دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت ایسا بیش قیمت لباس پہنا کرتی جو اس کی شَرْم گاہ کو نہ چھپا پاتا (تویہ آیتِ مُبارَکہ نازل ہوئی)۔ کیونکہ اس کا بدن صاف دکھائی دیتا اور ایسے لباس میں چونکہ نماز جائز نہیں۔ لہٰذا اسے پہننا سخت مکروہ ہے۔

سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا لباس عام طور پر اس قسم کے کپڑوں کا ہوتا تھا: سُنْبُلالی، قطوانی، یمنی عَصْب، مِصری مَعافر، غِلافِ کعبہ کی مثل کپڑے کا بنا ہوا جبہ یا شیروانی،یمنی سوتی اور حَضْرَمی کھدر۔ یہ تمام کپڑے موٹے اور کھردرے تھے۔ جن کی قیمت پانچ۵سے لے کر 30 درہم تک ہوتی۔ اس کے بعد لوگوں نے مِصری کتّان اور خُراسانی سوتی کپڑے پہننا شروع کر دیئے۔ جانِ جہان، سرورِ کون و مکان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اِزار مُبارَک کی لمبائی ساڑھے چار۴ذراع (گز) تھی اور اس کی مالیت چار۴سے پانچ۵تک ہوتی۔ سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی قمیص کی قیمت بھی عام طور پر پانچ۵سے دس تک ہوتی۔ ایک رِوایَت میں ہے : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَصِيرَ الْمَعْرُوفُ مُنْكَرًا وَالْمُنْكَرُ مَعْرُوفًا۔ یعنی قِیامَت اس وَقْت قائم ہو گی جب نیکی، بدی میں اور بدی نیکی میں بدل جائے گی۔[1]

حضرت سَیِّدُنا   ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے  کہ لوگ ہر آنے والے سال میں ایک سنّت کو بھول جائیں گے اور ایک بِدْعَت اپنائیں گے یہاں تک کہ سنتیں مٹ جائیں گی اور بدعتیں رہ جائیں گی۔

منکر کو منکر کہنے کی وجہ

مُنْکَر کو مُنْکَراس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی حقیقت سے کوئی آگاہ نہیں ہوتا۔ پس جب حق اس طرح چھپ جائے کہ کوئی اسے پہچان نہ پائے تو اس حق پر بھی مُنْکَر کا اِطلاق ہو سکتا ہے۔

معروف کو معروف کہنے کی وجہ

کسی بات یا شے کو معروف اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ لوگوں میں مشہور ہوتی ہے اور لوگ اس سے مانوس ہوتے ہیں۔ پس جب باطِل عام ہو جائے اور جَہالَت کی بُہْتات ہو جائے یہاں تک کہ لوگ اس سے مانوس ہو جائیں اور صِرف اسی سے آگاہ ہوں تو اس صُورت میں اس باطِل و جَہالَت پر معروف کا اِطلاق ہو سکتا ہے۔ ظُلْم بھی اسی طرح ہے کہ جب کسی مُعاشَرے میں عام ہو جائے تو اس وَقْت پیدا ہونے والے لوگ عدل کا نام تک نہیں جانتے۔

ایک زمانہ ایسا آئے گا

حضرت سَیِّدُناامام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرمایا کرتے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں وہ حَجاج بن یُوسُف کو بھی اچھّا سمجھیں گے۔(صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی  فرماتے ہیں)بے شک وہ زمانہ آ چکا ہے۔

حجاج بن یُوسُف کو اچھا سمجھنے کے چند اسباب

حضرت سَیِّدُناامام شعبی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے اس قول کی وجہ یہ تھی کہ حجاج بن یُوسُف نے بَہُت سی ایسی نئی باتیں ایجاد کی تھیں جن کو اس زمانے کے لوگوں نے پسند نہ کیا مگر آج وہی باتیں اَچھّی جانی جاتی ہیں۔ لوگ ان باتوں کا آغاز کرنے والے شخص کو اچھا سمجھتے ہیں اور اس پر رشک کرتے ہیں اور گمان رکھتے ہیں کہ اسے ان باتوں پر اجر و ثواب دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ وہ حجاج بن یوسف کے ان باتوں کے ایجاد کرنے کی سعی کرنے پر اس کا اِحسان مانتے ہیں مگر وہ اس حقیقت سے آگاہ نہیں کہ ان کا ایجاد کرنے والا حجاج بن یُوسُف ہے۔ وہ اگرچہ زبان سے تو اس کے لیے رحمت کی دعا نہیں کرتے مگر لوگوں کا اس کی ایجاد کردہ باتوں اور کاموں کو اپنانا اور انہیں اَچھّا جاننا گویا اس کے حق میں دُعائے رحمت کرنا ہی ہے۔ اس کے علاوہ لوگوں کے حجاج بن یُوسُف کو اَچھّا سمجھنے کا ایک سَبَب یہ بھی ہے کہ اس نے چند اچھی اور خیرو بھلائی والی باتوں کا آغاز کر کے انہیں آخِرَت میں نجات کا سَبَب بننے والے اَعمال میں شامِل کر دیا تھا۔ [2] مگر اس کے بعد بعض ایسے لوگ حکمران بنے جنہوں نے عوام پر ظُلْم وسِتَم ڈھانے کے نئے نئے طریقے دریافت کئے اور فِسْق و فُجُور سے بھرپور بدعتیں اپنائیں، پھر ان کے بعد یہی طریقے حکمرانوں میں عام ہو گئے۔ چنانچہ حجاج بِن یُوسُف کے بعد حکمرانوں کے اعمال دیکھ کر لوگ سمجھتے کہ ان سے تو حجاج بن یوسف ہی بہتر تھا۔

حَجَّاجْ بِنْ یُوْسُف کے ایجادکردہ کام

حجاج بن یوسف نے درج ذیل نئے کام شروع کئے:

سفر میں عیاشی

سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کا سفر میں طریقہ یہ تھا کہ وہ عیاشی اور خوشحالی سے بچتے تھے مگر حجاج بن یُوسُف بیش قیمت کجاووں اور قُبوں میں سفر کیا کرتا۔ حالانکہ عام لوگ جب سفر پر روانہ ہوتے تو اونٹ صِرف سواری یا باربرداری کے لیے ہی اِسْتِعمال کرتے۔ وہ دن کے وَقْت تپتی دھوپ میں سفر کیا کرتے، راہِ خدا میں خیمے نصب کرتے، ان کے بال و لباس پراگندہ و غُبار آلود ہوتے، کم کھاتے، کم سوتے، سُواری کے جانوروں کا بَہُت زیادہ خیال رکھتے، ان سے زیادہ مَشَقَّت لیتے نہ ان پر زیادہ بوجھ لادتے۔ سفر میں زیادہ ثواب کماتے، حج کے موقع پر سفر میں تزکیۂ نفس کرتے اور سب سے بڑی بات یہ کہ سفر میں ان کے سُواری کے جانور بھی

صحت مند رہتے، نیز وہ سفر میں سرورِ دو۲عالم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں کا خاص خیال رکھتے۔ مگر حجاج بن یُوسُف نے ان تمام باتوں میں اَسلاف کی مُخالَفَت کی اور لوگوں کو اس مُعامَلے میں اپنی ایجاد کردہ باتوں کے اپنانے کی ترغیب دی۔ پس اب لوگ گھروں سے نکلتے ہیں تو ان کے اونٹوں پر کجاووں کے ساتھ (بھاری بھرکم) سایہ دار چھتیں ہوتی ہیں جو بعض اَوقات



[1]………جامع صغیر  ، ص۲۱۱ ، حدیث:  ۳۴۹۱

[2]………زمانہ رسالت میں  قرآنِ عظیم کی سورتیں  اور آیات متفرق طور پر لوگوں  کو یاد تھیں ۔ تحریر میں  بھی تھیں  لیکن پورا قرآنِ عظیم مجموعی طور پر کسی صحیفہ میں  حضرت سَیِّدُنا   صدیق اکبر رَضِیَاللّٰہُتَعَالٰی عَنْہ کے عہد مُبارَک میں  تحریراً ایک جگہ جمع ہوا مگر پورے عہدِ صحابہ تک قرآنِ عظیم میں  نہ کوئی نقطہ تھا نہ حرکت اور اسلام کی اشاعت میں  روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ نئی داخِل ہونے والی قوموں  کو اس کی تلاوت میں  سخت زحمت ہوتی تھی تو ان کے لیے آسانی کے خیال سے اُمَوِی حکومت کے ایک ظالِم وجابِر ،  فاسِق وفاجِر گورنر نے جس کی گردن پر ہزاروں  صحابہ وتابعین کا خُونِ ناحَق سُوار تھا عہدِ تابعین میں  نقطے اور حرکتیں  لگوائیں  جس کا نام حجاج بن یوسف ثقفی ہے۔ خاص کتابُ اللہ میں یہ نو ایجاد کام عہدِ تابعین میں  ظاہِر ہوا۔ تب سے آج تک پورے عالَمِ اسلام میں  اسی طرزِ تحریر کی پابندی کی جا رہی ہے اور بلا نکیر سارے کلمہ گو اسی کے مُوَافِق قرآن کی اشاعت کو اسلام کی خِدْمَت اور کارِثواب سمجھتے ہیں ۔ (فتاویٰ بحر العلوم ،  کتاب العقائد ،  سنت و بدعت کا بیان ، ۶/  ۲۴۳)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن