30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمانِ باری تعالیٰ (تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ(۹۲) (پ۱۰، التوبة:۹۲) ترجمۂ کنز الایمان:اس پر یوں واپَس جائیں کہ ان كی آنکھوں سے آنسو اُبلتے ہوں اس غَم سے کہ خَرْچ کا مَقْدُور نہ پایا۔) سے وہ لوگ دلیل پکڑ سکتے ہیں جنہیں یہ وَہْم ہے کہ مال دار لوگ فُقَرا سے اَفضل ہیں۔مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ قرآن میں تَدَبُّر کرنے والوں کے نزدیک یہ آیَتِ مُبارَکہ فُقَرا کے حال کے کمال میں اِضافے کا باعِث ہے۔اس لیے کہ ان کا شُمار مُـحْسِنِیْن میں ہوتا ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸) (پ ۱، البقرة:۵۸) ترجمۂ کنز الایمان:اورقریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں۔
یعنی حَقِّ رَبُوبِیَّت کے عظیم مُشاہَدہ کی بنا پر ان کے حُزن، ڈر اور کوتاہی کے خوف میں مزید اِضافہ ہوا گویا وہ گناہ گار ہیں،مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے انہیں نیکوکار ہونے کی بَشَارَت دی اور اِرشَاد فرمایا:(مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍؕ- (پ ۱۰، التوبة:۹۱) ترجمۂ کنز الایمان:نیکی والوں پر کوئی راہ نہیں۔ )۔
نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کے دُنْیَاوِی مصیبتوں پر صَبْر کرنے اور دنیا کو مَذمُوم جاننے کی تعریف فرمائی کیونکہ ان کا رونا دنیا کے فوت ہونے اور مال داری چاہنے کی بنا پر نہ تھا بلکہ ان کا حُزن فَقْر میں اِضافے کی طَلَب پر تھا تاکہ انہیں خَرْچ کرنے کو کچھ ملے اور وہ اسے خَرْچ کر کے پھر فقیر ہو جائیں، اس طرح مال خَرْچ کرنے سے دنیا میں ان کا فَقْر مزید بڑھ جائے، لہٰذا ان کا حُزن کَثْرَتِ اِنفاق اور حقیقی دُنْیَاوِی فَقْر کے حُصُول پر تھا۔
یہ فُقَرا کی دوسری فضیلت ہے جو انہیں فَقْر میں اِضافے کی وجہ سے حاصِل ہوئی نہ کہ مال جَمْع و ذخیرہ کرنے کی بنا پر۔اَہْلِ اِسْتِنْبَاط اور اَہْلِ فِکْر و دانِش کے نزدیک اس آیتِ مُبارَکہ سے فُقَرا کو جو سب سے اعلیٰ فضیلت حاصِل ہوئی ہے وہ ان کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حال سے مُشَابَہَت اِخْتِیار کرنا ہے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ۪ - (پ ۱۰، التوبة:۹۲)
ترجمۂ کنز الایمان:تم سے یہ جواب پائیں کہ میرے پاس کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کروں۔
پھر ان فُقَرا كے حُضورنبی رَحْمَت، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مِثل اَوصَاف ذِکْر فرمائے کیونکہ یہ لوگ دَرَجَہ بدَرَجَہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مُشَابِہ ہیں۔چنانچہ اِرشَاد فرمایا: (اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ(۹۲) (پ ۱۰، التوبة:۹۲( ترجمۂ کنز الایمان:اس غم سے کہ خَرْچ کا مَقْدُوْر نہ پایا۔ )
مَعْلُوم ہوا جو شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے (فَقْر میں) زیادہ مُشَابِہ ہو گا وُہی اَفضل ہے اور ایسا کیونکر نہ ہو کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:دنیا میں مومِن کا تحفہ فَقْر ہے۔[1] (صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فَقْرکو مومِن کے لیے مُبارَک تحائف میں سے ایک تحفہ قرار دیا ہے۔ جبکہ ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ فَقْر مومِن کیلئے عُمدہ گھوڑے کے رُخْسَار پر پڑی لگام سے زیادہ خُوبْصُورَت ہے۔[2]
جنّت میں سب سے آخر میں داخِل ہونے والے نبی اور صحابی
فَقْرحُضور نبی پاک، صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم كا اِخْتِیار كرده، اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا شِعار اور اعلیٰ برگزیدہ صحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور اَصْفِیائے عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا طریقہ کار ہے۔چنانچہ،
مَرْوِی ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا:سب سے آخِر میں جو نبی جنّت
میں داخِل ہوں گے وہ اپنی سَلْطَنَت کی وجہ سے (حضرت سَیِّدُنا)سلیمان بن داود (عَلَیْہِ السَّلَام )ہوں گے اور میرے صحابہ میں جو سب سے آخِر میں جنّت میں داخِل ہو گا وہ دنیا میں اپنی مال داری کی وجہ سے عبد الرحمٰن بن عوف ہوں گے۔[3] ایک رِوایَت میں ہے:میں نے انہیں جنّت میں رینگ کر (یا گِھسَٹ کر)داخِل ہوتے دیکھا۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہمیں نہیں مَعْلُوم کہ اُمَّت میں مُہاجِرین و اَہْلِ صُفّہ کے دو۲ گروہوں سے بڑھ کر بھی کوئی اَفضل ہے، کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان سب کی تعریف فرمائی۔چنانچہ اِرشَاد فرمایا:(لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ(پ ۲۸، الحشر:۸) ترجمۂ کنز الایمان:فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے۔ )اور دوسرے مَقام پر اِرشَاد فرمایا:( لِلْفُقَرَآءِ الَّذِیْنَ اُحْصِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ (پ ۳، البقرة:۲۷۳) ترجمۂ کنز الایمان:ان فقیروں كے لیے جو راهِ خُدا میں روكے گئے۔)
یہاں دونوں آیاتِ مُبارَکہ میں فَقْر کو ان کے اَعمال یعنی ہجرت کرنے اور راہِ خُدا میں روکے جانے سے پہلے ذِکْر فرمایا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے پسند فرماتا ہے اس کی تعریف اسی چیز سے فرماتا ہے جس کی بنا پر اسے پسند فرماتا ہے اور کسی کوپسند کئے بغیر اس کی تعریف بھی نہیں فرماتا۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- (پ ۲۱، السجدة:۲۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور ہم نےان میں سے کچھ اِمام بنائے کہ ہمارے حکْم سے بتاتے جب کہ انہوں نے صَبْر کیا۔
اس آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر میں مَنْقُول ہے کہ انہوں نے دنیا کے حُصُول میں صَبْر سے کام لیا۔
دو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع