30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے مُرْتکِب ہوئے۔
ان لوگوں کی مِثال خوارجیوں جیسی ہے جنہوں نے اپنی سمجھ کے مُطابِق بُرائی کو مِٹانے کے لیے تلوار کے ذریعے اَئمّۂ حَق کے خِلاف بَغاوَت کی مگر اس سے بھی بڑی بُرائی کا شِکار ہو گئے یعنی ائمّۂ ہُدیٰ کو کافِر کہنے لگے، ان کی حکمرانی ماننے سے اِنکار کر دیا اور صغیرہ گناہوں کی وجہ سے (تقریباً پوری)اُمَّت کو کافِر قرار دیدیا۔ یہ سب سے بڑی بِدْعَت تھی اور یہ لوگ جہنّم کے کتے ہیں۔ [1]
انہی کی مِثل مُعْتَزَلَہ بھی ہیں جنہوں نے مُرْجِئہ کے اس طریق سے راہِ فَرار اِخْتِیار کی کہ مُوَحِّدین جہنّم میں نہیں جائیں گے۔انہوں نے ثابِت کیا کہ مُوَحِّدین بھی عَذاب کا شِکار ہوں گے، جبکہ فاسِقین ہمیشہ جہنّم میں رہیں گے۔ یہ لوگ مُرْجِئہ کی حَد سے تجاوُز کر گئے اور ان سے بھی بڑھ گئے جیسا کہ اُنہوں نے اہلِ سنّت کے طریق سے تجاوُز کیا مگر اِن سے کم ہی کیا۔
تمام بدعتی بغاوت کو جائز سمجھتے ہیں
ہمارے شیخ حضرت سَیِّدُنا ابو محمد سَہْل تُسْتَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:تمام بِدْعَتی لوگ بادشاہِ وَقْت کے خِلاف بَغاوَت کو جائز سمجھتے ، اُمَّت کے خِلاف ہتھیار اٹھانے کو دُرُسْت جانتے اور اِماموں کو کافِر کہتے ہیں۔
حُدُودِ خوف سے تَجاوُز کرنے کے اِعْتِبَار سے یہ حَالَت سب سے نُقْصَان دہ ہے، گویا یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حُدُود اور اس کے اَحکام سے تجاوُز کرنا ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:
قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا(۳)(پ ۲۸، الطلاق:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے۔
ایک مَقام پر اِرشَاد فرمایا:
وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ- (پ ۲۸، الطلاق:۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اللہ کی حَدوں سے آگے بڑھا بے شک اس نے اپنی جان پر ظُلْم کیا۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں کہ درمیانی راستہ اِخْتِیار کروکہ جس کی طرف غُلُو کرنے والے کو لَوٹنا پڑتا ہے اور قُرْب چاہنے والے کو بُلَند ہونا پڑتا ہے۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے کیا خوب بات کہی ہے جو اِفْرَاط و تَفْرِیْط سے پاک ہے اور یہی اہل سنّت کا طریقہ اور اہلِ مَعْرِفَت کا مَذْھَب ہے۔
اُمِّید کی سچّائی اور اس کے سَبَب خوف کا اِعْتِدَال ہی عِلْمِ ربّانی کی حقیقت ہے، کسی شے میں حَد سے تَجاوُز کرنا گویا اس میں کمی و کوتاہی کا مُرْتکِب ہونا ہے اور سچّا مومِن خوف و رِجا کے درمیان اِعْتِدَال میں رہتا ہے۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے: اگر مومِن کے خوف و رِجا کا وَزْن کیا جائے تو دونوں کا وَزْن برابر ہو گا۔
اَلْغَرَضْ وہ خوف جو موت کی وجہ سے نَفْس کو ہلاک کرنے والا اور عَقْل کو خَتْم کرنے والا ہے وہ اس خوف سے بہتر ہے جس میں نااُمِّیدی و مَایُوسی پائی جاتی ہے کیونکہ ایسا خوف عِلْم کو خَتْم کرنے والا، بندے کو اس کے مَقام سے گرانے والا اور کبیرہ گناہوں میں مبتلا کرنے والا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ بعض اَوقات گناہِ کبیرہ نہیں ہوتے مگر ان میں پائی جانے والی مَایُوسی و نااُمِّیدی انہیں کبیرہ بنا دیتی ہے، لہٰذا یہ مَایُوسی گناہوں سے بھی بدتر ہے۔ اس بنا پر خوف کے یہ دونوں مَقام ایسے ہیں جہاں کوئی عِلْم حاصِل ہوتا ہے نہ کَشْف کی بنا پر کوئی مُشاہَدہ ہوتا ہے۔ بلکہ یہ وِجدان کی اُس قوّت سے تعلّق رکھتے ہیں جو پتّہ کو جَلا کر نَفْس کی ہَلاکَت کا باعِث بنتی ہے۔ اس مَقام پر بندے کی عَقْل کا خَتْم ہو جانا اور عالَمِ دیوانگی میں حیران رہنا اسے مُقرّب فرشتوں کے دَرَجے پر فائز کر دیتا ہے اور اس کا شُمار اَہْلِ کَرب میں ہونے لگتا ہے کیونکہ یہ لوگ جُدائی کے غم میں مبتلا ہوتے ہیں اور مُقرَّب فرشتوں کی طرح کسی اور مَقام کی طرف مُنْـتَقِل نہیں ہوتے۔
دیدارِ باری تعالیٰ میں فرشتوں کی تڑپ
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)مجھے یہ بات مَعْلُوم ہوئی ہے کہ ہر روز عَرْش کے نیچے سے ان فرشتوں کا ایک گروہ اِنسانی تعداد کے برابر نکلتا ہے جنہیں دِیدارِ باری تعالیٰ کے شوق نے غم زدہ اور کَرْب میں مبتلا کر رکھا ہوتا ہے، وہ بَس ایک نَظَر دیدارِ باری تعالیٰ کے مُتَمَنِّی ہوتے ہیں مگر اَنوارِ باری تعالیٰ کی ایک ہی تَجَلّی سے جَل کر راکھ ہو جاتے ہیں جیسا کہ پروانے شمع پر جَل کر اپنی جان وار دیتے ہیں۔ پھر دوسرے دن اتنی ہی تعداد میں مزید فرشتے آتے ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی قِیامَت تک جارِی رہے گا۔ حالانکہ (یہ فرشتے انسانوں سے اس قَدْر بڑے ہیں کہ) اگر ایک فرشتہ بھی تمام آسمانوں اور زمینوں کو اپنی ایک مُٹّھی میں پکڑ لے تو یہ سب اس میں آجائیں۔
میری زِنْدَگی کی قَسَم! فرشتے مومنین کی طرح دَرَجَہ بَدَرَجَہ مَقامات طے نہیں کرتے بلکہ ہر فرشتے کا ایک مَخْصُوص مَقام ہے، وہ اس سے کسی اور مَقام کی طرف مُنْـتَقِل نہیں ہوتا۔ انہیں اس مَقام سے جو مَدَد ملتی ہے وہ تمام اِنسانوں سے زائد ہوتی ہے اور قِیامَت تک یہ سلسلہ خَتْم نہ ہو گا۔ مگر یہ فرشتے اپنے خوف کو اپنی قوّت کے اِعْتِبَار سے برداشت کر لیتے ہیں اور ذاتِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع