30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رغبتی ثابِت نہ ہو سکی، نیز جب انہوں نے پختہ اِرادہ کر لیا اور سب کا (آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو کنویں میں پھینکنے پر)اِتّفاق بھی ہو گیا، پھر بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں زاہِد نہیں کہابلکہ ان کے اس پختہ اِرادے کی خَبَر دیتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:
فَلَمَّا ذَهَبُوْا بِهٖ وَ اَجْمَعُوْۤا اَنْ یَّجْعَلُوْهُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّۚ- (پ ۱۲، یوسف:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: پھر جب اسے لے گئے اور سب کی رائے یہی ٹھہری کہ اسے اندھے (تاریک گہرے) کنویں میں ڈال دیں۔
مذکورہ تمام صورتوں میں حضر ت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں کو زاہِد نہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سب زُہْد کے اَسباب و مُقَدَّمات ہیں۔بَسا اَوقات زُہْد کی حقیقت نہ جاننے والے پر یہ اَسباب و مُقَدَّمَات اس طرح مُلْتَبَس ہو جاتے ہیں کہ وہ انہیں ہی زُہْد شُمار کرنے لگتا ہے، حالانکہ یہ زُہْد نہیں کیونکہ مذکورہ تمام صُورَتوں میں حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام اپنے بھائیوں کی دَسْتْرَس میں تھے مگر جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام ان کی دَسْتْرَس سے دُور ہو گئے اور انہیں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا عِوَض مِل گیا(یعنی دِرْہَم مِل گئے)تو ان کا زاہِد ہونا بھی ثابِت ہو گیا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس سارے مُعَامَلے کی خَبَر کچھ یوں دی:
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠(۲۰) (پ ۱۲، یوسف:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رَغْبَت نہ تھی۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ مذکورہ تمام صُورَت کو آپ اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ)آپ ایک کپڑا بیچنا چاہتے ہیں اور یہ خَیال آپ پر غالِب آجائے تو بھی آپ زاہِد شُمار نہ ہوں گے (یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آپ کو اس کپڑے سے کوئی رَغْبَت نہیں) البتہ ! آپ کی اس کپڑے سے بے رغبتی اسی صُورَت میں مُتَحَقِّق ہو سکتی ہے جب آپ اسے بیچ دیں اور اس کا کوئی عِوَض پا لیں۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠)میں غور کرنے سے مَعْلُوم ہوتا ہے کہ جس کا نَفْس کسی شے کی طَلَب میں ہو اور وہ اسے بخوشی اپنے ہاتھ سے جانے دے تو مُجاہَدہ کی وجہ سے اس کا زُہْد میں ایک خاص مَقام ہے مگر جس شخص نے وہ شے اپنے پاس رکھی اور اس کا نَفْس بظاہِر اس شے سے بے رغبتی کا اِظْہَار کرے تو ایسے شخص کا زُہْد میں کوئی مَقام نہیں،کیونکہ شے کو اپنے پاس رکھنا اس میں رَغْبَت رکھنے کی عَلامَت ہے اور رَغْبَت زُہْد کی ضِد ہے۔ لہٰذا کسی شے کی وہ صِفَت کیسے بیان کی جاسکتی ہے جس کی ضِد اس میں پائی جاتی ہو۔
شے کو پاس رکھ کر بے رغبتی کا اظہار
جو شخص شے کو اپنے پاس رکھ کر اس سے بے رغبتی کا اِظْہَار کر کے خود کو زاہِد سمجھتا ہے اس کی دو۲ صورتیں ہیں: وہ زُہْد کی حقیقت سے واقِف نہیں یا وہ نَفْس کی مخفی شہوتوں سے آگاہ نہیں۔بشرطیکہ وہ رَغْبَت رکھنے والوں میں سے نہ ہو۔
حقیقی زاہِد وُہی ہے جو شے کو اپنے دِل سے نِکال دے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں کو زاہِد کہنے کا تذکرہ گزرا ہے۔ جو شخص کسی شے کو اپنے پاس رکھ کر اس طرح خوش ہوتا ہے کہ اس کا دِل و دِماغ اس میں لگا رہے درحقیقت ایسا شخص اس شے میں رَغْبَت رکھنے والا ہوتا ہےاور یہ صِفَت عزیز مِصر کی ہے کہ جب اس نے حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کو خریدا۔جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو حاصِل کرنے اور رَغْبَت رکھنے کو یوں بیان کیا ہے:
اَكْرِمِیْ مَثْوٰىهُ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاؕ- (پ ۱۲، یوسف:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:انہیں عزّت سے رکھ شاید ان سے ہمیں نَفْع پہنچے یا ان کو ہم بیٹا بنا لیں۔
اسی طرح فِرْعَون کی زوجہ کی حضرت سَیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام سے رَغْبَت کو یوں بیان کیا:
قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَ لَكَؕ-لَا تَقْتُلُوْهُ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا (پ ۲۰، القصص:۹)
ترجمۂ کنز الایمان:یہ بچہ میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اسے قَتْل نہ کرو شاید یہ ہمیں نَفْع دے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔
اَلْغَرَضْ ہر وہ شخص جو کسی شے کو اپنے پاس جَمْع کر کے رکھے وہ اس سے بے رَغْبَت (یعنی زاہِد)نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے اپنے ہاتھ اور دِل سے دُور نہ کر دے۔ کیونکہ حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں کو اس وَقْت تک زاہِد نہ کہا گیا جب تک کہ انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو کم تر جانتے ہوئے خود سے دُور کر کے عِوَض نہ لیا۔
کتاب اللہ سے مستنبط زہد کا بیان
بَرَادرَانِ یُوسُف کی حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائی (بنیامین)سے بے رغبتی بھی بَسااَوقات اسی قَدْر ہوتی جس قَدْر آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے تھی کیونکہ ان کی قَدْر و مَنْزِلَت آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے والِد مَاجِد (حضرت سَیِّدُنا یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام ) کے ہاں آپ جیسی ہی تھی۔بے شک انہوں نے اپنے والِد ماجِد کی تَوَجُّہ حاصِل کرنے کے لیے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائی (بنیامین)سے بھی بے رغبتی کا اِرادہ ظاہِر کیا تھا (مگر پھر بھی انہیں زاہِد نہ کہا گیا)جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
لَیُوْسُفُ وَ اَخُوْهُ اَحَبُّ اِلٰۤى اَبِیْنَا مِنَّا (پ ۱۲، یوسف:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:ضَرور یُوسُف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں۔
اسی طرح ایک رِوایَت میں ہے کہ بَرَادْرَانِ یُوسُف نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے ساتھ آپ کے بھائی کو بھی کنویں میں پھینکنے کا اِرادہ کیا تو یہودا(نامی آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے ایک بھائی) نے ان کی ذِمَّہ داری قبول کرتے ہوئے ان کی سِفَارِش کی، اُسے ان پر رَحْم آگیا تھا اور اس نے اپنے بھائیوں کو انہیں بھی کنویں میں پھینکنے سے مَنْع کیا۔ وہ تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ طاقتور اور رُعْب و دبدبے والا تھا۔ ایک قول میں ہے کہ اس نے دوسرے بھائیوں سے بنیامین کو مانگ لیا اور کہا:اسے چھوڑ دو تاکہ اس سے عُمْر رَسِیدہ باپ کو تَسَلّی رہے، اسے دونوں بھائیوں کا غم دونہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع