30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ رِوایَت پہلی رِوایَت سے بھی واضِح ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زُہْد کو اس نُور کے ذریعے شَرَحِ صَدْر کی عَلامَت قرار دیا جو کہ تصدیق کا نُور اور عام مومنین کا وَصْف ہےکیونکہ یہی اِسلام کی حقیقت ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ- (پ ۸، الانعام:۱۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جسے اللہ راہ دِکھانا چاہے اس کا سینہ اِسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔
اس آیَتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ بارگاہِ رِسَالَت میں عَرْض کی گئی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مَا هٰذَا الشَّرْحُ؟یہ شَرَحِ صَدْر کیا ہے؟ اِرشَاد فرمایا:نُور جب دِل میں داخِل ہوتا ہے تو شَرَحِ صَدْر حاصِل ہوتا ہے اور سینہ کُشادہ ہو جاتا ہے۔عَرْض کی گئی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! هَلْ لِذٰلِكَ مِنْ عَلَامَةٍ؟اس کی کوئی عَلامَت بھی ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:ہاں ہے! ٭…دارِ غُرور (یعنی دنیا) سے دُور رہنا ٭… دارِ خُلُود (یعنی آخِرَت) کی طرف مُتَوجّہ رہنا اور ٭… موت سے قبل اس کی تیاری کرنا۔[1]
مذکورہ دونوں روایات سے زیادہ واضِح رِوایَت وہ ہے جس میں سرورِ کائنات ، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حَیا کو دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنا قرار دیا۔ چنانچہ،
مَرْوِی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اس طرح حَیا کرو جیسا کہ حَیا کا حَق ہے۔ صحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عَرْض کی: ہم تو حَیا کرتے ہیں۔ اِرشَاد فرمایا:تم ایسے گھر بناتے ہو جس میں رہتےنہیں اور ایسی اشیا جَمْع کرتے ہو جو کھاتے نہیں۔[2]
اسی مَفہوم کی ایک رِوایَت میں اس وَفْد کے کامِل اِیمان کا تذکرہ مَوجُود ہے، جس سے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دَرْیَافْت فرمایا: تم کون ہو؟ عَرْض کی: ہم مومِن ہیں۔ اِرشَاد فرمایا: تمہارے اِیمان کی عَلامَت کیا ہے؟ تو انہوں نے عَرْض کی کہ وہ مصیبت پر صَبْر کرتے ہیں، فراخی پر شُکْر کرتے ہیں،[3] قَضائے باری تعالیٰ پر راضی رہتے ہیں اور جب ان کے دشمنوں پر کوئی مصیبت نازِل ہوتی ہے تو اس پر خوش نہیں ہوتے۔ چنانچہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:اگر تم ایسے ہی ہو تو جو کھاتے نہیں اسے جَمْع نہ کرو، جن گھروں میں رہنا نہیں انہیں تعمیر نہ کرو اور جن باتوں کو چھوڑ چکے ہو ان کے حُصُول میں کسی سے مُقَابَلَہ نہ کرو۔
مذکورہ تینوں روایات سے اَہَم یہ چوتھی رِوایَت ہے،اس میں مکّی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زُہْد کو تو حید کے اِخلاص کی شَرْط قرار دیا ہے۔چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا جابِر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں خُطْبَہ میں اِرشَاد فرمایا:جس نے کَلِمۂ توحید یعنی لَااِلٰـهَ اِلَّا الله کہا اور پھر اس کے ساتھ کسی اور شے کو نہ مِلایا تو اس کے لیے جنّت واجِب ہو گئی۔ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے کھڑے ہو کر عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!میرے ماں باپ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قربان!توحیدکے ساتھ کیا چیز نہ مِلائی جائے، اس کی وَضَاحَت فرما دیجئے۔ اِرشَاد فرمایا:دنیا کی مَحبَّت، اس کی طَلَب اور اس کی پَیروی اس سے مُراد ہے۔ بعض لوگوں کی باتیں نبیوں جیسی مگر عَمَل جابِر لوگوں کی طرح ہیں۔ لہٰذا جو کَلِمَۂ توحید لے کر بارگاہِ خداوندی میں اس حال میں حاضِر ہوا کہ مذکورہ باتوں میں سے کوئی بھی اس میں شامِل نہ ہو تو جنّت اس کے لیے واجِب ہے۔[4]
شیرِ خدا سے مروی دو۲روایتیں
یہی وجہ ہے کہ امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم زُہْد کو صَبْر کا ایک مَقام قرار دیتے اور صَبْر کو اِیمان کا ایک سُتُون سمجھتے ۔ چنانچہ،
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی دو۲روایتوں میں سے ایک طویل رِوایَت میں اِیمان کی بنیادوں کے مُتَعَلِّق مَرْوِی ہے :اِیمان کے چار۴سُتُون ہیں: (1) ۔۔۔۔صَبْر(2) ۔۔۔۔یقین(3) ۔۔۔۔عَدْل (4) ۔۔۔۔جِہاد۔پھر اِرشَاد فرمایا:صَبْر کے بھی چار۴ شعبے ہیں: (1) ۔۔۔۔شوق (2) ۔۔۔۔ ڈر(3) ۔۔۔۔زُہْد (4) ۔۔۔۔اِنتِظار۔ لہٰذا جسے جنّت کا شوق ہو وہ شہوتوں کو بھول جاتا ہے، جسے جہنّم کا ڈر ہو وہ حَرام چیزوں سے دُور رہتا ہے، جس نے دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کیا اس پر مصیبتیں آسان ہو جاتی ہیں اور جسے موت کا اِنتِظار ہو وہ نیکیوں میں جَلْدی کرتا ہے۔[5]
ایک رِوایَت میں آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے صَبْر کو اِیمان کا سُتُون قرار دیا کہ جس کے گرنے سے اِیمان کی عِمارَت گر جاتی ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرماتے ہیں:صَبْر کا اِیمان سے وُہی تعلّق ہے جو سَر کا باقی جِسْم سے ہے۔ یعنی اس شخص کے جِسْم کی کوئی حَیْثِیَّت نہیں جس کا سَر نہ ہو اور اس شخص کے اِیمان کی کوئی وَقْعَت نہیں جس کے پاس صَبْر نہ ہو۔[6]
ایک مَقْطُوع[7] رِوایَت میں ہے کہ سَخَاوَت یقین سے ہے اور اَہْلِ یقین جہنّم میں داخِل نہ ہوں گے جبکہ بُخْل شک سے ہے اور جس نے شک کیا وہ جنّت میں داخِل نہ ہوگا۔[8]
[1]………الزهدلوکیع ، باب الاستعداد للموت ، ص۲۳۸ ، حديث: ۱۵ ، بتغیر قلیلموسوعة ابن ابى الدنيا ، كتاب قصر الامل ، ۳/ ۳۳۳ ، حدیث: ۱۳۱ ، بتغیرقلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع