دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

جانوروں کی ہلاکت کا بھی باعِث بنتی ہیں اور اس طرح لوگ حجاج بن یُوسُف کا طریقہ اپنا کر اس کی بِدْعَتوں میں اس کے شریک کار بن جاتے ہیں۔

قرآنِ کریم میں نقطوں اور اعراب کا آغاز

حجاج بن یُوسُف کے ایجاد کردہ کاموں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے سب سے پہلے ہر آیت کی ابتدا میں یا ہر پانچویں یا دسویں آیت کے اِخْتِتام پر علامات لگائیں اور قرآنِ کریم کی کِتابَت میں سرخ، سبز اور زرد رنگ کا اِسْتِعمال کیا۔ اس طرح مصحف شریف میں آرائش و زیبائش کا اِہتِمام کیا جو پہلے نہ تھا۔ جبکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرمایا کرتے تھے کہ قرآنِ کریم کو اسی حالت پر رہنے دو جیسا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے اسے نازِل فرمایا ہے اور دوسری چیزوں کو اس میں شامِل نہ کرو۔ لہٰذا عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام نے حجاج بن یوسف کے اس فعل کو ناپسند کیا یہاں تک کہ حضرت سَیِّدُنا ابو رَزِین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں پیدا ہونے والے لوگ یہ گمان کریں گے کہ حجاج بن یوسف نے قرآنِ کریم میں جو (نقطے اور زبر، زیر، پیش وغیرہ کا) اضافہ کیا ہے درحقیقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے قرآنِ کریم اسی طرح نازِل فرمایا تھا۔ یعنی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حجاج بن یوسف کے اس فعل کو مَذمُوم  جانتے تھے۔

بعد میں اس مُعامَلہ میں عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کی آرا میں اِخْتِلاف پیدا ہو گیا۔ بعض اس مُصْحَف کو دیکھ کر تِلاوَت نہ کرتے جس میں سرخ رنگ سے نقطے لگے ہوتے، ان کے خیال میں نقطوں والے مصحف میں قرأت صحیح نہیں تھی۔ اسی طرح بعض مصحف شریف کی خرید و فروخت کو اَچھّا نہ سمجھتے۔ (صاحِبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)صحیح قول کے مُطابِق اگر کسی نے نقطے خود نہ لگائے ہوں بلکہ کسی اور شخص نے لگائے ہوں تو ایسے مصحف شریف سے تِلاوَت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین قرآنِ کریم پر نقطے لگانے کی اُجْرَت لینے کو مکروہ جانتے اور فرماتے کہ بِدْعَت پر اُجْرَت لینا جائز نہیں۔ ابو بکر ہُذَلیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَلِی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سَیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے قرآنِ کریم پر نقطے لگانے کی اُجْرَت لینے کے مُتَعَلّق سوال کیا تو آپ نے پوچھا: نقطے لگانے سے کیا مُراد ہے؟ میں نے عَرْض کی:یہ لوگ عربی عِبارات پر اِعراب لگاتے ہیں۔ اِرشَاد فرمایا: قرآنِ کریم پر اِعراب لگانے میں کوئی حرج نہیں۔

حضرت سَیِّدُناخالِد حِذا عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْفَتَّاح  فرماتے ہیں کہ میں حضرت سَیِّدُناامام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْمُبِینکی خِدْمَت میں حاضِر ہوا توآپ کو نقطوں والا مُصْحَف پڑھتے دیکھا حالانکہ آپ نقطے لگانے کو اَچھّا نہیں سمجھتے تھے۔ حضرت سَیِّدُنا فراس بن یحییٰ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مجھے حجاج بن یوسف کی جیل میں ایک نقطوں والا کاغذ ملا تو بڑا حیران ہوا۔ کیونکہ میں نے پہلی بار نقطے دیکھے تھے۔ پس میں حضرت سَیِّدُنااِمام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کی خِدْمَت میں حاضِر ہوا اور انہیں بتایا تو آپ نے اِرشَاد فرمایا: ایسے مُصْحَف سے تِلاوَت کر سکتے ہو مگر خود اپنے ہاتھ سے نقطے مَت لگانا۔

مَرْوِی ہے کہ حجاج بن یُوسُف نے 30قاریوں کو جمع کیا جنہوں نے ایک مہینے میں قرآنِ کریم کے حُروف اور اَلفاظ کو شُمار کیا اور اگر امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعمر فاروقِ اعظم یا امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عثمان غنی یا امیر المومنین حضرت سَیِّدُناعلی المرتضیٰ شیرِ خدا رِضْوَانُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن انہیں اس طرح قرآنِ کریم کے حُروف شُمار کرتے دیکھ لیتے تو یقیناًان کے سروں پر دُرّے لگاتے۔ یہی وہ بات ہے جسے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اَچھّا نہیں سمجھتے تھے اور وہ بیان کیا کرتے تھے کہ آخری زمانے میں قرآنِ کریم پڑھنے والے ایسے لوگ ہوں گے جو قرآنِ کریم کے حُروف کی خوب حِفَاظَت کریں گے مگر اس کی حُدود کا لحاظ نہیں رکھیں گے۔ حجاج بن یُوسُف اپنے زمانے میں سب سے بڑا قرآنِ کریم کا قاری تھا اور اسے سب سے زیادہ قرآنِ کریم کے حُروف یاد تھے، وہ ہر تین۳دن میں خَتْمِ قرآن کیا کرتا مگر اس سے بڑھ کر قرآنِ کریم کی حُدود کو ضائع کرنے والا بھی کوئی نہ تھا۔

مسجد میں چٹائیاں بچھانا

حجاج بن یُوسُف کے ایجاد کردہ کاموں میں سے ایک یہ بھی ہے اس نے مسجد سے کنکر اور ریت نکال کر چٹائیاں بچھوائیں۔ چنانچہ ایک بار حضرت سَیِّدُناقتادہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سجدے میں گئے تو چٹائی کا ایک تِنکا ان کی آنکھ میں چبھ گیا جو تکلیف دہ تھا،فرمانے لگے: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   حجاج بن یُوسُف پر لعنت فرمائے، اسی نے یہ چٹائیاں ایجاد کیں جو نمازیوں کو تکلیف دیتی ہیں۔ سَلَف  صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین زمین اور مٹی پر سجدہ کرنے کو مستحب سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ طریقہ بارگاہِ رب العزت میں زیادہ عجز و انکسار والا تھا۔

بدعتیں اس قدر عام ہوں گی کہ۔۔۔

(صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) ہمارا مقصود حجاج بن یوسف کے ایجاد کردہ تمام کام ذِکر کرنا نہیں بلکہ یہ بتانا مقصود ہے کہ اس کی ایجاد کردہ باتوں کو آج کے دور میں اَچھّا سمجھا جاتا ہے حالانکہ متقدمین کی سیرت اور ان کی عادات سے آگاہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ اس کے ان تمام کاموں کو سَلَف  صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اَچھّا نہیں سمجھتے تھے۔

حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ (عنقریب)بُرائی اور بِدْعَت اس طرح عام ہو جائیں گی کہ جب ان میں سے کسی کو بدلنے کی کوشش کی جائے گی تو کہا جائے گا کہ سنّت بدل دی گئی۔ ایک رِوایَت میں یہ اَلفاظ ہیں کہ اس دور میں سب سے زیادہ عَقْل مند وہ ہو گا جو اپنا دین بچا کر بھاگ نکلے گا جس طرح کہ لومڑی شِکاری کو دیکھ کر اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ کھڑی ہوتی ہے۔

۸۰ ھ میں حجاج کے زمانے میں حضرت سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اِرشَاد فرمایا کرتے کہ سرورِ دو۲ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے زمانے میں جو چیزیں تھیں آج میں ہر شے کو بدلا ہوا پاتا ہوں سوائے اس گواہی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کے سوا کوئی معبود نہیں۔عَرْض کی گئی:اے ابو حمزہ! کیا نَماز بھی بدل گئی ہے؟ فرمایا:کیا انہوں نے نَماز میں ان باتوں کو شامِل نہیں کر دیا جو پہلے نہ تھیں؟[1] یعنی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی مُراد یہ تھی کہ اب نَماز

تاخیر سے پڑھی جاتی ہے، ( اذان کے بعد) نَماز سے پہلے تَثْوِیب [2]  کی جاتی ہے، سلام کے اَلفاظ کو متعین کر دیا گیا ہے یہاں تک کہ تَثْوِیب کو اِقامَت کے مُشابِہ سمجھتے ہوئے اس پر سنّت کی طرح عَمَل



[1]………مسند ابی داود الطیالسی ، ثابت بنانی عن انس ، ص۲۷۱ ، حدیث:  ۲۰۳۳ مسندابی یعلٰی ، مسند انس بن مالك ، ۳/  ۴۲۱ ، حدیث:  ۴۱۶۸

[2]………دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب ،  ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 474 پر ہے:   متاخرین نے تثویب مستحسن رکھی ہے ،  یعنی اَذان کے بعد نماز کے لیے دوبارہ اعلان کرنا اور اس کے لیے شرع نے کوئی خاص اَلفاظ مُقَرَّر نہیں  کیے بلکہ جو وہاں  کا عُرف ہو مثلاً  اَلصَّلٰوةُ اَلصَّلٰوةُیا قَامَتْ قَامَتْ یا اَلصَّلوَةُ وَالسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن