30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پورے قبیلہ میں صِرف ایک ہی مَسْجِد ہوا کرتی تھی اور قبائل عام طور پر پُورے محلّہ میں صِرف ایک ہی مَسْجِد بنایا کرتے تھے۔ (صاحبِ کتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)جب کسی محلّہ میں دو۲مَسْجِدیں ہوں تو اس بات میں اِختِلاف پایا جاتا ہے کہ کس مَسْجِد میں نماز ادا کی جائے۔ بعض صحابہ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان فرماتے کہ قدیم مَسْجِد میں نماز ادا کی جائے۔ حضرت سَیِّدُنا اَنَس بِن مالِک اور دیگر کئی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہی مَذہَب تھا۔ منقول ہے کہ یہ لوگ نئی مَسَاجِد چھوڑ کر پُرانی مَسَاجِد میں جایا کرتے تھے۔ جبکہ حضرت سَیِّدُنا حَسَن بَصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِیفرماتے کہ اس مَسْجِد میں نماز ادا کی جائے جو زیادہ قریب ہو۔
٭… سب سے پہلی چار۴بدعتیں
ایک قول کے مُطابِق اسلام میں سب سے پہلی چار۴بدعتیں یہ پیدا ہوئیں:
(1) دستر خوان (2) (آٹا چھاننے والی)چھلنیاں(3)اُشنان (ایک قسم کی گھاس جو کَلّر یا بنجر زمین میں اُگتی ہے اور اس سے صابن کی طرح کپڑے دھل کر صاف ہو جاتے ہیں)(4)پیٹ بھر کر کھانا۔
٭… مٹی کے عِلاوہ برتنوں کا استعمال
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اس بات کو اچھّا نہیں جانتے تھے کہ ان کے گھر میں مٹی کے عِلاوہ برتن ہوں۔ بلکہ وہ تانبے اور پیتل کے برتنوں میں وضو ہی نہیں کرتے تھے۔ حضرت سَیِّدُنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا سَری سَقْطِی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے مجھ سے اِرشَاد فرمایا:کوشش کرنا کہ تمہارے گھر میں اِسْتِعمال ہونے والے برتن تیری جنس یعنی مٹی سے ہوں۔ منقول ہے کہ مٹی کے برتنوں پر کوئی حِساب نہیں۔
٭… چونے اور پختہ اینٹوں سے بنے ہوئے گھر
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جن باتوں کو بُرا جانتے تھے ان میں سے ایک چونے اور پختہ اینٹوں سے بنے ہوئے گھر بھی ہیں۔ منقول ہے کہ سب سے پہلے (فرعون کے وزیر) ہامان نے پکی اینٹیں فرعون کے حکم پر بنائیں۔[1] ایک قول كے مُطابِق پختہ اینٹوں کے گھر جابروں کے رہنے کی جگہیں ہیں۔
٭… دروازوں اور چھتوں پر نقش و نگاری
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین گھر کے دروازوں اور چھتوں پر نقش و نگاری کو بھی ناپسند کرتے تھے، اگر کہیں ایسی مُنَقَّش چھت یا دروازہ دیکھتے تو فوراً اپنی نگاہیں جھکا لیتے۔ چنانچہ،
حضرت سَیِّدُنا اَحْنَف بن قیس رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مُتَعَلّق مروی ہے کہ ایک بار آپ کچھ عرصہ گھر سے دور رہے، آپ کی عدم مَوجُودَگی میں گھر والوں نے چھت کو سبز اور زرد رنگ کر دیا،جب آپ واپس تشریف لائے تو یہ دیکھ کر فوراً گھر سے باہَر چلے گئے اور حَلَف اٹھا لیا کہ اسی وَقْت گھر میں داخِل ہوں گے جب یہ رنگ وغیرہ صاف کر دیا جائے اور چھت پہلے کی طرح ہو جائے۔
حضرت سَیِّدُنا یحییٰرَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کے ساتھ پیدل چل رہا تھا۔ راستے میں ہمارا گزر ایک مُنَقَّش دروازے کے پاس سے ہوا، میں نے اس کی جانِب دیکھا تو حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی نے فوراً مجھے اپنی جانِب کھینچ لیا، جب ہم دروازے سے آگے گزر گئےتو میں نے عَرْض کی:کیا آپ ایسے دروازے کو دیکھنا اَچھّا نہیں سمجھتے؟اِرشَاد فرمایا:لوگ ایسے دروازے بناتے ہیں تا کہ ان کی طرف دیکھا جائے اور اگر گزرنے والے ان کو نہ دیکھیں تو وہ بھی نہ بنائیں۔ گویا حضرت سَیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی کو یہ خَدْشَہ تھا کہ ان کا دروازے کی جانِب دیکھنا بھی اس کے بنانے پر مُعاونَت شُمار ہو گا۔
٭… فاسقین و متقین کا لباس
سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین جن باتوں کو بُرا جانتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ مَردوں اور عورتوں کے لیے نرم وملائم باریک کپڑے اور مصری ریشمی کپڑے پہننا پسند نہیں کرتے تھے۔ بالخصوص عورتوں کے لیے شدید بُرا سمجھتے تھے اور فرمایا کرتے کہ باریک لِباس پہننا فاسقین کا طریقہ ہے،جس کا لِباس پتلا وباریک ہو اس کا دین بھی پَتلا ہوتا ہے۔ نیز سَلَف صالحین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین یہ بھی فرماتے تھے کہ تَصَوُّف کی اِبتدا لِباس سے ہوتی ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک لِباس دوسرے لِباس جیسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ ایک دل دوسرے دل جیسا نہ ہو جائے۔[2]
ایک بار بِشر بِن مَرْوَان باریک لِباس پہنے ہوئے خطبہ دینے لگا تو حضرت سَیِّدُنا رافِع بن خَدِیْج رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کا مذاق اُڑاتے ہوئے لوگوں سے اِرشَاد فرمایا:ذرا اپنے امیر کو تو دیکھو! فاسقین کا لِباس پہن کر لوگوں کو وعظ کر رہا ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ عبداللہ بن عامِر بن ربیعہ عمدہ لباس میں حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوا اور زُہد کے مُتَعَلّق سوال کیا اور اس بارے میں گفتگو کرنے لگا۔ تو حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے تَوجّہ کے لائق نہ سمجھا بلکہ اپنے کام میں مگن رہے اور بات تک نہ کی۔ ابنِ عامِر کا تعلُّق چونکہ قُرَیش کے مُعَزز خاندان سے تھا، لہٰذا اسے غصّہ آ گیا اور اس نے حضرت سَیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے اس بات کی شِکایَت کی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے سمجھاتے ہوئے فرمایا: تم سے ایسا سُلوک تمہاری اپنی وجہ سے ہی ہوا ہے، کیونکہ تم ایسے لباس میں حضرت سَیِّدُنا ابو ذر غِفاری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس جا کر زُہد کے مُتَعَلّق پوچھتے ہو۔
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آخری زمانے کی عورتوں کے اَوصاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:بَہُت سی عورتیں لِباس پہننے کے بَاوُجُود بَرہنہ ہوں گی، مائِل کرنے والی اور مائِل ہونے والی ہوں گی، ان کے سَروں پر بیل کے کوہان کی طرح بال (یعنی بالوں کے جُوڑے وغیرہ) ہوں گے، یہ عورتیں ہر گزجنّت کی خوشبو نہ پائیں گی۔[3] چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُوْلٰى(پ ۲۲، الاحزاب:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بے پردہ نہ رہوجیسے اگلی جاہِلیَّت کی بے پردگی۔
حضرت سَیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا تَبَرُّجْ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مُراد باریک لباس پہننا ہے۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اس آیتِ مُبارَکہ کاشانِ نُزول کچھ یوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع