دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

سے مُسْتَغْنِی ہو جائیے تو اِرشَاد فرماتے:مجھے اس کی کوئی حاجَت نہیں بلکہ مجھے ڈر ہے کہ یہ میرے دِل کو خراب کر دے گا۔

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یہ وہ لوگ تھے جن کا دِل صالِح تھا، انہوں نے اپنے دِل کی خوب دیکھ بھال کی کیونکہ انہیں اس کے بَدَل جانے کا خوف لاحِق تھا۔

دنیا کی قیمت

مَرْوِی ہے کہ سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک خارِش زدہ مُردہ بکری کے بچے کے پاس سے گزرے تو اِرشَاد فرمایا:کیا تم دیکھتے ہو کہ یہ اپنے مالِکوں کے ہاں کس قَدْر حقیر ہے؟ (کہ انہوں نے اسے یوں پھینک دیاہے۔ راوی فرماتے ہیں)ہم نے عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اس کے حقیر ہونے کی وجہ سے ہی اس کے مالِکوں نے اسے پھینکا ہے۔اِرشَاد فرمایا:یہ مُردہ بکری کا بچہ جس قَدْر اپنے مالِکوں کے نزدیک حقیر ہے اس سے بڑھ کر دنیا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک حقیر و بے قیمت ہے۔[1]

ایک رِوایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:تم میں سے کون اسے ایک دِرْہَم کے بدلے لینا چاہے گا؟(راوی فرماتے ہیں)ہم نے عَرْض کی:ہم میں سے کوئی بھی اسے لینا نہ چاہے گا، بھلایہ بھی کسی شے کے مُساوِی ہو سکتا ہے؟اِرشَاد فرمایا:جس قَدْر تمہارے نزدیک یہ حقیر ہے دنیا اس سے بڑھ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک حقیر ہے۔[2]

دنیا کاوزن

دنیا کے انتہائی قلیل و بے وَقْعَت ہونے کے مُتَعَلّق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نِشان ہے:اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں دنیا کا وَزْن مچھر کے ایک پَر جتنا بھی ہوتا تو وہ کسی کافِر کو بھی اس سے ایک قطرہ پانی کا نہ پلاتا۔[3]

دنیا بول و براز کی مثل ہے

دنیا کے بدبودار ہونے اور دنیاداروں پر اس کے بدلنے کے مُتَعَلّق ایک اَعرابی کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:کیا تم نہیں دیکھتےکہ کیا کھاپی رہے ہو؟ اور کیا تم بول و بَراز نہیں کرتے؟عَرْض کی: یقیناً دیکھتے ہیں۔اِرشَاد فرمایا:یہ کیا بَن جاتا ہے؟عَرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ جو بھی بنتا ہے آپ جانتے ہی ہیں۔اِرشَاد فرمایا:کیا ایسا نہیں ہے کہ جب تم میں سے کوئی اپنے گھر کے پچھواڑے میں (قَضائے حاجَت کے لیے) بیٹھتا ہے تو اس کی بَدبُو کی وجہ سے اپنا ہاتھ ناک پر رکھ لیتا ہے؟عَرْض کی: جی! ایسا ہی ہے۔اِرشَاد فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا کو اس شے کی مِثل قرار دیا ہے جو انسان کے پیٹ سے نکلتا ہے۔[4]

(صَاحِبِ کِتاب  اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان (وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْؕ-اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ(۲۱) (پ ۲۶، الذّریت:۲۱) ترجمۂ کنز الایمان:اور (نِشانیاں ہیں)خود تم میں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔)کی تاویل میں بھی مَنْقُول ہے کہ یہاں مُراد بول و بَراز کے مَقام ہیں۔جبکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان(وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا مَتَاعٌ۠(۲۶) (پ ۱۳، الرعد:۲۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور دنیا کی زِنْدَگی آخِرَت کے مُقَابِل نہیں مگر کچھ دن بَرْت لینا۔) کی تفسیر میں اَہْلِ لُغَت فرماتے ہیں کہ یہاں (مَتَاعٌ۠) سے مُراد مُردار ہے اور میں نے حضرت سَیِّدُنا اِمام اَصْمَعِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی سے عربوں کا یہ مَقُولَہ سنا ہے کہ جب گوشت خراب ہو جائے اور بدبودار ہو جائے تو وہ کہتے ہیں: مَـتَعَ اللَّحْمُ یعنی گوشت خراب ہو کر بدبودار ہو گیا ہے۔(یعنی دُنْیَاوِی زِنْدَگی بدبودار مُردار یا بول و بَراز کی طرح ہے)

زمین پر سب سے پہلا کام

حضرت سَیِّدُنا حسن رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سَیِّدُناآدَم عَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام زمین پر تشریف لائے تو سب سے پہلا کام انہوں نے یہی کیا کہ انہیں حَدَث لاحِق ہوا(یعنی انہوں نے قَضائے حاجَت کی)۔ حضرت سَیِّدُناابن عبّاس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مَرْوِی ہے کہ جب حضرت سَیِّدُناآدَم عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے جِسْم سے خارِج ہونے والی شے کی طرف دیکھا اور اس کی بَدْبُو ناگوار گزری تو غمزدہ ہو گئے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سے عَرْض کی:یہ بَدْبُو آپ کی لَغْزِش کی ہے۔

دنیا ایک بیت الخلا ہے

اہل عَقْل و دانِش نے دنیا کا مُشاہَدہ بَیْتُ الْخَلا کی شکل میں کیا، وہ اس میں ضَرورتاً داخِل ہوتے ہیں، لہٰذا آپ بھی بَیْتُ الْخَلا سے جس قدر مُسْتَغْنِی رہیں،بہتر ہے۔ جبکہ بعض اَہْلِ عَقْل و دانِش نے دنیا کو مُردار کی شکل میں دیکھا تو بَہُت تھوڑا اس میں سے لیا لہٰذا آپ بھی اس مُردار میں سے تھوڑا ہی لیں تو بہتر ہو گا۔

اے ابن آدم! کسے چاہتا ہے؟

حضرت سَیِّدُنا وَھْبْ بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کِتاب میں پڑھا:اے ابن آدَم! اگرتو مجھے چاہتا ہے تو دنیا چھوڑ دے اور اگر تو دنیا کو چاہتا ہے تو تیری مَشَقَّت طویل ہو جائے گی۔[5]

خالِق ضروری ہے یا مخلوق؟

کسی آسمانی کِتاب میں ہے کہ اے ابن آدَم!میں تیرے لیے لازِم و ضَروری ہوں، لہٰذا ہر گِز مجھ پر اپنی دیگر ضَروری چیزوں کو ترجیح نہ دینا۔[6]

زمین کس کی خادم ہے؟

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خبریں دینے والوں میں سے کسی کا قول ہےکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے دنیا کی جانِب وَحِی فرمائی: اس کی خِدْمَت کر جو میری خِدْمَت کرے اور اسے مَشَقَّت میں مبتلا کر جو تیری



[1]………مسلم ،  کتاب الزھد والرقائق ،  ص۱۵۸۲ ، حدیث:  ۲۹۵۷ ،  بتغير

ترمذى ،  كتاب الزهد ،  باب ما جاء فى هوان الدنيا على اللہ ، ۴/  ۱۴۴ ، حدیث:  ۲۳۲۸ ، بتغیر

[2]………مسلم ،  کتاب الزھد والرقائق ، ص۱۵۸۲ ،  حدیث:  ۲۹۵۷ ، بتغير قليل

[3]………ابن ماجه ،  كتاب الزهد  ، باب مثل الدنيا ، ۴/  ۴۲۷ ، حدیث:  ۴۱۱۰ ، بتغيرقليل

معجم کبیر ،  ۶/  ۵۷۱ ، حدیث:  $&'); container.innerHTML = innerHTML; }

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن