دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Qoot ul Quloob Jild 2 | قوت القلوب جلد دوم

book_icon
قوت القلوب جلد دوم

اپنے اَخلاقِ عَالِیہ کے ساتھ بیان فرمایا اور یوں اِرشَاد فرمایا:

وَ اِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِیْمٍ(۴)(پ ۲۹، القلم:۴)

ترجمۂ کنز الایمان:اور بیشک تمہاری خُوبُو بڑی شان کی ہے۔

آیتِ مُبارَکہ کی تفسیر

ایک قول کے مُطابِق یہاں اَخلاقِ رَبُوبِیَّت مُراد ہیں۔

اس آیتِ مُبارَکہ کو یوں بھی پڑھا گیا ہے: (لَعَلٰی خُلُقِ الْعَظِیْم)یعنی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَخلاق اَللہُ الْعَظیم عَزَّ  وَجَلَّ کے خُلق پر ہیں۔

٭…آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قوّتِ ضَبْط و صَبْر اور فضیلتِ عَقْل کے باعِث کسی کے حال اور نصیب کو ظاہِرنہیں فرماتے ۔

٭…آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حقیقتِ عَدْل کی بنا پر لوگوں کے حصّے میں کوئی کمی نہیں فرماتے ۔

٭…آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے زُہْد کی حقیقت اور خُشوع و خُضوع کی اِنتِہا کی وجہ سے کسی چیز کا دعویٰ نہ کیا۔

٭…آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر عِلْم و حِکْمَت کے راسِخ ہونے اور قوّت کے مَضْبُوط ہونے کی وجہ سے کوئی چیز غالِب نہیں آسکتی۔

اَلْغَرَضْ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے طریقے اور سنّت پر اَہْلِ اِبْتِلا میں سے ان عارِفین کے اَوصَاف بیان کئے گئے ہیں جو دَرَجَہ بَدَرَجہ اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے مِثل ہیں۔ 

عام لوگوں کو مخاطب کرنے کا حکم

کسی عارِف کا قول ہے کہ جس نے لوگوں سے اپنے عِلْم کے مُطابِق کچھ طَلَب کیا اور اپنی عَقْل کے مُطابِق کلام کیا تو اس نے ان سے مُتَعَلِّق اپنے حُقُوق کو پورا کیا نہ ان  سے مُتَعَلِّق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حُقُوق کو پورا کیا۔

ایک عالِم فرماتے ہیں: جو شخص لوگوں سے ہر وہ بات بیان کر دے جسے وہ جانتا ہے اور جو اس کا نصیب ہے وہ دوسروں پر ظاہِر کر دے تو وہ شخص اِمام نہیں ہو سکتا ۔

حضرت سَیِّدُنا یحییٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:کسی کو اس کے طریقے سے ہٹاؤ نہ اس سے اس کے عِلْم سے بڑھ کر کوئی بات کرو، ورنہ وہ تمہیں تھکا دے گا، بلکہ اسے اسی کی نہر سے گھونٹ گھونٹ کر کے پلاؤ اور اسی کے پیالے سے اسے سیراب کرو۔

وحشت یا ہیبت؟

ایک عالِم سے عارِف کے مُتعلّق پوچھا گیا: کیا وہ مَخلوق سے وَحْشَت محسوس کرتا ہے؟ فرمایا: وہ وَحْشَت محسوس نہیں کرتا بلکہ بسا اَوقَات وہ انہیں بَہُت زیادہ ناپسند کرتا ہے۔عَرْض کی گئی: تو کیا مخلوق اس سے وَحْشَت زدہ ہوتی ہے؟ فرمایا: عارِف سے کوئی وَحْشَت محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کی ہَیْبَت ان پر طارِی رہتی ہے۔

علم کی حقیقت

خوف عِلْم کی حقیقت کا نام ہے اور اس کی دلیل حضرت سَیِّدُنا اُبَیّ بِن کَعب رَحْمَۃُ اللہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا اس آیتِ مُبارَکہ (فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ(۸۰) (پ ۱۶، الکھف:۸۰)  ترجمۂ کنز الایمان: تو ہمیں ڈر ہوا کہ وہ ان کو سرکشی اور کُفْر پر چڑھاوے۔ )کو اس طرح پڑھنا ہے: (فَخَافَ رَبُّکَ اَنْ یُّرْھِقَھُمَا) ۔ چنانچہ یحییٰ بن زِیاد نحوی کا قول ہے کہ اس آیتِ مُبارَکہ میں(فَخَافَ رَبُّکَ) سے مُراد (فَعَلِمَ رَبُّکَ) ہے یعنی آپ کے رب نے جان لیا ۔

 اس بنا پر ایک قول کے مُطابِق خوف عِلْم کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔    وَاللهُ اَعْلَم

 

خوف كے مفہوم کا ایک اور بیان

جب دِل بے خوف نہ ہو تو؟

خوف اَسمائے مَعانی میں سے ہے، اس کا پایا جانا اس کی ضِد کے نہ پائے جانے کا باعِث ہے، لہٰذا جب دِل اَحْوَالِ دنیا اور اُمُورِ آخِرَت کی جُملہ صُورَتوں سے بے خوف نہ ہو تو وہ ٭ اَحْکامِ دنیا کے تَصَرُّفات میں تمام اَحْوَال ٭ قُلُوب و نُفُوس کی حَرَکات کے بَدَل جانے ٭شہوات میں مبتلا ہونے اور ٭طبعی عادات کے اُبھارنے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خُفْیَہ تدبیر سے بھی بے خوف نہ ہو گا ۔ اسے عُرف و عادَت سے سُکُون حاصِل ہو گا نہ کسی شے میں اپنی سلامتی و برأت کا قطعی یقین ہو گا۔

ان سب باتوں کو خوف کہتے ہیں اور جب بندہ ان میں سے کسی بھی بات سے بے خوف نہ ہو گا تو اسے خائِف کہا جائے گا۔ کلامِ عرب میں اس کا اِسْتِعمال عام ہے۔ چنانچہ جب کوئی کسی شے سے بے خوف نہ ہو یعنی اسے اَمْن حاصِل نہ ہو تو وہ کہتا ہے کہ مجھے  فلاں شے کا خوف ہے ۔ یا پھر جب کوئی یقینی بات مَعْلُوم ہو جائے تو کہتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ یوں ہو جائے گا۔

عارِف ہر حال میں خوف کا شکار رہتا ہے

کسی عالِم  سے عَرْض کی گئی کہ کیا وجہ ہے کہ عارِف ہر حال میں خوف کا شِکار رہتا ہے؟ تو انہوں نے اِرشَاد فرمایا:اس لیے کہ وہ بخوبی جانتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمام اَحْوَال میں بندے کی گِرِفْت پر قادِر ہے۔ اس لیے وہ کسی حال میں اَمْن  پاتا ہے نہ کسی حال میں سُکُون۔

ہلاکت خیز گھاٹیوں پر مشتمل پر خطر راستے

اہلِ خوف کے لیے قَلَق (رنج، فِکْر)میں مبتلا کرنے والے خوف، گھبراہٹ آمیز ڈر اور پُر سَوز خَشِیَّت ایسے راستے اور طریقے ہیں جو ان عام اور مَعْرُوف طُرُق سے مُتَجَاوِز ہیں جو صَاحِبِ فَضْل اَئِمۂ کِرام کی گزرگاہیں ہیں۔ان راستوں میں ایسی ہَلاکَت خیز گھاٹیاں ہیں جن سے جَیَّد عُلَمائے کِرام اور صُوفِیائے عُظَّام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام بھی دُور ہی رہے۔ البتہ ! کوئی کوئی زاہِد و عابِد ہی اس راستے پر چلا اور کسی کسی عارِف نے ہی اس پر چلنا  چاہا۔ یہ پُر خَطَر راستے ایسے ہیں جن کی عُلَمائے کِرام رَحِمَہُمُ اللہ ُ السَّلَام سے کوئی فضیلت مَرْوِی ہے نہ عارِفین رَحِمَہُمُ اللہ الْمُبِین کے ہاں یہ قابِلِ رَشْک ہیں۔ اس لیے کہ دُشْوَار گُزار راستے بَسا اَوقات انسان کو دُرُسْت راہ سے ہٹا کر ہَلاکَت خیز وادیوں کی طرف لے جاتے ہیں۔

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن