دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

کَیْفِیَّت پوچھی۔ انہوں نے اپنے مُشاہَدے کے مُتعلِّق بیان کیا جو کہ حقیقت میں اَہْلِ اَحْوَال صُوفیوں کی وِجدانی کَیْفِیَّت تھی ، چنانچہ اس کَیْفِیَّت کو پہچان کر امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں کچھ نہ کہا  بلکہ آپ کےنزدیک ان کی قَدْر و مَنْزِلَت پہلے

سے مزید بڑھ گئی اور آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ مزید ان کا اِکْرَام کرنے لگے اور اس بات کو ان کی فضیلت سمجھا اور اہلِ شام کو جواب میں لکھا کہ وہ ان کے مُعَامَلے سے پریشان نہ ہوں بلکہ انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔

سرکارِ مدینہ اور خوفِ الٰہی

تمام لوگوں میں سب سے زیادہ قَوِی ہستی اور ہِدَایَت یافتہ لوگوں کے ہادِی اللہ رَبُّ الْعٰلَمِیْن کے محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر نُزولِ وَحِی کے وَقْت غشی طارِی ہو جاتی، جب وَحِی کا نُزول ہوتا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بظاہِر ہوش میں نہ ہوتے، کائنات آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں سے اَوجھل ہو جاتی اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے چہرۂ اَقْدَس کو ڈھانپ لیتے۔[1]

سردیوں کے سَخْت دنوں میں بھی موتیوں کی طرح پسینہ پیشانی مُبارَک پر چمکتا دکھائی دیتا، [2] مگر ایسا صِرف خاص وَحِی کے وَقْت ہی ہوتاکہ جب وَحِی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ڈھانپ لیتی اور حضرت سَیِّدُنا رُوحُ الْقُدُس عَلَیْہِ السَّلَام ایک خاص حَالَت و کَیْفِیَّت میں حَاضِرِ خِدْمَتِ اَقْدَس ہوتےاور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قَلْبِ اَطْہَر کو خاموشی سے پیغامِ رَبِّی پہنچاتے۔

وحی کی چار۴ قسمیں

وَحِی کی چار۴ قسمیں ہیں، جن میں سے دو۲ قسمیں مُتَّصِل ہیں   اور مذکورہ صُورَت انہی دو۲ اَقسام میں سے ایک ہے، جبکہ باقی دو۲ اَقسام مُنْفَصِل (جُدا) ہیں۔ وَحِی کی ہر قِسْم عُلَمائے رَبّانِیِّیْن اور اُن اہلِ قُلُوب کو بھی پیش آتی ہے جنہیں  بارگاہِ خُداوندی میں حُضُوری کا مَرتبہ حاصِل ہے اور وہ مُشاہَدۂ  ذات میں مَصروف رہتے ہیں اور ان کی نِگاہیں تَجَلِّیَاتِ باری تعالیٰ ہی پر رہتی ہیں۔

(صَاحِبِ کِتاب اِمامِ اَجَلّ حضرت سَیِّدُنا شیخ ابُو طالِب مکّی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں)اس بات کی وَضَاحَت طویل ہو جائے گی۔(بَس اتنا جان لیجئے کہ) عِلْمِ یقین کی مَعْرِفَت اسے ہی نصیب ہوتی ہے جو راہِ طریقت پر چلنے والا ہو اور مُشاہَدۂ حَق کی دولت سے بھی وُہی فیض یاب ہوتا ہے جو حقیقت کے جام کی لذّت چکھنے والا ہو، جو شخص  مَحْض اس کی تصدیق کرے اور اس کے سامنے سر جھکا دے تو وہ بھی کچھ حصّہ پا ہی لیتا ہے۔ البتہ! یہ بات مُقرَّبین میں سے صِرف تین۳اہلِ مَقامات میں ہی پائی جاتی ہے یعنی مَقامِ مَعْرِفَت ، مَقامِ مَحبَّت اور مَقامِ خوف۔

وَحِی کی مذکورہ چار۴ اَقسام کے بعد مزید اس کی 10 اَقسام ہیں جو ان تین۳ مَقامات کے حَامِلین کے ساتھ خاص ہیں اور وہ ان سے اپنا حصّہ پاتے ہیں۔  یعنی مُشاہَد۱ہ، وِجدا۲ن، حال۳، خَوَا۴طر، مَقام۵ ، اِراد۶ہ اور مُوَاصلت۷ وَحِی کی اَقسام ہیں۔ البتہ! وَحِی کی دو۲ اَقسام ایسی ہیں جو اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے ساتھ خاص ہیں اور دوسروں کی ان تک رَسائی نہیں۔ ان میں سے ایک یہ کہ فرشتے کا اپنی اَصْلی صُورَت میں ظاہِر ہونا اور دوسری یہ کہ کلامِ باری تعالیٰ کو اس کی جُملہ صِفات کے ساتھ سننا۔ جیسا کہ مَرْوِی ہے کہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنا جبرائیل امین عَلَیْہِ السَّلَام  کو ان کی اَصْلی صُورَت میں وادی اَبْطَح میں دیکھا تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غشی طاری ہو گئی۔ [3]

اسی طرح حضرت سَیِّدُنا حُمران بِن اَعْیُن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سورہ حاقہ کی آیَتِ مُبارَکہ تِلاوَت فرمائی تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر غشی طارِی ہو گئی۔[4]جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

وَّ خَرَّ مُوْسٰى صَعِقًاۚ- (پ ۹، الاعراف:۱۴۳)                               ترجمۂ کنز الایمان:اورموسیٰ گرا بے ہوش۔

(7 ) خوف کا نفس پر اثرانداز ہونا

بعض اَوقات خوف دل سے نَفْس کی جانِب جاتا ہے تو شہوات کو جَلا کر عادتیں مِٹا دیتا ہے،طبیعت کو ٹھنڈا کر کے نفسانی خواہش کے شعلوں کو بجھا دیتا ہے۔ اَہْلِ خوف کے نزدیک یہ بھی خوف کی ایک اعلیٰ صُورَت ہے۔ یہ لوگ سب سے اَفضل خوف رکھنے والے اور سب سے بُلَند تر مَقام کے حامِل ہوتے ہیں۔ یہ خوف اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام ، صِدِّیْقِین اور شُہَدَائے عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کا ہے۔ اس سے بڑھ کر خوف کی ایسی کوئی صُورَت نہیں جس پر خائِف رَشْک کرے یا کوئی عارِف اس پر خوش ہو۔

خوف کا حد سے تجاوُز کر جانا

اگر خوف ان اَوصَاف سے تجاوُز کر جائے تو اپنی حَد سے نِکل جاتا ہے اور اپنی مِقْدَار سے بھی بڑھ جاتا ہے۔ کیونکہ جب اس نے شہوات کو جَلا ڈالا اور خواہشات کو مِٹا ڈالا تو کوئی شہوت باقی رہی نہ کوئی خواہش۔

اگر بندہ خوف کی حَد سے تجاوُز کرنے سے مَحْفُوظ نہ رہ سکے تو خوف اسے تین۳ میں سے کسی ایک بات کی طرف لے جاتا ہے:

پہلی اور سب سے بہتر حالت

 ان میں سب سے بہتر حَالَت یہ ہے کہ وہ نَفْس میں سَرایَت کر کے اسے خَاکِسْتَر کر دے، جس کی وجہ سے بندے کی موت واقِع ہو جائے تو گویا یہ اس کے لیے مَرتَبۂ شَہادَت ہے، مگر عُلَمائے خائفین اور اَرْبابِ عُلُوم و مُشاہَدات کے نزدیک یہ بات اَچھّی نہیں۔ البتہ! کسی عالِم کا قول ہے کہ شُہَدَائے بَدْر کا اَجَر و ثواب وَجد کی وجہ سے مرنے والے شخص سے زیادہ عظیم نہ ہو گا ۔مگر یہ اَوصَاف کمزور مُریدِین کے ہیں اس لیے کہ اہلِ یقین عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام کے لیے یقین کی ہر شَہادَت پر ایک شہید کا اَجَر ہے۔

دوسری اور درمیانی حالت

 



[1]………مسلم ،  كتاب الفضائل ،  باب عرق النبى فى البرد وحين ياتيه الوحی ،  ص۱۲۷۳ ،  حديث:  ۲۳۳۴ ،  مختصراً

[2]………مسلم ،  كتاب التوبة ،  باب فى حديث الافك وقبول توبة القاذف ،  ص۱۴۹۱ ،  حديث:  ۲۷۷۰

[3]………مسند احمد ،  مسند عبد اللہ بن العباس ، ۱/ ۶۹۱ ، حدیث:  ۲۹۶۷

[4]………الزهدللوکیع ،  باب فى البكاء ،  ص۲۵۳ ، حديث:  ۲۸ ، فیه ذکر آية من سورة المزمل

الكامل فی ضعفاء الرجال ،  ۳/ ۳۶۷ ، الرقم:  ۱۷۹ / ۵۴۸:  حمران بن اعین کوفی ، فیه ذکر آية من سورة المزمل

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن