30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خوف کی درمیانی حَالَت یہ ہے کہ وہ دِماغ کی طرف جا کر اس کے قریب ہو جائے اور عَقْل مندوں کے لیے عَقْل کی گانٹھ کھول دے کہ جس کے کھلنے سے طبیعتیں مُضْطَرِب ہو جائیں ، پھر اس اِضْطِرَاب کی وجہ سے مُـخْتَلِف مِزاج بَاہَم مِل جائیں اور صَفْرَاوِی مِزاج جَل کر سَودَاوِی ہو جائے۔اس سے وَسْوَسے، ہِذیَان، حیرانگی اور آہ و زاری پیدا ہوتی ہے، کیونکہ دِماغ ٹھوس ہوتا ہے اور عَقْل کا ٹھکانا اور اس کے ساتھ مُرَکَّب و وابستہ ہوتا ہے، جب مِزاج آپَس میں مِلتے ہیں تو ان کا شعلہ بھڑک کر دِماغ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اسے جَلا کر پِگھلا دیتا ہے۔ یوں عَقْل کی وہ جگہ کھل جاتی ہے جہاں مَغْز ہوتا ہے۔ اس کے غَلَبہ کا ظُہُور قَلْبِ ظاہِر کی اس چمک میں ہوتا ہے جو طُلُوع ہونے والے سُورَج کی طرح ہوتی ہے کہ جس کا مَـحَل تو فَلَـکِ عُلْوِی ہوتا ہے مگر اس کی شُعاعیں زمین پر ہوتی ہیں۔ اسی طرح عَقْل کا مَـحَل تو مَغْز ہے مگر اس کا غَلَبہ قَلْب میں ظاہِر ہوتا ہے۔
اس مَقام پر بندہ آپے سے باہَر ہو جاتا ہے اور اس پر عِشْق کی دیوانگی غالِب آجاتی ہے۔ عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام اسے ناپسند کرتے ہیں ۔ مَقامِ مَحبَّت پر فائز بعض مُحِبِّین کی ہی اس مَقام تک رسائی ہوئی اور جب ان پر یہ کَیْفِیَّت طارِی ہوئی تو وہ اپنے وِجدان میں سرگرداں ہو گئے،ان میں سے بعض ایسے بھی تھے جن کے دِلوں پر یہ حَالَت طارِی ہونے کے بعد دُور ہوئی تو انہوں نے اپنے عِلْم کے مُطابِق یہ باتیں بتائیں۔
حضرت سیِّدُنا ابومحمد سَہْل تُسْتَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کئی کئی دنوں تک بھوک اِخْتِیار کرنے والے لوگوں سے اِرشَاد فرمایا کرتے:اپنی عَقْلوں کی حِفاظَت کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کوئی ولی ناقِصُ الْعَقْل نہیں ہوتا۔
خوف کے حَد سے تجاوُز کر جانے کی یہ تیسری حَالَت سب سے بُری ہے اور اس سے مُراد یہ ہے کہ خوف اس قَدْر زیادہ اور قَوِی ہو جائے کہ رِجا خَتْم ہو جائے، بشرطیکہ عِلْمِ اَخلاق مَوجُود نہ ہو یعنی جُود و کَرَم اور اِحسان مَوجُود نہ ہوں جو کہ کسی مَقام کو اِعْتِدال پر رکھتے ہیں اور حال کے غم کو سُکُون ملتا ہے۔ اس طرح یہ حَد سے بڑھا ہوا خوف بندے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمَت سے مَایُوسی کی طرف اور اس کی راحَت سے نااُمِّیدی کی طرف لے جاتا ہے۔ ان لوگوں کو یہ مُشاہَدہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَدْل و اِنصاف کا عَقْل سے مُوَازَنَہ کرنے پر حاصِل ہوتا ہے، ان کے اپنی حُدُود سے تَجَاوُز کرنے کی کئی وُجُوہات ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں:
٭…وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم اور اس کے مَـخْفِی لُطْف و عِنایَت کو پیشِ نَظَر نہیں رکھتے۔
٭…وہ اپنے کَسْب و عَمَل پر گہری نَظَر رکھتے ہیں۔
٭… ان پر مُشاہَدۂ اَسباب کا غَلَبہ پختہ ہو چکا ہوتا ہے۔
٭… وہ گناہوں سے بچنے اور نیکیوں کی اِسْتِطاعَت میں اپنے نُفُوس کی جانِب رُجُوع کرتے ہیں۔
٭…وہ یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ بِالْخُصُوص ان پر گناہوں کی سَزا یقینی طور پر مُتَحَقِّق ہو چکی ہے۔
٭…وہ اپنے عُلُوم و عُقُول کی بنا پر حقیقی حاکِم اور رَحْم فرمانے والے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ کے خِلاف حکْم لگا دیتے ہیں (کہ وہ ان کے گناہوں کی ضَرور بِالضَّرور سَزا دے گا اور ہر گِز انہیں مُعاف نہ فرمائے گا) ۔
٭… وہ اپنے مُعامَلے کو اپنے رب کی مَشِیَّت کے حوالے کرتے ہیں نہ اس کی قُدْرَت کے سامنے اپنا سَر جھکاتے ہیں۔
٭…وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن صِفاتِ حسنیٰ کے مَعانی و مَفاہیم سے کوئی اُمِّید قائم نہیں رکھتے جو اِن کی تمام بُری صِفات کو اپنے دامَن میں چھپائے ہوئے ہیں۔
اس طرح ان کے گناہ ظاہِر ہوکر پھر ان کے سامنے آکھڑے ہوتے ہیں تو وہ مُحسنِ اوّل عَزَّ وَجَلَّ کے کَرَم کو حِجاب میں کر دیتے ہیں اور انہیں مَعْلُوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اسی کے اِحسان کی وجہ سے گناہوں میں مبتلا ہوئے تھے (تاکہ وہ انہیں مُعاف فرما دیتا مگر انہوں نے مُعافی کے بجائے خود پر سزا کو لازِم جان لیا) اور یہ سب باتیں اس کے عِلْمِ اَزَلی میں تھیں کہ وہ حَد سے تجاوُز کر جائیں گے (اور واپَس نہ پلٹیں گے) ۔ کیونکہ جو کچھ ان پر گزر رہی ہے اسے لکھنے والا قَلَم ان کے ہاتھوں میں ہے نہ لَوح ان کی گود میں ہے کہ جس پر ان کی تقدیر تحریر ہے۔ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قُدْرَت اور غالِب جَبْرُوت نے ان کی وُہی باتیں ظاہِر کیں جو ان میں پائی جاتی تھیں۔
(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)ہم نے جو کچھ ذِکْر کیا ہے اس کی صِحَّت پر دلیل یہ ہے کہ حَد سے تَجاوُز کر جانے والے خوف کی یہ تیسری صُورَت اکثر اَہْلِ بصرہ، اَہْلِ عَبّادان اور عَسْکَرِیِّیْن میں پائی گئی،ان کا مَذْھَب قَدَرِیَّہ تھا، یہ قَول بِاللُّطْف، تَفْوِیْضِ مَشِیَّت اور تَقْدِیمِ اِسْتِطاعَت کے قائل تھے۔ ان میں شامِل طبقات یہ ہیں:
٭۔۔۔۔عَمْرو کے ماننے والے جنہیں عَمْرِیہ کہاجاتا ہے۔
٭۔۔۔۔عَبّاد کے شیعہ حضرات جنہیں عَبّادِیہ کہا جاتا ہے۔
٭۔۔۔۔ہِشام فَوطی کے ماننے والے جنہیں فَوطیہ کہا جاتا ہے۔
٭۔۔۔۔ابنِ عَطا غزالی کے ماننے والےجنہیں عَطویہ کہا جاتا ہے۔
٭۔۔۔۔تیمیہ کے ماننے والے بھی انہی لوگوں میں شامِل ہیں،انہوں نے نِصْف تقدیر کا اِنکار کیا تھا۔
٭۔۔۔۔اسی طرح مَنازِلِیہ فِرقہ ہے جو دو۲ مرتبوں میں سے ایک مرتبے کو مانتے اور کہتے کہ جس قَدْر کوئی کسی کام کی قُدْرَت رکھتا ہے وُہی اس پر لازِم ہے اور جو کام کوئی کر سکتا ہے وُہی کرے۔
ان سب لوگوں کو اَسباب پر اِعْتِماد سے پہلے اپنے کَسْب و عَمَل کی طرف دیکھنے کی آزمائش میں مبتلا کیا گیا اور یہ آزمائش ہی ان پر حِجابِ باری تعالیٰ کا سَبَب بن گئی، ان لوگوں نے اَمْن اور فریب سے راہِ فَرار اِخْتِیار کی مگر ان دونوں سے بھی بڑی آزمائشوں یعنی مَایُوسی و نااُمِّیدی کا شِکار ہو گئے اور اس طرح کبیرہ گناہوں کے خوف سے بھاگ کر ان سے بھی بڑے کبیرہ گناہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع