30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زُہْد اور وَرَع دِل میں آتے ہیں،اگر اس دِل میں حَیا اور اِیمان پائیں تو رُک جاتے ہیں ورنہ کُوچ کر جاتے ہیں۔
قَناعَت کا تعلّق بھی زُہْد سے ہےمگر کم اشیا پر راضی رہنا زُہْد کا حال اور اَشیا میں کمی کرنا زُہْد کی چابی ہے۔ حضرت سَیِّدُنا ابراہیم بن اَدْہَم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْاَکرَم فرماتے ہیں:ہمارے دِلوں کو تین ۳حِجابوں سے چھپایا گیا ہے، کسی بندے پر یقین اس وَقْت تک مُنْکَشِف نہیں ہوتا جب تک کہ یہ حِجاب دُور نہ ہوں:
(1) … مَوجُود شے پر خوش ہونا:جب آپ مَوجُود شے پر خوش ہوں گے تو حریص ہوں گے اور حریص مَحْرُوم ہوتا ہے۔
(2) … مَفْقُود شے پر غم زدہ ہونا:جب مَفْقُود شے پر غم محسوس کریں گے تو غصّے میں آجائیں گے اور ایسے غصّے والے اَفراد عَذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔
(3) …تعریف پر مَسَرَّت کا اِظْہَار کرنا:جب اپنی تعریف پر مَسَرَّت کا اِظْہَار کریں گے تو خود پسندی میں مبتلا ہوں گے اور خود پسندی اَعمال کو برباد کر دیتی ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْؕ- (پ ۲۷، الحدید:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اس لیے کہ غم نہ کھاؤ اس پر جو ہاتھ سے جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تم کو دیا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ)آیتِ مُبارَکہ میں مذکور دونوں اَوصَاف (یعنی دُنْیَاوِی شے کھونے پر اَفسوس اور ملنے پر خوشی کا اِظْہَار)زُہْد کا کامِل حال ہے۔ جوشخص ان دونوں میں سے کسی ایک وَصْف سے مُتَّصِف ہو وہ دوسرے وَصْف سے بھی مُتَّصِف ہو ہی جاتا ہے کیونکہ جو شخص فوت ہو جانے والی کسی دُنْیَاوِی شے پر غم زدہ ہوتا ہے نہ اس کے ملنے پر خوش ہوتا ہے،اس شخص کی مِثل ہے جو کسی شے کے ملنے پر خوش ہوتا ہے نہ اسے اس کے فوت ہو جانے پر کوئی دُکھ ہوتا ہے۔
یہ اس بندے کا وَصْف ہے جو کسی شے کا خود کو مالِک نہ قرار دے، بِالْخُصُوص اس بندے کا وَصْف ہے جو اَحْکامِ خداوندی پر عَمَل پیرا ہو، صاحبِ یقین ومَحبَّت ہو،مُشاہَدۂ آخِرَت نے اس کا منہ دُنْیَاوِی لذّتوں سے موڑ کر اس طرح اپنی طرف کر لیا ہو کہ وہ صِرف (آخِرَت میں)نَفْع بخش کاموں میں ہی مَشْغُول رہے۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰىۙ(۴۸) (پ ۲۷، النجم:۴۸) ترجمۂ کنز الایمان:اور یہ کہ اسی نے غِنا دی اور قَناعَت دی۔
اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ اَہْلِ آخِرَت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اپنے خاص تعلّق کی بنا پر غِنا سے مالا مال ہوئے، پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں اُخْرَوِی دولت عَطا فرما کر دنیا سے مُسْتَغْنِی فرما دیا اور اہلِ دنیا کو دنیا عَطا فرمائی یعنی انہیں کثیر مال و دولت سے نوازا۔جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ایسے شخص کی دَرْج ذیل آیتِ مُبارَکہ میں مَذمَّت بیان فرمائی ہے:
الَّذِیْ جَمَعَ مَالًا وَّ عَدَّدَهٗۙ(۲) (پ ۳۰، الھمزة:۲) ترجمۂ کنز الایمان:جس نے مال جوڑا اور گن گن کر رکھا۔
یعنی جو شخص یہ کہے کہ یہ جَمْع شُدہ مال فلاں کے لیے اور یہ فلاں کے لیےہے، اس کے لیے ہَلاکَت و خرابی ہے۔ مَعْلُوم ہوا مال میں زُہْد اِخْتِیار کرنے والی دولت ہر حال میں ذاتِ باری تعالیٰ ہی ہے، وُہی اس کا کل مال و اَسباب ہے اور اس کے لیے خوشخبری اور اچھّا اَنْجَام ہے۔
تاجدارِ رِسَالَت، شہنشاہِ نبوّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:یقین بطورِ غِنا، عِبَادَت بطورِ مَشْغُولِیَّت اور موت بطورِ وَاعِظ کافی ہے۔[1]
اس حدیثِ پاک میں اس یقین و زُہْد کے پیکر شخص کے جُملہ اَوصَاف مذکور ہیں جو ہر لمحہ موت کے اِنتِظار میں رہتا ہے۔ جیسا کہ ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ حُضُور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:غِنا کَثْرَتِ مال کا نہیں بلکہ نَفْس کے غنی ہونے کا نام ہے۔[2]
ایمان اور زہد کے باہمی تعلق پر مبنی چار روایات
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے یہاں اِیمان اور زُہْد کے بَاہَمی تعلّق کو ثابِت کرنے کے لیے چار۴ احادیثِ مُبارَکہ ذِکْر کی ہیں، جن میں سے ہر دوسری حدیثِ پاک پہلی سے زیادہ قَوِی ہے۔)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دنیا میں زُہْد اِخْتِیار كرنے کو حقیقتِ اِیمان کی عَلامَت قرار دیا اور اسے مُشاہَدۂ یقین کے قریب بتایا ۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا حارِثہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے جب دو۲جہاں کے سرور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عَرْض کی: اَنَا مُؤْمِنٌ حَقًّا۔یعنی میں حقیقی مومِن ہوں تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:تو نے عِرفان کی دولت پالی ہے، اس سے وَابَسْتہ رہنا۔ پھر دَرْیَافْت فرمایا: وَمَا حَقِيْقَةُ اِيْمَانِكَ؟ تیرے اِیمان کی حقیقت کیا ہے؟ تو انہوں نے زُہْد سے اِبْتِدَا کرتے ہوئے یوں عَرْض کی:میرا نَفْس دنیا سے بے رَغْبَت ہو گیا ہے، اب میرے نزدیک دنیا کے پتھر اور سونا یَکْسَاں ہو گئے ہیں، گویا میں جنّت اور جہنّم کو دیکھ رہا ہوں اور عَرْشِ خداوندی بھی گویا میری نِگاہوں کے سامنے ہے۔[3]
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع