دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

مَّاخَلَا اللهُ بَاطِلُ۔ یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سِوا ہر چیز باطِل ہے۔[1]

ایسا آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے حالِ فَنا کے بعد مَقامِ بَقا پاکر اِرشَاد فرمایا، اس وَقْت آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمانِ عالیشان سَماعَت فرمایا: 

كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶) وَّ یَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ (پ ۲۷، الرحمٰن:۲۶، ۲۷)

ترجمۂ کنز الایمان:زمین پر جتنے ہیں سب کو فَنا ہے اور باقی ہے تمہارے رب کی ذات۔

اسی طرح ایک مَشْہُور رِوایَت میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا فرمان ہے: میری رَحْمَت آسمان کی وُسْعَت میں سما سکتی ہے نہ زمین  کی وُسْعَت میں، البتہ !میرے اس مومِن بندے کے دل میں یہ سما جاتی ہے [2]جو شکر گزار، نَرْم مِزاج اور پُرسُکُون ہوتا ہے۔ [3]

تفصیل مناسب نہیں

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے جو باتیں اِجمالی طور پر ذِکْر کی ہیں اور جن باتوں کی طرف مَحْض اِشارہ کیا ہے ان کی شَرْح و تفصیل بیان کرنا مُناسِب نہیں۔

خضوع و خشوع کا خوف سے تعلق

سَلَف صَالِـحِین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین میں سے ایک بُزرگ فرماتے ہیں: مومِن کو خُشوع میں سکینہ سے بڑھ کر اور خُضوع میں عاجِزی سے بڑھ کر خُوبْصُورَت لِباس نہیں پہنایا گیا۔ یہ خوف کے دو۲ حَال ہیں  جو اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا لِباس اور عُلَمائے رَبّانِیِّیْن رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کی عَلامَت ہیں۔

مومن کے دو۲ دل

حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے شہزادے سے اِرشَاد فرمایا:اے میرے بیٹے!اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا اس قَدْر خوف رکھ کہ اس میں تجھے اس کی رَحْمَت کی اُمِّید نہ ہو اور اس سے ایسی اُمِّید رکھ کہ اس میں تو اس کی خُفْیَہ تدبیر سے بے خوف نہ ہو۔پھر خود ہی اس بات کی اِجمالی طور پر وَضَاحَت کچھ یوں بیان کی کہ مومِن دو۲ دِلوں والا ہوتا ہے، ایک سے ڈرتا ہے اور دوسرے سے اُمِّید رکھتا ہے۔ [4]

قول کی وضاحت

مُراد یہ ہے کہ مومِن کے یہ دو۲وَصْف دو۲ مُشاہَدوں سے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ مومِن قوّت، غَلَبہ،عزّت اور اِنتقام کی مِثل خوف کے وَصْف سے بھی مُتَّصِف ہوتا ہے۔ چنانچہ،

بندہ جب ان صِفات کا مُشاہَدہ کرتا ہے جن پر وہ اِیمان لایا ہوتا ہے تو وہ خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے کیونکہ وہ انہی صِفات کے ذریعے مَعْرِفَتِ خُداوندی حاصِل کرتا ہے اور انہی صِفات کے مُشاہَدے سے ذاتِ باری تعالیٰ کی تَجلّیوں کا اس پر ظُہُور ہوتا ہے،جس کی مَعْرِفَت  حاصِل ہوتی ہے اس سے اُلْفَت بھی ہوتی ہے اور وہ اَخلاق والا، کَرَم و مہربانی اور رَحْم و لُطْف فرمانے والا بھی ہے۔

جب دل ان اَخلاق کا مُشاہَدہ کرتا ہے جن پر اِیمان لایا ہوتا ہے تو اس مُشاہَدے کے باعِث اس میں رِجا پیدا ہو جاتی ہے اور یوں بندہ خوف و رِجا پیدا کرنے والے اَوصَاف کی وجہ سے ان اَوصَاف والا بن جاتا ہے۔ گویا کہ اس کے دو۲ دل ہوں، ایک دل میں رِجا ہوتی ہے تو دوسرے میں خوف۔ یہ دونوں مُشاہَدے ایک ہی دل میں ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک ہی دل کے دو۲ مَقام ہیں جو خوف و رِجا کے مُشاہَدے سے حاصِل ہوتے ہیں۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں) حضرت سَیِّدُنا لقمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کے قول کی یہی وَضَاحَت ہے اور یہ صَاحِبِ یقین مومِن کی صِفَت ہے۔ البتہ! صَاحِبِ خوف کی تَوصِیف اس حال سے کی جاتی ہے جو اس پر غالِب ہواور جس کا مُشاہَدہ اس پر قَوِی ہوجبکہ رِجا بھی اس مَقام میں ہوتی ہےاور صَاحِبِ رِجا کی تَوصِیف اس حال سے ہوتی ہے جو اس پر اس کے مُشاہَدے کی بِنا پر غالِب ہو جبکہ اس میں خوف بھی شامِل ہوتا ہے۔ جس ذات کا خوف بندے پر طارِی ہوتا ہے اس کی حقیقت سے کوئی آگاہ ہے نہ جس ذات سے اُمِّید رکھی جاتی ہے ا س کی اِنتِہا سے کوئی واقِف ہے۔

صدیق، عارف اور مُقرّب

صَاحِبِ یقین مُشاہَدہ کرنے والا مُقرَّب عالِم دونوں حالوں میں اِعْتِدَال کی صِفَت سے مُتَّصِف ہوتا ہے اور اسے دونوں اَوصَاف کی یَکْسَاں مَعْرِفَت حاصِل ہوتی ہے۔ پھر اس پر کوئی ایک کامِل وَصْف اور کامِل حال غالِب  آجاتا ہے۔چنانچہ جب وہ اس کی مَعْرِفَت  پالیتا ہے تو دونوں وَصْف اس میں شامِل ہو جاتے ہیں اور وہ صِدّیق کہلاتا ہے،کیونکہ اس میں صِدْق کی صِفَت مُتَحَقِّق ہو جاتی ہے اور وہ مُخْلِص کہلانے سے بھی مُسْتَغْنِی ہوجاتا ہے ۔ پھر اسے عارِف کہا جاتا ہے کیونکہ وہ راسِخُ الْعِلْم ہوجاتا ہے اور اب اسے صادِق کہنا ہی کافی ہے ۔ اس کے بعد اسے مُقرَّب کہا جاتا ہے کیونکہ وہ قُرْب کا مُشاہَدہ کر کے مَقامِ قُرْب پر فائز ہو جاتا ہے اور اب اسے عامِل (یعنی عِبَادَت گزار) کہلانے کی ضَرورت بھی نہیں  رہتی۔

کامل کی موجودگی میں غیر کامل کا تذکرہ

صِدّیق ،عارِف اور مُقرَّب یہ کامِل نام اور کامِل اَحْوَال ہیں جب ان کا تذکرہ ہو تو ان سے کم دَرَجَہ کے حال کے ذِکْر کی ضَرورت رہتی ہے نہ کسی وَصْف کو ذِکْر کرنے کی کوئی حاجَت۔ جیسا کہ صَاحِبِ خوف یا صَاحِبِ رِجا کو صِرف خوف یا صِرف رِجا والا کہنا ۔ اس لیے کہ اس میں دونوں اَوصَاف بَدَرَجَۂ اَتَم اِعْتِدَال کی حَالَت میں مَوجُود ہوتے ہیں۔ نیز اس لیے بھی کہ جب کسی بندے پر خوف و رِجا غالِب آتے ہیں تو وہ اس کی گہرائیوں میں اُتَر جاتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ کسی کو کہتے ہیں کہ وہ عارِف یا مُقرَّب یا صِدّیق ہے تو اس میں چار۴ اَوصَاف بھی شامِل ہوتے



[1]………مسلم ، كتاب الشعر ،  ص۱۲۳۸ ،  حديث:  ۲۲۵۶

[2]………اللہعَزَّ  وَجَلَّکی رَحْمَت کے بندۂ مومِن کے قَلْب میں  سَمانے سے مُراد یہ ہے کہ مومِن بندے کا دل اللہعَزَّ  وَجَلَّپر اِیمان کے سَبَب اس کی مَحبَّتو مَعْرِفَت  کو سَمانے کی وُسْعَت رکھتا ہے۔   (اتحاف السادةالمتقین ، ۸/  ۴۳۰)

[3]………الزهد لاحمد بن حنبل ، زهد يوسف عليه السلام ،  ص۱۱۶ ،  حديث:  ۴۲۳ ، بتغیر

[4]………الزهد لابن مبارك ،   باب ذكر رحمة اللہ ،  ص۳۱۸ ،  حديث:  ۹۱۲

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن