ہے:
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَتْلُوْنَهٗ حَقَّ تِلَاوَتِهٖؕ-اُولٰٓىٕكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖؕ-(پ ۱، البقرة:۱۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:جنہیں ہم نے كِتاب دی ہے وہ جیسی چاہئے اس کی تِلاوَت کرتے ہیں وہی اس پر اِیمان رکھتے ہیں۔
مذکورہ آیَتِ مُبارَکہ میں بیان کردہ (زَبَدٌ ) یعنی جھاگ کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بطورِ تشبیہ ذِکْر کیا ہے تاکہ حَق و باطِل کی پانی و جھاگ سے مِثال بیان ہو سکے۔ جیسا کہ اِرشَاد فرمایا:
كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْحَقَّ وَ الْبَاطِلَ ﱟ فَاَمَّا الزَّبَدُ فَیَذْهَبُ جُفَآءًۚ-وَ اَمَّا مَا یَنْفَعُ النَّاسَ فَیَمْكُثُ فِی الْاَرْضِؕ- (پ ۱۳، الرعد:۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ بتاتا ہے کہ حق اور باطِل کی یہی مِثال ہے تو جھاگ تو پھک کر دُور ہو جاتا ہے اور وہ جو لوگوں کے کام آئے زمین میں رہتا ہے۔
مُراد یہ ہے کہ حَق نَفْع دینے اور باقی رہنے میں پانی کی مِثل ہے جبکہ باطِل خَتْم ہونے اور نَفْع کی کمی میں جھاگ کی مِثل ہے۔ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے سونے کو اس کی حقیقت خَتْم ہوجانے کی وجہ سے جھاگ سے تشبیہ دی اور یہ تشبیہ صِرف مُمَاثَلَت میں ہے مَجازی نہیں جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے(زَبَدٌ مِّثْلُهٗؕ )اور یہ مُمَاثَلَت بھی کافی گہری ہے۔ چنانچہ اس کے بعد اِرشَاد فرمایا:
كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَؕ(۱۷) لِلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنٰىﳳ- (پ ۱۳، الرعد:۱۷، ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ یوں ہی مِثالیں بیان فرماتا ہے جن لوگوں نے اپنے رب کا حکْم مانا انہیں کے لیے بھلائی ہے۔
یہاں (الْحُسْنٰىﳳ )سے مُراد جنّت اور ہمیشہ کی زِنْدَگی ہے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد ہوتا ہے:
لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِۚ- (پ ۱۴، النحل:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جو آخِرَت پر اِیمان نہیں لاتے انہیں کا بُرا حال ہے۔
یعنی وہ دُنْیَاوِی زِنْدَگی اور اس کی زیب و زِیْنَت چاہنے والے ہیں، وہ دنیا پر مطمئن و راضی ہیں۔
لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ(پ ۱۲، ھود:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:جن کے لیے آخِرَت میں کچھ نہیں مگر آگ۔
٭ پاک ہے وہ ذات جس کی قوّتِ بَصَارَت کا حکْم نِگاہوں پر نافِذ ہے۔
٭ پاک ہے وہ ذات جو دِن اور رات کو بَدَلْنے والی ہے۔
٭ پاک ہے وہ ذات جس کے ہاں ہر شے ایک مَخْصُوص اَنْدَازے کے مُطابِق ہے۔
٭ پاک ہے وہ ذات جو ہر اُس شے کو دیکھ سکتی ہے جسے ہم نہیں دیکھ سکتے جیسا کہ وہ ہر اُس شے پر قادِر ہے جس پر ہم قادِر نہیں۔
٭ پاک ہے وہ ذات جس نے اَہْلِ مُشاہَدہ کو مُشاہَدۂ ذات کے مَعانی سے خاص فرمایا۔
٭ پاک ہے وہ ذات جس نے خاص بندوں کو اپنے عِلْم سے کچھ عَطا فرمایا اور جو عَطا فرمانا چاہا اس سے انہیں آگاہ بھی فرما دیا۔
گویا ان لوگوں کے نزدیک سونا چاندی پانی پر مَوجُود اس جھاگ کی طرح ہیں جنہیں ہَوَائیں اِدھر اُدھر اُڑاتی پھرتی ہیں۔ اگرچہ یہ دونوں پہاڑوں سے نکلنے والی مَعْدَنِیَات ہیں مگر ان لوگوں کے نزدیک پہاڑ ٹھہری ہوئی اور پُرسُکُون موجیں ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِؕ-صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ- (پ ۲۰، النمل:۸۸)
ترجمۂ کنز الایمان:(تو )پہاڑوں کو خَیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں اور وہ چلتے ہوں گے بادَل کی چال یہ کام ہے اللہ کا جس نے حِکْمَت سے بنائی ہرچیز۔
ان کے نزدیک زمین گویا ایک غُبار اُڑانے والا سمندر ہے جس میں موجیں اُٹھ رہی ہیں جن کے درمیان شہر اور چَٹْیَل میدان ظاہِر ہیں کیونکہ کہیں یہ موجیں ہَمْوَار ہیں تو کہیں بُلَندی و پَسْتِی کا شِکار۔ مخلوق بڑے بڑے جتھوں کی شَکْل میں تیر رہی ہے ، بعض رینگ رہی ہے، ان میں ہر شے اپنی مِقْدَار کے لِـحَاظ سے مَوزُوں ہے، جیسا کہ رات میں دن مِل جاتا ہے اور سیلابی پانی کے ریلے پر جھاگ پیدا ہوتا ہے، یہ سب اس کی حِکْمَت ،مَخْفِی قُدْرَت اور لطیف و دقیق صَنْعَت کے ظُہُور کی وجہ سے ہے تاکہ اس کا شُکْر بجا لانے کی بَرَکَت سے اس کی نِعْمَت کا مُشاہَدہ حاصِل ہو۔ جیسا کہ فرامینِ باری تعالیٰ ہیں:
جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖؕ- (پ ۲۹، الملك:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:(جس نے) تمہارے لیے زمین رام (تابع ) کر دی تو اسکے رستوں میں چلو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ۔
وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ(۹۶)(پ ۱۷، الانبیآء: ۹۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع