30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دونوں کو اکٹھے غائِب کرو۔ اس کی بات مان کر بھائیوں نے بنیامین کو یہودا کے حوالے کر دیا مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے اِرادے کے باوُجُود یہ اِرشَاد نہیں فرمایا (وَ كَانُوْا فِیْهِمَا مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠) کیونکہ ان کی حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کی طرح ان کے بھائی سے بے رغبتی ثابِت نہ ہوئی۔ اس لیےکہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائی (بنیامین)نہ صِرف ان کے پاس مَوجُود رہے بلکہ انہوں نے انہیں خود سے دُور بھی نہ کیا۔
کسی شے کاپاس ہونا زہد کے منافی ہے
آپ جانتے ہیں کہ جب تک کوئی چیز آپ کے پاس مَوجُود ہو اور آپ اسے اپنے پاس روک کر رکھیں اور خود کو زاہِد (یعنی اس شے سے بے رغبتی برتنے والا)سمجھنے لگیں کہ آپ نے اس سے بے رغبتی کے اِظْہَار کا ارادہ کر لیا ہے تو گویا آپ کے اس دعوے کے جھوٹا ہونے کی کئی وُجُوہ ہیں:
٭…اس شے کو اپنے پاس رکھ کر آپ خود اپنے آپ کو زاہِد کہلا کر جھٹلا رہے ہیں۔
٭…اس شے کی وجہ سے آپ کا نَفْس ہی آپ کو جھٹلا رہا ہے کیونکہ آپ زُہْد کی حقیقت نہیں جانتے۔
٭…آپ کا وِجدان اِس یقینی عِلْم کو جھٹلا رہا ہے کہ آپ مَعْرِفَتِ خداوندی سے آگاہ نہیں۔
٭…آپ نے زُہْد کی حقیقت سے بےخبر لوگوں کی خاطِر خود پر زُہْد کا لِبادہ اَوڑھ رکھا ہے۔
اَلْغَرَضْ یہ زُہْد میں زُہْد یعنی زُہْد سے بے رَغْبَت ہونا اور دنیا میں رَغْبَت رکھنا ہے مگر جس شے کے مُتَعَلِّق آپ کو زُہْد اپنانے کا گمان ہے جب وہ آپ سے دُور ہو جائےاور آپ اس کا عِوَض یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مَحبَّت، رَضا اور اَجَر و ثواب پا لیں تو ہی آپ کا زُہْد دُرُسْت ہو گااور عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے نزدیک بھی آپ اپنے گمان میں سچّے ہوں گے اور زُہْد کے اَوصَاف سے نہ صِرف مُتَّصِف ہوں گے بلکہ زاہِدین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے نزدیک بھی آپ زاہِد شُمار ہوں گے۔
جو شے پاس نہ ہو اس میں زہد کا حکم
جو شے آپ کے پاس موجود نہ ہو اور آپ اس میں زُہْد اِخْتِیار کریں تو دُرُسْت نہیں۔یاد رکھئے! مَعْدُوم شے میں زُہْد کے باطِل ہونے کی وجہ سے غیر مَمْلُوکہ شے میں بھی زُہْد دُرُسْت نہیں ہوتا ، اس اِعْتِبَار سے کہ غیر مَمْلُوکہ شے میں چونکہ تَصَرُّف کرنا دُرُسْت نہیں اس لیے اس شے سے بے رغبتی کا اِظْہَار بھی دُرُسْت نہیں۔ہو سکتا ہے کہ اگر وہ شے مَوجُود ہوتی تو آپ کے دِل کی کَیْفِیَّت اس کے مُتعلِّق بَدَل جاتی کیونکہ خَبَر آنکھوں دیکھی بات جیسی نہیں ہوتی، اس لیے کہ خَبَر میں کبھی شُبہ و وَہْم ہو سکتا ہے مگر آنکھوں سے دیکھ کر حقیقت خُوب واضِح ہو جاتی ہے اور فیصلہ فِطرَت کے مُطابِق ہوتا ہے۔
نَفْس چونکہ کئی چیزوں کا پیکر ہوتا ہے کیونکہ اس کی فِطرَت میں اَشیا سے لُطْف اندوز ہونے کی مَحبَّت بھی شامِل ہوتی ہےلہٰذا کسی مَعْدُوم ظنی شے کو مَوجُود یقینی شے جیسا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اگر ایسا ہو جائے تو مُعَامَلہ کی کَیْفِیَّت کیا ہو گی آپ بخوبی سمجھتے ہیں۔
البتہ! بَسا اَوقات مَعْدُوم شے کا زُہْد میں ایک خاص مَقام ممکن ہے بشرطیکہ آپ اس شے کے پائے جانے پر خوش ہوں نہ اس کے نہ پائے جانے پر افسوس کریں، بلکہ اس کے نہ پائے جانے اور اپنے فَقْر پر خوش ہوں۔ اس طرح کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ کی اس کَیْفِیَّت کو جان لے کہ اگر وہ شے آپ کے پاس ہوتی تو بھی آپ خوش نہ ہوتے بلکہ اگر بعد میں بھی وہ شے آپ کے پاس آجائے تو آپ فوراً اسے خود سے دور کر دیں گے۔
زاہدہونے کے لیے تین باتیں کافی ہیں
٭… آپ کا دِل عَطائے اِلٰہی پر قَانِع ہو۔
٭…آپ دنیا سے محرومی کو رَضائے اِلٰہی جان کر اپنی حَالَت پر راضی ہوں۔
٭… زُہْد کی فضیلت پر اپنے یقین کی صَدَاقَت کے باعِث اس حَالَت کو تبدیل بھی نہ کرنا چاہیں۔
جب آپ ان تمام اَوصَاف کے حَامِل بن جائیں گے تو یہی باتیں آپ کے زاہِد ہونے کے لیے کافی ہیں اور آپ ایک اِعْتِبَار سے زاہِدین کا ثواب پا لیں گے خواہ دنیا نہ بھی پا سکیں کہ یہی سچّے فُقَرا کا زُہْد ہےجو فَقْر کے ساتھ ہی پایا جاتا ہے۔
کسی کا قول ہے کہ فقیر کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے فَقْر پر رَشْک کرے اور فَقْر کے سَلْب ہوجانے سے ڈرے جیسا کہ مال دارشخص اپنی مال داری پر رَشْک اور فَقْر میں مبتلا ہونے سے ڈرتا ہے۔چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا مالِک بن دینار عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْغَفَّار سے جب عَرْض کی گئی کہ بے شک آپ زاہِد ہیں تو اِرشَاد فرمایا:زاہِد تو حضرت سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْعَزِ یْز تھے جن کے پاس دنیا آئی اور وہ اس کے مالِک بھی بن گئے مگر انہوں نے اس میں زُہْد سے کام لیا ۔ باقی رہا میں! تو میں کس شے میں زُہْد سے کام لوں؟
پاس موجود شے میں زہد کے دُرُسْت ہونے کی صورت
بَسا اَوقات عارِف کا زُہْد اس کے پاس مَوجُود شے میں دُرُسْت ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اس شے کو نفسانی لذّت کے لیے حاصِل کرے نہ اس کا مالِک بن کر اس سے سُکُون حاصِل کرے، بلکہ اپنے قبضے میں مَوجُود شے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خزانوں میں شُمار کرے اور اس کے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حکْم کا اِنتِظار کرے۔ یہ اسی صُورَت میں مُمکِن ہے جب اس شے کا ہونا اور نہ ہونا دونوں اس کے نزدیک یَکْسَاں ہوں۔ نیز اس شے کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حکْم پا کر فوراً بجا لائے تو اس کی کَیْفِیَّت اس صُورَت میں ایسی ہوجائے گی گویا وہ شے اس کے پاس اَہْل و عَیال یا مسلمان بھائیوں کی (اَمَانَت)تھی یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا اس میں کوئی حَق تھا اور اس نے اس (اَمانَت یا حَق )کی ادائیگی میں جلدی کی ہے۔ یہ مَقام زُہْد سے بڑھ کر ہے ۔ اَلْغَرَضْ اس طرح وہ شے اس سے جُدا نہ ہوئی بلکہ کسی خاص سَبَب کے ذریعے وہ بھی اس میں خاص ہو گیا ہے اور یہ تَوَکُّل کا ایک مَقام ہے۔
سنّت سے مُسْتَنْبط زہد کا بیان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع