30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰)(پ ۲۵، الشورٰی:۲۰)
ترجمۂ کنز الایمان:جو آخِرَت کی کھیتی چاہے ہم اس کے لیے اس کی کھیتی بڑھائیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہے ہم اسے اس میں سے کچھ دیں گے اور آخِرَت میں اس کا کچھ حِصّہ نہیں۔
ایک رِوایَت میں ہے کہ(صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرماتے ہیں) ہم نے عَرْض کی:یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اَیُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ یعنی کون لوگ بہتر ہیں؟ اِرشَاد فرمایا: مَـجْمُوْمُ الْـقَلْبِ صُدُوْقُ اللِّسَانِ۔ ہم نے عَرْض کی:یہ مَـجْمُوْمُ الْـقَلْبِ کون ہے؟اِرشَاد فرمایا:وہ صاف ستھرا اور پرہیزگار شخص جس کے دِل میں دھوکا ہو نہ مِلاوَٹ، حَسَد ہو نہ سرکشی۔ عَرْض کی گئی: یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اس راہ پر کون ہے؟اِرشَاد فرمایا:جو دنیا سے نَفْرَت اور آخِرَت سے مَحبَّت رکھتا ہے۔[1]
حدیثِ پاک سے ماخوذ تین ۳باتیں
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس حدیثِ پاک سے دَرْج ذیل تین۳ باتیں مَعْلُوم ہوتی ہیں)
(1 ۔۔۔۔) ہر شے اپنی ضِد سے پہچانی جاتی ہے جیسا کہ اپنی مِثل سے پہچانی جاتی ہے چنانچہ نَفْرَت کی ضِد مَحبَّت اور زُہْد کی ضِد رَغْبَت ہے۔
(2 ۔۔۔۔) سب سے بُرے لوگ وہ ہیں جو دنیا سے مَحبَّت رکھتے ہیں اور یہ کہ دنیا کو مَرْغُوب جاننے والا اسے مَحْبُوب بھی جانتا ہے۔ دنیا کا حُصُول اور اس کی کَثْرَت دنیا میں رَغْبَت رکھنے کی عَلامَت ہے،ایسا کیونکر نہ ہو حالانکہ حُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كا فرمانِ عالیشان ہے: اگر تو چاہتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھے اپنا مَحْبُوب بنا لے تو دنیا میں زُہْد اپنا لے۔[2] گویا زُہْد اپنانا مَحبَّتِ باری تعالیٰ کا سَبَب ہے کہ اس طرح زاہِد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حبیب بن جاتا ہے۔ لہٰذا زُہْد کو سب سے اَفضل حال ہونا چاہئے کیونکہ مَحبَّت سب سے اعلیٰ مَقام ہے۔
(3 ۔۔۔۔) جس نے دنیا کو مَرْغُوب جانا یقیناً اس نے خود کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کے لیے پیش کر دیا کہ جس سے بڑھ کر کوئی شے نہیں۔ چنانچہ دنیا کو مَحْبُوب رکھنے والے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتا ہے۔
حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں کہ اپنے تمام نیک اَعمال کو زاہِدوں کے مِیزان میں ڈال دو تو بھی ان کے زُہْد کا ثواب زیادہ ہو گا۔ مزید فرماتے ہیں: بروزِ قِیامَت عابِدین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے ترازو میں ہوں گے اور عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام زاہِدین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے ترازو میں ہوں گے، لہٰذا دنیا کو مَحْبُوب جاننے والا کوئی بھی شخص ہر گز مَحبَّتِ باری تعالیٰ کی خواہش نہ رکھے گا کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا کی مَحبَّت کو پسند نہیں فرماتا۔
میٹھے میٹھے آقا، مکّی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جب سے دنیا پیدا فرمائی ہے اس کی جانِب (رَحْمَت بھری نِگاہ سے) نہیں دیکھا۔[3] بلکہ (بروزِ قِیامَت)اس سے اِرشَاد فرمائے گا:اے بے وَقْعَت شے چُپ ہو جا! تو اور تیرے چاہنے والے (یعنی دنیادار)جہنمی ہیں۔
ایک رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قِیامَت دنیا کے مُتَعَلِّق اِرشَاد فرمائے گا:ان میں سے جو میرے لیے ہے اسے الگ کرلو اور باقی سب کو جہنّم میں پھینک دو۔[4]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبْرَت نشان ہے:اللہکے ذِکْر اور اس جیسی چیزوں کے علاوہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، سب مَلْعُون ہے۔[5]
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:دنیا اِبلیس کی مَانِنْد ہے جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بُعد (یعنی اپنی رَحْمَت سے دُور کرنے)اور لعنت کے لیے پیدا فرمایا تاکہ اسے اور اس کے ذریعے دوسروں کو آزمائش میں مبتلا کرے اور اسے اور اس کے سَبَب دوسروں کو ہلاک کرے۔
دنیاایک مردار ہے اور شیطان ایک کتا
کسی صَاحِبِ کَشْف بزرگ نے دنیا کے مُشاہَدے کا حال کچھ اس طرح بیان فرمایا کہ میں نے دنیا کو مُردار کی شکل میں اور شیطان کو کُتّے کی شکل میں یوں دیکھا کہ وہ دنیا سے چپکا ہوا تھا۔ پھر میں نے یہ نِدا سنی :تو میرے کُتّوں میں سے ایک کُتّا ہے اور یہ مُردَار میری مخلوق میں سے ہے جسے میں نے اپنی مخلوق میں سے تیرا حِصّہ قرار دیا ہے، اب جو تجھ سے اس مُعَامَلے میں جھگڑا کرے گا میں تجھے اس پر مُسلّط کر دوں گا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مَعْلُوم ہوا دنیا شیطان کا گھر ہے، اب جو دنیا کے جس قَدْر حصّے پر قُدْرَت پائے گا شیطان اسی قَدْر اس پر مُسلَّط ہو گا۔
[1]………ابن ماجه ، کتاب الزھد ، باب الورع والتقوى ، ۴/ ۴۷۵ ، حدیث: ۴۲۱۶
شعب الايمان ، باب فى حفظ اللسان ، ۴/ ۲۰۵ ، حدیث: ۴۸۰۰
[2]………ابن ماجه ، کتاب الزھد ، باب الزهد فی الدنیا ، ۴/ ۴۲۲ ، حدیث: ۴۱۰۲ ، بتغیر
[3]………شعب الايمان ، باب فی الزھد وقصر الامل ، ۷/ ۳۳۸ ، حدیث: ۱۰۵۰۰
موسوعة ابن ابى الدنيا ، كتاب ذم الدنيا ، ۵/ ۳۵ ، حدیث: ۴۰
[4]………موسوعة ابن ابى الدنيا ، كتاب ذم الدنيا ، ۵/ ۲۰ ، حدیث:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع