30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہیں یعنی وہ یقینی طور پر صَاحِبِ مَحبَّت، صَاحِبِ خوف، صَاحِبِ رِجا اور صَاحِبِ عَمَل بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ جب آپ کسی ہَاشِمی کو پکاریں تو آپ کو اسے قُرَشی یا عربی کہنے کی ضَرورت نہیں ہوتی کیونکہ ہر ہَاشِمی عربی بھی ہوتا ہے اور قُرَشی بھی۔
لہٰذا جب آپ کسی کو اس کے کامِل وَصْف کے ساتھ پکارتے ہیں تو اس کے باقی اَوصَاف بھی اس میں شامِل ہوتے ہیں یعنی جب آپ کسی کو حَسَنی یا حُسَینی کہتے ہیں تو اب اسے ہَاشِمی، قُرَشی یا عَلْوِی کہنے کی ضَرورت نہیں اگرچہ وہ ہَاشِمی، قُرَشی اور عَلْوِی بھی ہے۔ اس لیے کہ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ہر حَسَنی یا حُسَینی لازِمی طور پر ہَاشِمی، قُرَشی اور عَلْوی بھی ہو گا۔ مگر جب آپ کسی کا عربی یا ہَاشِمی یا قُرَشی یا عَلْوِی ہونا بیان کرتے ہیں تو اس شخص کو آپ کی بیان کردہ عَلامَت کے بغیر نہیں پہچانا جا سکتا کیونکہ مُمکِن ہے کہ وہ غَایَتِ نَسَب میں عَلْوی تو ہو مگر حُسَینی نہ ہو، ہَاشِمی تو ہو مگر عَلْوِی نہ ہو، قُرَشی تو ہو مگر ہَاشِمی نہ ہو اور عربی تو ہو مگر قُرَشی نہ ہو۔ اس لیے اس پر وُہی وَصْف لازِم آئے گا جو آپ اس کے حَسَب و نَسَب کے مُتَعَلِّق جانتے ہیں۔
اسی طرح جب آپ کسی کا عارِف یا محبّ یا مُقرَّب یا صِدِّیق ہونا بیان کرتے ہیں تو یہ ایک کامِل نام ہے اور ان تمام مَقامات میں کمال کا دَرَجہ رکھتا ہے جو تمام اَسباب کو شامِل ہے۔ جیسا کہ آپ کا کسی کو حَسَنی کے نام سے پکارنا تمام نَسَبوں کی شَرَافَت پر فَوقیت رکھتا ہے۔
مَقامِ مَعْرِفَت عَینِ یقین اور مُشاہَدۂ توحید کے بغیر دُرُسْت نہیں، اس طرح کہ مَقامِ یقین میں کوئی نفسانی بات باقی رہے نہ مُشاہَدۂ توحید میں مخلوق کا کوئی دِکھاوا باقی رہے۔ یوں یقین کے ذریعے فَنائے نَفْس کے بعد بندہ رُوحانی اور توحید کے بعد مُشاہَدۂ خالِق کے وَقْت رَبّانی ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ عارِف کو تمام اَحْوَال میں مُسْتَغْرَق ہونے کی وجہ سے کسی حال سے مَوسُوم کیا جاسکتا ہے نہ تمام مَقامات عُبُور کرجانے کی وجہ سے کسی ایک مَقام کے ساتھ خاص کیا جاسکتا ہے۔
دولتِ عرفان کو ظاہِر کرنا منع ہے
عارِف کا حقیقی معنیٰ و مَفہوم یہ ہے کہ جس شخص کو مَعْرِفَت کی دولت عَطا کی جائے وہ فَضْل و شَرَف کے اِنْتِہائی دَرَجَہ پر فائز ہو ، دیگر اَفراد کے نزدیک اس قَدْر اجنبی ہو کہ وہ اسے پہچانتے نہ ہوں ، اگر اس نے اپنے عِرفان کی دولت سے مالا مال ہونے کوان پر ظاہِر کر دیا یا وہ کسی طریقے سے اسے پہچان گئے تو یہ عارِف نہیں۔
کسی بُزرگ نے عارِف کے اَوصَاف بیان کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا کہ عارِف وہ ہوتا ہے جو ہر شے کو جاننے والا ہو مگر کوئی شے اسے جاننے والی نہ ہو۔
ایک قول میں ہے کہ عارِف وہ ہے جو ظاہِر ہو مگر دِکھائی نہ دے اور دِکھائی دے مگر چھپا ہوا ہو۔
ایک قول کے مُطابِق اس کی حقیقت یہ ہے کہ وہ سب کو جانتا و پہچانتا ہو مگر کوئی اسے جانے نہ پہچانے کہ یہی اَوصَافِ رَبُوبِیَّت کا تقاضا ہے کیونکہ وہ رُوحانی و رَبّانی ہے۔
تین۳ مقامات کی خاصیت
تین ۳مَقامات ایسے ہیں جن پر کسی مَقام کو قِیاس کیا جاسکتاہے نہ کوئی مَقام ان کی مِثل ہو سکتا ہے، جس نے ان پر کسی مَقام کو قِیاس کیا اس نے غَلَطی کی اور جس نےان میں سے کسی مَقام کی مُمَاثَلَت اِخْتِیار کی گویا اس نے مَقامِ نبوّت، مَقامِ مَعْرِفَت اور مَقامِ مَحْبُوبِیَّت کا دعویٰ کیا۔ یہ سب باتیں ہم نے کِتَابُ الْـمُحِبِّیْن میں مَقامِ مَحبَّت کی شَرْح کرتے ہوئے بیان کر دی ہیں۔
یہ سب اہلِ خوف کے طریق اور عارِفین کی جُملہ صِفات ہیں کیونکہ وہ سب قُرْب و اِقْتِرَاب کے دَرَجات میں بَاہَم مُـخْتَلِف ، مَقامِ تَقَرُّب و تَقْرِیب میں بَاہَم بُلَند تَر اور مَقامِ تَعَرُّف و تَعْرِیف میں بَاہَم رفیع ہیں۔ چنانچہ مُشاہَدِین میں سے اہلِ یقین جو صِدِّیقین میں سے مُقرَّبین بھی ہیں اپنے مُشاہَدے پر قائم رہتے ہیں، ان کے لیے مَقامِ قُرْب سے اِقْتِرَاب، مَقامِ تَقَرُّب سے تَقْرِیب، مَقامِ تَعْرِیف سے تَعَرُّف اور مَقامِ اِیلاف سے تالیف ہے، اس لیے کہ ان کا مَقام قریب سے اَقرب اور عالی سے اعلیٰ ہے، یہی لوگ سابقین ہیں۔اہلِ مَقاماتِ یقین کے لیے مَقامِ قُرْب و تَقَرُّب اور مَقامِ حُبّ و تَحبُّب کی اِبْتِدَا ہے، نیز ان کے لیے مَقامِ تَاَلُّف و تعریف بھی ہے اور یہی لوگ اَبرار ہیں۔
اہلِ خوف کا سب سے اَفضل طریقہ وہ ہے جس میں خوف نَفْس میں سَرایَت کر جائے، نفسانی خواہش کو خَتْم کر دے اورشہوات کی آگ کو بجھا دے۔ تو گویا مُجَاہَدے کا بوجھ ہَٹ جاتا ہے، رِیَاضَت کی مَشقّت کم ہو جاتی ہے، مَعْصِیَّت کی حَلاوَت خَتْم ہو جانے کی وجہ سے عِبَادَت کی حَلاوَت پائی جاتی ہے، نَفْس و مَخلوق کے ساتھ اِنتشار خَتْم ہوجانے کی وجہ سے حَق کے ساتھ یکسوئی ملتی ہے، دل کے مُشاہَدے کی وجہ سے نَفْس کو اطمینان حاصِل ہوتا ہے، باطِنی صِدق و اِخلاص کی وجہ سے زُہْد و رَضا کی نعمتیں ظاہِر ہوتی ہیں، پھر اس کے بعد خوف دل میں قرار پکڑتا ہے اور اپنی حُدُود سے تَجاوُز نہیں کرتا یعنی جن مَقامات کا ہم نے ذِکْر کیا ہے ان کی حُدُود سے آگے نہیں بڑھتا بلکہ بندے کو دائمی حُزن و مَلال اور خُشوع گھیر لیتے ہیں۔ یہ ایک ٹُوٹے ہوئے دِل کا وَصْف اور اس بندے کا حال ہے جو اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضِر ہوتا ہے تو وہ اس کی شِکَسْتَہ دِلی کو دُور فرما دیتا ہے اور یوں وہ ٹوٹنے کے بعد پھر دُرُسْت ہو جاتا ہے۔ کَشْفِ یقین؛خوفِ اِلٰہی رکھنے والے عالِم کے لیے مزید اِنعام اور مُشاہَدۂ مُقرَّبین میں منتقلی کا باعِث بنتا ہے تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو اپنے قریب پاتا ہے اور وُہی اس کا مَطْلُوب بن جاتا ہے کیونکہ اس کا شُمار ان لوگوں میں ہونے لگتا ہے جن کے دِل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطِر شِکَسْتَہ ہوتے ہیں اور یوں وہ اَھْلُ الله میں سے ہو جاتا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)یاد ركھئے! مَخلوق کو نفسانی خواہش كی حَلاوَت سے دُور رکھنے اور اسے اس جانِب بڑھنے سے روکنے والی دو۲ میں سے کوئی ایک بات ہو سکتی ہے یعنی خوف کا کڑوا گھونٹ حَلاوَتِ نَفْس پر غالِب آکر اسے برباد کر دیتا ہے یا حَلاوَتِ مَحبَّت غالِب آجائے تو حَلاوَتِ نَفْس اس میں غَرْق ہو کر خَتْم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ اگر ان دونوں میں سے ایک بات بھی نہ پائی جائے تو بندہ دونوں حالتوں کے درمیان تَذَبْذُب کا شِکار رہتا ہے۔ اَہْلِ خوف کی طرف ہو گا نہ اَہْلِ مَحبَّت کے ساتھ، بلکہ مُتَرَدِّدِین میں شُمار ہو گا۔
ایک خائِف کی عَقْل خَتْم ہو گئی اور خوف اسے مَایُوسی و نَااُمِّیدِی کی طرف لے گیا تو امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنےاس سے اِرشَاد فرمایا:میں تیری جو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع