دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

فَاَمَّا مَنْ طَغٰىۙ(۳۷) وَ اٰثَرَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَاۙ(۳۸) فَاِنَّ الْجَحِیْمَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۳۹)(پ ۳۰، النّٰزعٰت:۳۷ تا ۳۹)

ترجمۂ کنز الایمان:تو وہ جس نے سرکشی کی اور دنیا کی زِنْدَگی کو ترجیح دی تو بے شک جہنّم ہی اس کا ٹھکانا ہے۔

دنیا کو ترجیح نہ دینا زہد ہے

جب جنّت جہنّم کی ضِد ہے تو خواہش دنیا کہلائے گی کیونکہ خواہش سے روکنے کی ضِد اسے ترجیح دینا ہے۔ جس نے اپنے نَفْس کو خواہش سے روکا گویا اس نے دنیا کو ترجیح نہیں دی اور جب دنیا کو ترجیح نہ دی جائے تو اسے زُہْد کہتے ہیں،زُہْد کے لیے جنّت ہے جو کہ جہنّم کی ضِد ہے اور جہنّم اس کے لیے ہے جس نے اپنے نَفْس کو خواہش سے نہ روک کر دنیا کو ترجیح دی۔ چنانچہ خواہش کی پَیروی اور ہر مُعامَلے میں اسے ترجیح دینا دنیا ہے۔ لہٰذا ہر شے میں خواہشِ نَفْس کی مُخالَفَت کرنا زُہْد ہے۔

زِنْدَگی سے مَحبَّت

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)وہ دوسرا مَفہوم جسے وَصْفِ خواہش سے تعبیر کے علاوہ دنیا قرار دیا گیا،اس سے مُراد نفسانی لذّت کے حُصُول کی خاطِر زِنْدَگی سے مَحبَّت کرنا ہے اور ہمارے اِسْتِنْبَاط کی دلیل یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَۚ-لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍؕ- (پ ۵، النسآء:۷۷)           

ترجمۂ کنز الایمان:اور بولے اے رب ہمارے تو نے ہم پر جِہاد کیوں فَرْض کر دیا تھوڑی مُدَّت تک ہمیں اور جینے دیا ہوتا۔

یہاں الْقِتَالَۚ سے مُراد دُنْیَاوِی زِنْدَگی سے جُدائی ہے، کیونکہ قِتال کہتے ہیں تلوار لے کر دشمن کی جانِب پیش قَدَمی کرنے اور بالآخر دو۲تلواروں کے درمیان خَتْم ہو جانے کو۔یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں دوسرے وَقْت تک باقی کیوں نہیں رکھا گیا یعنی ہماری زِنْدَگی کا خاتِمہ فطری موت ہوتا نہ کہ جِہاد کے ذریعے۔ یہی دُنْیَاوِی زِنْدَگی کی مَحبَّت ہے جس کی تفسیر دنیا سے کی گئی ہے۔ چنانچہ اِرشَاد فرمایا:

قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌۚ-وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى-(پ ۵، النسآء:۷۷)         

ترجمۂ کنز الایمان:تم فرما دو کہ دنیا کا بَرْتَنا تھوڑا ہے اور ڈر والوں کے لیے آخِرَت اَچھّی۔

اَلْغَرَضْ جِہاد کی فَرْضِیَّت کے وَقْت تمام لوگوں کی حقیقت واضِح ہو گئی،مُنافقین رُسْوا ہوئے، مومنین کا اِمتحان ہو گیا اور وہ مُـحِبِّیْن ظاہِر ہوئے جن کے مُتعلِّق اِرْشَادِ باری تعالیٰ ہے:

الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴) (پ ۲۸، الصف:۴)            

ترجمۂ کنز الایمان:جو اس کی راہ میں لڑتے ہیں پرا(صَف) باندھ کر گویا وہ عِمارَت ہیں رانگا (سیسہ) پلائی۔

نفع و نقصان پانے والے لوگ

اس وَقْت انہی لوگوں نے نَفْع پایا جنہوں نے اپنی جانوں اور مالوں کو بیچا اور جن لوگوں نے اُخْرَوِی زِنْدَگی کے بدلے دُنْیَاوِی زِنْدَگی کو خریدا وہ خَسارے میں رہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَؕ- (پ ۱۱، التوبة:۱۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:بیشك اللہ نے مسلمانوں سے انكے مال اور جان خرید لئے ہیں اس بدلے پر کہ انکے لیے جنّت ہے۔

مُراد یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مومنین کے جان اور مال کو خریدا تو انہوں نے بھی سب کچھ بیچ دیا۔

مگر خَسارہ پانے والے خریداروں کے مُتعلِّق اِرشَاد فرمایا:

الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ٘- (پ ۱، البقرة:۸۶)              

ترجمۂ کنز الایمان:وہ لوگ جنہوں نے آخِرَت کے بدلے دنیا کی زِنْدَگی مول لی۔

مَطْلَب یہ ہے کہ انہوں نے دُنْیَاوِی زِنْدَگی چاہی ،اس لیے کہ انہوں نے اُخْرَوِی زِنْدَگی کے بدلے دُنْیَاوِی زِنْدَگی کو خرید لیا تھا۔

گھاٹے کی تجارت

جس نے لاکھوں بلکہ ہمیشہ کی زِنْدَگی کے بدلے تیس چالیس سال کی زِنْدَگی خریدی گویا اس کی تِجَارَت نَفْع بخش ہے نہ وہ سیدھے راستے پر ہے۔ یہ تِجَارَت اس شخص کی ہے جس نے دُنْیَاوِی زِنْدَگی میں رَغْبَت رکھی اور دائمی زِنْدَگی کے بدلے فانی زِنْدَگی خریدی، گویا اس نے اَعلیٰ زِنْدَگی بیچ کر اس کی ضِد یعنی پَسْت زِنْدَگی خرید لی۔ چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان(اشْتَرَوُا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا (پ ۱، البقرة:۸۶) ترجمۂ کنز الایمان: جنہوں نے دنیا کی زِنْدَگی مول لی۔ )کا مَفہوم بھی یہی ہے کہ انہوں نے اَعلیٰ زِنْدَگی بیچ ڈالی ۔

نفع بخش تجارت

اس شخص کی تِجَارَت جس نے اپنی فانی زِنْدَگی کو بیچا اور اپنا سارا مال راہِ خُدا میں خَرْچ کر ڈالا اس سے مُراد گویا یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ سب کچھ اس سے خرید لیا اور اس کے عِوَض اسے اپنی جنّت عَطا فرمائی اور اسے اپنے جَوارِ رَحْمَت میں جگہ بھی عَطا فرمائی۔ اس شخص کی تِجَارَت نَفْع بخش ہی نہیں بلکہ یہ خود بھی راہِ ہِدَایَت پر ہے۔ اس لیے کہ اس نے تیس چالیس سالہ زِنْدَگی کو دائمی زِنْدَگی کے بدلے بیچا۔

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ دنیا میں زُہْد اِخْتِیار کرنے اور آخِرَت کی تِجَارَت کرنے والوں کا نَفْع ہے، جبکہ پہلے نفسانی خواہشات میں رَغْبَت رکھنے اور دنیا کی تِجَارَت کرنے والوں کا خَسارہ بیان ہوا ۔ گویا دونوں قِسْم کی تِجَارَت میں فَرْق واضِح ہے اور اس شخص کی حَسْرَت کس قَدْر عظیم ہو گی جو خَسارے کی تِجَارَت کی بنا پر اس نَفْع سے مَحْرُوم رہے گا جو زاہِدین موت کے بعد پائیں گے۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن