دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

خِدْمَت کرے۔[1]

زمین کڑوی بھی ہے اور میٹھی بھی

ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا کی جانِب وَحِی فرمائی:میرے اَوْلِیا کے لیے کڑوی بن جا یہاں تک کہ وہ ان نعمتوں کو مَرْغُوب جاننے لگیں جو میرے پاس ہیں اور میرے دشمنوں کے لیے میٹھی بن جا یہاں تک کہ وہ میری ملاقات کو ناپسند جاننے لگیں۔[2]

خدا اسے ہی ملتا ہےجو اسے ملنا چاہے

اُمُّ المومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہا سے مَرْوِی ہے کہ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی اس سے ملنا پسند فرماتا ہے اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ملنا پسند نہیں کرتا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی اس سے ملنا پسند نہیں فرماتا۔[3]

اَلْغَرَضْ مذکورہ تمام روایات دنیا داروں کی کمر توڑنے والی اور اسے چاہنے والوں کی آنکھوں کو جَلانے والی ہیں۔ جبکہ ان کے برعکس زُہْد کی فضیلت اور فَقْر کے شَرَف پر مبنی اَچھّی روایات سچّے فُقَرا کے سَروں کو بُلَند کرنے والی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے صَالِـحِین و زاہِدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیں۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) (پ ۲۱، السجدة:۱۷)

ترجمۂ کنز الایمان:تو كسی جی كو نہیں مَعْلُوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لیے چھپا رکھی ہے صِلہ ان کے کاموں کا۔

حب دنیا کی بنیادی وجہ

دنیا میں رَغْبَت کی بنیادی وجہ یقین کی کمزوری ہے،کیونکہ اگر بندے کا یقین قَوِی ہو تو:

٭وہ نُورِ یقین سے آخِرَت کی طرف دیکھتا ہے اور دنیا اس کی نِگاہوں سے پوشیدہ رہتی ہے۔

٭وہ غائِب شے سے منہ مَوڑ لیتا ہے اور مَوجُود شے کو پسند کرتا ہے۔

٭وہ ہر اس شے کو ترجیح دیتا ہے جو دوبارہ اس کی طرف لَوٹنے والی، باقی رہنے والی ، نَفْع دینے والی اور اس کے پروردگار عَزَّ  وَجَلَّ کوراضی کرنے والی ہوتی ہے۔

٭ وہ فانی اور خَتْم ہو جانے والے اَعمال کے بجائے دائمی اور باقی رہنے والے اَعمال سَر اَنْجام دیتا ہے۔

یہی زُہْد کی صُورَت اور اَہْلِ یقین کا مُشاہَدہ ہے، یقیناً کوئی شخص کسی غائِب ہو جانے اور بَدَل جانے والی شے کو پسند نہیں کرتا۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا اِبراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اِرشَاد فرمایا:

وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ(۷۵) (پ ۷، الانعام:۷۵)           

ترجمۂ کنز الایمان:اور اس لیے کہ وہ عَیْنُ الْیَقِین والوں میں ہو جائے۔

دوسرے مَقام پر اِرشَاد فرمایا:

لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ(۷۶) (پ ۷، الانعام:۷۶)                                ترجمۂ کنز الایمان:مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے۔

اَہْلِ یقین کو مِلّتِ ابراہیمی کی پَیروی کا حکْم دیا گیا ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَؕ- (پ ۱۷، الحج:۷۸)                              ترجمۂ کنز الایمان:تمہارے باپ ابراہیم کا دین۔

یعنی تم پر تمہارے باپ حضرت سَیِّدُنا اِبراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی مِلّت اِخْتِیار کرنا لازِم ہے، لہٰذا ان کی مِلّت کی پَیروی کرو(اور خَتْم ہو جانے والی دنیاکو پسند نہ کرو)۔

چار۴انوار اور چار۴ مشاہدات

اُخْرَوِی وعدے و وَعِید کا مُشاہَدہ نُورِ عَقْل سے نہیں بلکہ نُورِ یقین سے ہوتا ہے۔ کیونکہ اَنْوَار کی چار۴ قسمیں ہیں اور قَلْب چار۴ جِہات یعنی مُلک، مَلکوت، عزّت و جَبْرُوت کی طرف مُتَوجّہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ قَلْب نُورِ عَقْل سے مُلک کا، نُورِ اِیمان سے مَلکوت کا، نُورِ یقین سے عزّت یعنی صِفات کا اور نُورِ مَعْرِفَت سے جَبْرُوت یعنی

وَحْدَانِیَت کا مُشاہَدہ کرتا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قَلْب کا اِحاطہ کیے ہوئے ہے، جو چاہتا ہے اس پر مُنْکَشِف فرماتا ہے اور جو مُشاہَدہ اسے کرواتا ہے اس کا وِجدان اس پر غالِب آجاتا ہے۔

ضعف و قوتِ یقین

ضُعْفِ یقین بَسا اَوقات ہر شے میں داخِل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ ہر عَمَل میں قوّتِ یقین کی حاجَت رہتی ہے ورنہ وہ عَمَل دنیا کے لیے ہو گاجس کی جانِب رہنمائی نُورِ عَقْل سے ہی حاصِل کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا جسے نُورِ یقین عَطا نہ ہو وہ مُلکِ کبیر(یعنی آخِرَت) پر نَظَر نہیں رکھتا بلکہ اس کی خواہش مُلکِ صغیر (یعنی دنیا) کا حُصول ہوتی ہے۔ اس طرح وہ ایک مَعْدُوم شے سے مَحبَّت کرنے لگتا ہے اور یوں اس کی ہِمَّت  بُلَند ہوتی ہے نہ اس کے پاس کوئی اعلیٰ شے ہوتی ہے۔

زُہْد کی حقیقت و مَاہِیَّت کا بیان

زہد کی حقیقت کیا ہے؟

جب تک بندہ یہ نہ جان لے کہ دنیا کیا ہے؟ وہ زُہْد کی حقیقت و مَاہِیَّت کے مُتَعَلِّق نہیں جان سکتا کہ وہ کیا چیز ہے؟ (صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)بے شک لوگوں نے زُہْد کی حقیقت کے مُتَعَلِّق بَہُت سی باتیں بیان کی ہیں مگر ہمیں ان کے اَقوال بیان کرنے کی حاجَت نہیں كیونكہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کی حقیقت خود ہی بیان فرما دی ہے اور اپنی کِتاب کے ذریعے ہمیں لوگوں کے اَقوال سے مُسْتَغْنِی فرما دیا ہےکہ جس میں شِفا و غِنا ہے۔نیز اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بھی فرمانِ ہِدایَت



[1]………تاريخ بغداد ، ۸/ ۴۴ ، الرقم:  ۴۱۰۰:  الحسین بن داود

حلية الاولياء ،  جعفر بن محمد  الصادق ، ۳/ ۲۲۶ ، حدیث:  ۳۷۸۵

[2]………معجم کبیر ، ۱۹/ ۷ ، حدیث:  ۱۱ ، بتغیر

[3]………مسلم ،  کتاب الذکرو الدعاءالخ ،  باب من احب لقاء اللہ الخ ،  ص۱۴۴۱ ،  حدیث:  ۲۶۸۴

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن