سخاوت کی دو۲صورتیں
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

یہ حدیثِ پاک گویا اس مُـجْمَل رِوایَت کی تفسیر ہے جس میں اِرشَاد ہوتا ہے: سخی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ، لوگوں کے اور جنّت کے قریب اور جہنّم سے دُور ہوتا ہے۔ جبکہ بخیل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ، لوگوں سے اور جنّت سے دُور اور جہنّم کے قریب ہوتا ہے۔[1]

اَلْغَرَضْ اس حدیثِ پاک میں یہ وَضَاحَت کر دی گئی ہے کہ سخی شخص کِن معنوں میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور جنّت کے قریب اور جہنّم سے دُور ہے، کیونکہ سَخَاوَت کا تعلّق یقین سے ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضِح کر دی گئی ہے کہ بخیل کن معنوں میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور جنّت سے دُور   اور جہنّم کے قریب ہے۔ کیونکہ بُخْل کا تعلّق شک سے ہے۔

سَخَاوَت زُہْد کا وَصْف ہے اور زاہِد سخی ہوتا ہے جبکہ بُخْل دنیا چاہنے والے کا وَصْف ہے اور حریص شخص بخیل ہوتا ہے۔ چنانچہ بخیل زاہِد نہیں ہو سکتا کیونکہ زُہْد اشیا کو خود سے دُور کرنے کی اور بُخْل انہیں پاس رکھنے کی دَعْوَت دیتا ہے ۔ لہٰذا سَخَاوَت ہی زُہْد ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بُخْل کی مَذمَّت بیان کی گئی ہے کیونکہ اس سے مُراد دنیا میں رَغْبَت رکھنا ہے۔ حِرْص بُـخْل کی عَلامَت ہے کیونکہ یہ رَغْبَت رکھنے کی دلیل ہے اور قَناعَت سَخاوَت کی عَلامَت ہے کیونکہ یہ زُہْد کا دروازہ ہے۔

سخاوت کی دو۲صورتیں

مَنْقُول  ہے کہ نَفْس کی اپنے قبضے میں مَوجُود اَشیا میں سَخَاوَت مال خَرْچ کرنے کی سَخَاوَت سے اَفضل ہے۔ یہ دونوں قِسْم کی سَخَاوَت (یعنی نَفْس کی مَمْلُوکہ اشیا میں سَخَاوَت اور مال خَرْچ کرنے کی سَخَاوَت)اگرچہ نام کے اِعْتِبَار سے تو ایک جیسی ہیں مگر ان کا حکْم الگ الگ ہے۔ پس جس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَضا کی خاطِر اپنی مَمْلُوکہ شےمیں سَخَاوَت کا مُظاہَرہ کیا وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَضا چاہنے والا زاہِد ہے  اور اس کا اَجَر  وثواب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ذِمّۂ کَرَم پر ہے مگر جس نے لوگوں کی رَضا کے لئے مال خَرْچ کیا وہ بھی سَخَاوَت کے وَصْف سے مُتَّصِف ہونے کی وجہ سے زاہِد تو شُمار ہو گا مگر اس کی یہ سَخَاوَت اس کے نَفْس اور اس کی خواہش کی تسکین کے لیے ہے، جس کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں کوئی اَجَر نہ پائے گا کیونکہ یہ عَمَل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رَضا کے حُصُول کے لیے نہ تھا،چنانچہ اس کا اَجَر باطِل ہے، اس لیے کہ اس نے اپنے نَفْس کے لیے یہ عَمَل سَر اَنْجَام دیا تھا اور دنیا میں ہی اسےلوگوں سے اپنے شُکْر و ذِکْر کے چرچے حاصِل ہو گئے۔

دونوں قسموں میں فرق کی وضاحت

حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مُبَارَک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق فرماتے ہیں کہ میرے خَیال میں جَوَانْمَرْدِی اور قرأت کے درمیان ایک بات کا بھی فَرْق نہیں کیونکہ قرأت نے جس شے سے مَنْع کیا تو جَوَانْمَرْدِی نے بھی اسے بُرا سمجھا۔ مگر دونوں اس بات میں الگ الگ ہیں کہ قرأت میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خوشی جبکہ جَوَانْمَرْدِی میں لوگوں کی خوشی مَقْصُود ہوتی ہے۔ حضرت سَیِّدُنا ابن مُبَارَک عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالرَّازِق کے اُستاذ حضرت سَیِّدُنا سُفْیَان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ جو اَچھّا جَوَانْمَرد  نہیں وہ اَچھّا قارِی نہیں ہو سکتا یعنی جو جَوَانْمَردِی کے اَحْکام سے بخوبی آگاہ نہیں کہ ان پر عَمَل کر کے حقیقت میں ایک  جَوَانْمَرد  بن سکے وہ قارِی کے اَوصَاف سے بھی مُزیّن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ اسے قارِی کہا جاسکے۔

نفس سے مُجاہَدہ

بَسا اَوقات بندے کو زُہْد اِخْتِیار کرنے کے لیے نَفْس سے مُجاہَدہ کرنا پڑتا ہےجس طرح کہ نفسانی خواہش  کی مُخالَفَت کے لیے اسے نَفْس سے مُجاہَدہ کرنا پڑتا ہے اسی طرح حَق بات پر صَبْر کرنے کے لیے بھی بعض اَوقات نَفْس سے مُجاہَدے کی ضَرورت ہوتی ہے تا کہ نَفْس کی ناپسندیدگی کے باوُجُود اس کی مَرْغُوب و مَحْبُوب شے کو اس سے دُور کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسے شخص کے لیے زُہْد میں ایک خاص مَقام ہے، یہ شخص نیکی کی توفیق پاتا ہے اور نیکیاں کرنے کے سَبَب مَدْح و تعریف کا مُسْتَحِق ٹھہرتا ہے۔

مُتَزہِّد سے مُراد

مُتَزہِّد (بتکلّف زاہِد بننے والا شخص)حقیقت میں زاہِد نہیں ہوتا اور اس سے مُراد وہ شخص ہے جس نے بظاہِر زُہْد کا لِبادہ اَوڑھ رکھا ہو اور وہ ہر شے میں اَسبابِ زُہْد اِخْتِیار کرے یعنی خَسْتہ حالی اور قِلَّت و کمی کو اِخْتِیار کرے۔ یہ شخص خود کو صابِر ظاہِر کرنے والے شخص جیسا ہے جو صَبْر کی حقیقت سے جَہَالَت کے باعِث خود کو صابِر سمجھ کر نَفْس کو حُصُولِ عِلْم کا پابند بنانے کی کوشِش کرتا ہے تاکہ اسے صَبْر میں کوئی مَقام حاصِل ہو۔

خالص زہد

خالِص زُہْد یہ ہے کہ بندہ موت کا اِنتِظار کرے اور اپنی اُمِّیدوں کو کم کر دے کیونکہ ان دونوں صورتوں میں مال جَمْع نہیں کیا جاتا بلکہ خُوب نیکیاں کی جاتی ہیں۔

زُہْد و زَاہِد کے مُتَعَلِّق بُزُرْگَانِِ دِین کے اَقْوَال

سَیِّدُنا ابن عیینہ کے نزدیک زہد

حضرت سَیِّدُنا ابن عُیَـیْنَہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ زاہِد کی تعریف یہ ہے کہ وہ فَراخی کے وَقْت شُکْر کرے اور تنگ دستی کے وَقْت صَبْر کرے۔

سَیِّدُنا بشر بن حارث کے نزدیک زہد

حضرت سَیِّدُنا بِشْر بِن حَارِث عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْوَارِثْ فرماتے ہیں: دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے سے مُراد یہ ہے کہ بندہ لوگوں سے بے رَغْبَت ہو جائے۔ لہٰذا جس نے  لوگوں سے بے رغبتی اِخْتِیار کی اس نے دنیا میں زُہْد کو  اِخْتِیار کیا۔ اسی طرح کسی حکیم کا قول ہےکہ جب زاہِد لوگوں کی تلاش میں رہے تو اس سے بھاگو اور جب وہ لوگوں سے بھاگے تو اسے تلاش کرو۔

سَیِّدُنا یحییٰ بن معاذ کے نزدیک زہد

حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے عَرْض کی گئی: بندہ زاہِد کب بنتا ہے؟ اِرشَاد فرمایا:جب تَرْکِ دنیا میں اس کی حِرْص طالِبِ دنیا کی حِرْص کے برابر ہو جائے تو بندہ زاہِد بن جاتا ہے۔

سَیِّدُنا قاسم جوعی کے نزدیک زہد

 



[1]………ترمذی ،  کتاب البر والصلة ،  باب ما جاء فی السخآء ، ۳/ ۳۸۷ ، حدیث:  ۱۹۶۸ ،  عن ابی ھریرة ،  بتقدم وتاخر

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن