30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جن چند لوگوں نے ان راہوں پر چلنا چاہا تو مَحْض ان کی مَعْرِفَت حاصِل کرنے اور ان کی دُشْوَاریاں جاننے کے لیے انہوں نے ایسا کیا اور بعض نے ان راستوں سے بھٹکنے اور آہ و زاری میں مبتلا ہونے کے اَسباب جاننا چاہے۔ البتہ! عام لوگوں کی نَظَر میں یہ راہیں بَہُت مَشْہُور، عجیب تَر اور ہولناک ہیں۔
خوف کے سات۷ مقام
خوف کے سات۷ مَقامات ہیں جن پر وہ دل سے نکل کر اَثَر انداز ہوتا ہے۔ لہٰذا خوف دل سے نکل کر جس بھی مَقام کی طرف جاتا ہے اس شخص کو ہلاک کر دیتا ہے سوائے ان لوگوں کے جنہیں وہ مستثنیٰ کر دے وہ اس سے مَحْفُوظ رہتے ہیں۔ چنانچہ یہ سات۷مَقامات دَرْج ذیل ہیں:
(1 ) خوف کا پتہ پر اثرانداز ہونا
کبھی خوف دل سے پِتّہ کی طرف جاتا ہے، یہ جِلْد کا سب سے باریک حصّہ ہےجو اندونی جِسْم میں پایا جاتا ہے، خوف اسے جلا کر خَاکِسْتَر کر دیتاہے، جس کے نتیجے میں بندہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی موت غشی، چیخ و پُکار اور ظُہُورِ ذات کے سَبَب ہوتی ہے، یہ ضعیف عِبَادَت گزار ہوتے ہیں۔
(2 ) خوف کا دماغ پر اثرانداز ہونا
بعض اَوقات خوف دِل سے دِماغ کی طرف جاتا ہے تو عَقْل کو جَلا کر راکھ کر دیتا ہے، پھر بندہ حیران و پریشان رہ جاتا ہے، اس کا حال رُخْصَت ہو جاتا ہے اور مَقام بھی کم ہو جاتا ہے۔
(3 ) خوف کا پھیپھڑے پر اثرانداز ہونا
بعض اَوقات خوف پھیپھڑے میں سَرایَت کرتا ہے تو اس میں سُوراخ کر دیتا ہے، جس سے بھوک پیاس خَتْم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ جِسْم سُوکھ جاتا ہے اور خون خشک ہو جاتا ہے۔ یہ حَالَت فاقہ کشوں، بستروں سے بے نیاز اور خوف سے زَرْدِی مائل ہو جانے والے لوگوں پر طارِی ہوتی ہے۔
(4 ) خوف کا جگر پر اثرانداز ہونا
بعض اَوقات خوف جِگَر پر اَثَر انداز ہوتا ہے تو رنگ مُـتَـغَیَّر ہو جاتا ہے اور بندہ دائمی حُزن و مَلال کا شِکار ہو جاتا ہے، اس کی فِکْریں طویل ہو جاتی ہیں اور نیند اُچاٹ ہو جاتی ہے۔اس مَقام پر نیند بالکل نہیں آتی اور بندہ ہر وَقْت بیدار رہتا ہے، یہ سب سے اَفضل مَقام ہے۔اس خوف میں عِلْم اور مُشاہَدہ حاصِل ہوتا ہے اور یہ خوف عامِلین یعنی عِبَادَت گزاروں کا ہے۔
(5 ) خوف کا شانے کے گوشت پر اثرانداز ہونا
بعض اَوقات خوف فَرائِص [1]پر اَثَر انداز ہوتا ہے، فَرِیْصَہ شانے کے گوشت کو کہتے ہیں، اس کا ذِکْر حدیث پاک میں بھی ملتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو گوشت میں فَرِیْصَتَان یعنی شانے کا گوشت پسند تھا۔ گوشت کا یہ حصّہ بڑا نرم اور لذیذ ہوتا ہے۔ اس خوف سے اِضْطِراب و اِرْتِعاش اور بے چینی پر مَبْنِی حَرکات پیدا ہوتی ہیں۔
(6 ) خوف کا عقل پر اثرانداز ہونا
بعض اَوقات خوف دل پر ظاہِر ہوتا ہے تو عَقْل پر چھا جاتا ہے اور قُدْرَت کے غَلَبہ کی وجہ سے اس کا غَلَبہ مِٹا دیتا ہے، جیسا کہ سُورَج کے ظُہُور کے وَقْت چاند کی روشنی خَتْم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب خَزائنِ مَلکوت کے راز بندے پر ظاہِر ہوتے ہیں تو عَقْل ان کی وجہ سے کمزور ہو جاتی ہے اور اس کے ضُعْف کی وجہ سے جِسْم مُضْطَرِب رہتا ہے، جس کی بنا پر بندے کو کسی پَل قرار مُمکِن نہیں رہتا۔ اس لیے کہ اِنسانی جِسْم کے اَعْضَا اگرچہ حِکْمَت و پختگی کے لِـحَاظ سے الگ ہیں مگر یہ سب ایک جِسْم کی طرح ہیں جنہیں اِظْہَارِ مَشِیَّت کے ذریعے قُدْرَت جَمْع رکھتی ہے۔ اَعْضَا کی نچلی سَاخْت چونکہ اُوپَر والی سَاخْت سے مِلی ہوتی ہے،لہٰذا جب اُوپَر والے حصّے میں اِضْطِرَاب پیدا ہوتا ہے تو وہ نچلی جانِب بھی جاتا ہے،جیسا کہ دوا یا بیماری جب کسی ایک عُضْو تک پہنچتی ہے تو اس کا اَثَر مکمل جِسْم پر ہوتا ہے۔ اَہْلِ خوف کا یہ گروہ اَفضل گروہ کے مُشَابہ اور وَصْفِ عِلْم میں داخِل ہے۔
یہ طریق اکابِر عُلَمائے کِرام اور صَاحِبِ فَضْل اہلِ قُلُوب کا ہے۔ ایسے لوگ تابعینِ عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام میں بَکَثْرَت تھے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا رَبِیع بن خَیْثَم، حضرت سَیِّدُنا اُوَیس قرنی اور حضرت سَیِّدُنا زُرَارہ بِن اَوفیٰ رَحِمَہُمُ اللہ ُ تَعَالٰیاور ان جیسے دیگر بُلَند پایہ بُزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین اسی طبقے سے تعلّق رکھتے ہیں۔اس طریقے پر امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اور حضرت سَیِّدُنا عبداللہبن مَسْعُود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جیسے جَلِیْلُ الْقَدْر صحابَۂ کِرام نے بھی کوئی اِعْتِراض نہ کیا۔
امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عُمَر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ پر بعض اَوقات خوفِ الٰہی کے سَبَب ایسی غشی طارِی ہوتی کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ اُونْٹ کی مِثل مُضْطَرِب ہو جاتے اور قِیام تک نہ کر سکتے۔
یہی حَالَت حضرت سَیِّدُنا سعید بن جُذَیْم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی بھی تھی۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا شُمار زاہِد صحابَۂ کِرام میں ہوتا ہے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ لشکروں کے امیر تھے، آپ کو امیر المومنین حضرت سَیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے مُلکِ شام کا حاکم بنا کر بھیجاتھا۔ جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کے حَد دَرَجَہ زُہْد اور فاقہ کشی کی شِدّت کے مُتَعَلِّق مَعْلُوم ہوتا تو آپ ناراض ہوتے اور بسا اَوقات 100 اور بعض اَوقات 400 دینار انہیں بھیجتے تاکہ وہ انہیں اپنے اہل و عَیال پر خرچ کریں مگر وہ ان دیناروں کو مجاہدین پر خرچ کر دیتے۔ چنانچہ اہلِ شام نے جب آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو ان کے مُتَعَلِّق یہ سب باتیں ایک مکتوب میں لکھیں اور بتایا کہ دورانِ محفل ان پر غشی طارِی ہو جاتی ہے، لوگوں کو خَدْشَہ ہےکہ ان کی عَقْل میں کوئی مسئلہ ہے۔ اہلِ شام چونکہ ان کی حقیقت کو نہ سمجھ سکےتھے، اس لیے امیر المومنین رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی جب ان سے مُلاقات ہوئی تو آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے (تحقیقِ حال کے لیے)ان سے اَصْل
[1]……… کندھے اور سینے کے درمیان مَوجُود گوشت کا وہ حِصّہ جو خوف کے وَقْت حَرَکَت کرنے لگتا ہے۔ فَرَائِص جَمْع ہے اور اس کا واحِد فَرِیْصَہ ہے ، یہ گوشت دونوں طرف ہوتا ہے اس لیے انہیں فَرِیْصَتَان کہتے ہیں ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع