30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نَبوت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:جو اس حال میں مَرے کہ اس نے جِہاد کیا نہ اس کے دِل میں جِہاد کا خیال آیا وہ نِفاق کے ایک شعبےپر مَرا۔[1]
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اسی جِہاد کے ذریعے ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کاذِبین (یعنی جھوٹوں)کو ظاہِرفرمایا اور ان کے دِل کی بیماری میں مبتلا ہونے کا وَصْف ذِکْر کیا۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:
فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُۙ-رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِؕ- فَاَوْلٰى لَهُمْۚ(۲۰) طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ- فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ- فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ(۲۱) (پ ۲۶، محمد:۲۰، ۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:پھر جب کوئی پختہ سورت اتاری گئی اور اس میں جِہاد کا حکْم فرمایا گیا تو تم دیکھو گے انہیں جن کے دِلوں میں بیماری ہے کہ تمہاری طرف اس کا دیکھنا دیکھتے ہیں جس پر مُردنی چھائی ہو تو ان کے حَق میں بہتر یہ تھا کہ فرمانبرداری کرتے اور اَچھّی بات کہتے پھر جب حکْم ناطِق ہوچکا تو اگر اللہ سے سچّے رہتے تو ان کا بھلا تھا۔
مذکورہ آیتِ مُبارَکہ میں چند باتوں کی وَضَاحَت حَسْبِ ذیل ہے:
٭… (مَرَضٌ ) سے مُراد نِفاق کا مَرْض ہے۔
٭… (یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِؕ- فَاَوْلٰى لَهُمْۚ)ڈراوے اور وَعِید کے طور پر ہے یعنی عَذاب ہی ان کا ساتھی ہے اور وہ ان کے قریب ہے۔
٭… فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ )سے مُراد یہ ہے کہ جب حقائق ثابِت ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں جھٹلا دیتے ہیں اور مانتے نہیں۔
٭… فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ)کا مَطْلَب ہے کہ اگر وہ اپنا وعدہ سچا کر دِکھاتے تو یہ ان کے لیے بہتر تھا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے دنیا کا وَصْف زِنْدَگی قرار دیا ہے یعنی دنیا ہی زِنْدَگی ہے۔[2] مُرادیہ ہے کہ جس نے زِنْدَگی کو پسند کیا اس نےادنیٰ شے یعنی دنیا کو پسند کیا۔ اَلْغَرَضْ دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ نفسانی خواہش کی پَیروی کے لیے زِنْدَگی سے مَحبَّت کرے اور زِنْدَگی کے لیے ادنیٰ شے کی مَحبَّت میں نفسانی خواہش کی مُوَافِقَت کرے۔ چنانچہ یہ دونوں اُمور ایک دوسرے میں داخِل ہیں کیونکہ لذّتِ نَفْس کی خاطِر زِنْدَگی سے مَحبَّت کو نفسانی خواہش کہتے ہیں جو اَصْل میں نَفْسِ اَ مّارہ کی صِفَت ہے اور اس نفسانی خواہش کی پَیروی جو نَفْس کی زِنْدَگی ہے اَصْل میں زِنْدَگی کی مَحبَّت کی بنا پر ہے۔اس لیے کہ اگر بندے کو فوری موت کا یقین ہو جائے تو ہر صُورَت میں حَق کو نفسانی خواہش پر ترجیح دے گا اور اگر وہ زِنْدَگی سے مَایُوس ہو جائے تو کبھی ادنیٰ شے یعنی
دنیا کی جانِب راغِب نہ ہو گا۔ مَعْلُوم ہوا زِنْدَگی کی مَحبَّت نفسانی خواہش سے مُتَعَلِّق ہے اور نفسانی خواہش کو ترجیح دینا زِنْدَہ رہنے کی مَحبَّت کی وجہ سے ہے اور یہی دنیا کی حقیقت ہے۔
جو لوگ زِنْدَہ رہنے کی بَہُت کم اُمِّیدرکھتے ہیں وہ دنیا میں سب سے بڑے زاہِد شُمار ہوتے ہیں یہاں تک کہ یہ لوگ دوسرے دن کے لیے جَمْع کر کے کچھ نہیں رکھتے۔اس لیے کہ یہ سمجھتے ہیں کہ کل تک وہ شے باقی نہیں رہے گی،مگر جو لوگ دنیا کو بَہُت زیادہ مَرْغُوب جانتے ہیں وہ سب سے زیادہ لمبی اُمِّیدیں باندھتے ہیں۔ کیونکہ دنیا کے حُصُول میں ان کی رَغْبَت شدید اور طویل دُنْیَاوِی زِنْدَگی کی اُمِّید میں ان کی حِرْص کثیر ہوتی ہے۔اس لیے کہ آنے والے کل کے لیے اگر ان کی اُمِّید مختصر ہوتی تو یہ اس صُورَت میں فَقْر اِخْتِیار کرتے اور فَقْر کا اِخْتِیار کرنا زُہْد ہے۔
زُہْد کی حقیقت کا ایک دوسرا بیان
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ شَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُوْدَةٍۚ-وَ كَانُوْا فِیْهِ مِنَ الزَّاهِدِیْنَ۠(۲۰) (پ ۱۲، یوسف:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بھائیوں نے اسے کھوٹے داموں گنتی کے روپوں پر بیچ ڈالا اور انہیں اس میں کچھ رَغْبَت نہ تھی۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس آیتِ مُبارَکہ میں حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں کو زاہِد کہنے کا سَبَب ان کے حَق میں زُہْد کے معنیٰ(یعنی بے رغبتی) کا پایا جانا ہے، لہٰذا اس معنیٰ کی وَضَاحَت کی ضَرورت ہے تاکہ مَعْلُوم ہو سکے کہ کس شخص میں یہ معنیٰ و مفہوم مُتَحَقِّق ہو تو اسے زاہِد کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان (شَرَوْهُ )اس مَقام پر (بَاعُوْہُ) کے معنیٰ میں ہے یعنی حضرت سَیِّدُنا یُوسُف عَلَیْہِ السَّلَام کے بھائیوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو بیچ دیا، کیونکہ عربوں کے ہاں بیع اور شِرا دونوں لَـفْظ ایک دوسرے کی جگہ اِسْتِعمال ہوتے رہتے ہیں۔لہٰذا جب انہوں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو بیچا اور آپ ان کے قبضے سے نکل گئے تو گویا وہ زاہِد بن گئے یعنی انہیں آپ عَلَیْہِ السَّلَام سے کوئی رَغْبَت نہ رہی۔ اسی طرح بندہ جب اپنی جان اور اپنا کل مال اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو بیچ دیتا ہے اور اپنی نفسانی خواہش سے منہ موڑ کر راہِ خدا کی طرف چل دیتا ہے تو وہ زاہِدین میں شُمار ہونے لگتا ہے۔ جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان ہے:
اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ- (پ ۱۱، التوبة:۱۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشك اللہ نے مسلمانوں سے انكے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ انکے لیے جنّت ہے۔
اسی طرح اِرشَاد فرمایا:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع